أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور آپ خواہ کتنا ہی چاہیں اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ خواہ کتنا ہی چاہیں اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ اور آپ ان سے اس (تبلیغ دین) پر کسی اجر کا سوال نہیں کرتے یہ (قرآن) تو صرف تمام جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔ (یوسف : ١٠٣، ١٠٤)

اللہ تعالیٰ کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا :

امام عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں :

قریش اور یہودیوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کا قصہ دریافت کیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت تفصیل سے یہ واقعات بیان فرمائے، آپ کو امید تھی کہ سورة یوسف کو سن کر یہ لوگ ایمان لے آئیں گے لیکن آپ کی یہ امید پوری نہ ہوئی اور آپ بہت رنجیدہ اور غمگین ہوئے تو اللہ نے آپ کا رنج زائل کرنے اور آپ کو تسلی دینے کے لیے یہ آیات نازل فرمائیں۔ (ازاد المسیر ج ٤، ص ٢٩٣، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

اس دوسری آیت کا معنی یہ ہے کہ قرآن مجید میں توحید، رسالت، مبداء اور معاد کے دلائل ہیں اور نیک کاموں کی نصیحت ہے قرآن مجید رشد و ہدایت کے مضامین پر مشتمل ہے، آپ کا منصب دولت کمانا نہیں ہے اور نہ آپ نے اس کی کبھی خواہش کی ہے، آپ کی کوشش تو صرف یہ ہے کہ لوگ ہدایت پر آجائیں اور وہ اخروی فلاح کو حاصل کرلیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 103