أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا يُؤۡمِنُ اَكۡثَرُهُمۡ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمۡ مُّشۡرِكُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ پر ایمان لانے کے باوجود بھی شرک ہی کرتے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ پر ایمان لانے کے باوجود بھی شرک ہی کرتے ہیں۔ (یوسف : ١٠٦)

ایمان لانے کے باوجود شرک کرنے والوں کے مصادیق :

حسن، مجاہد، عامر اور شعبی نے کہا : یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جو یہ مانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کا اور تمام کائنات کا خالق ہے، اس کے باوجود وہ بتوں کی پرستش کرتے تھے۔ عکرمہ نے کہا : انہی لوگوں کے متعلق یہ آیات نازل ہوئی ہیں :

ولئن سالتھم من خلقھم لیقولن اللہ فانی یوفکون۔ (الزخرف : ٨٧) اگر آپ سن سے یہ سوال کریں کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے، پھر وہ کہاں بھٹک رہے ہیں۔

ولئن سالتھم من خلق السموات والارض وسخر الشمس والقمر لیقولن اللہ فانی یوفکون۔ (العنکبوت : ٦١) اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمانوں اور زمینوں کو کس نے پیدا کیا ہے اور سورج اور چاند کو کس نے مسخر کیا ہے توہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے، پھر وہ کہاں بھٹک رہے ہیں۔

حسن نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں، وہ اللہ پر ایمان بھی لاتے ہیں اور شرک بھی کرتے ہیں، عیسائی حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا تو کہتے ہیں اور یہود عزیر کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں اور یہ شرک ہے۔

ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت منافقین کے متعلق نازل ہوئی ہے جو زبان سے ایمان لاتے تھے اور ان کے دل میں کفر تھا۔ 

حسن سے یہ روایت بھی ہے کہ یہ آیت ان مشرکین کے متعلق نازل ہوئی ہے جو کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں اور انہیں نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تو اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں اور جب اللہ ان کو اس مصیبت سے نجات دے دیتا ہے تو وہ پھر شرک کرنے لگتے ہیں :

قل من ینجیکم من ظلمت البر والبحر تدعونہ تضرعا و خفیہ لئن انجانا من ھذہ لنکونن من الشاکرین۔ قل اللہ ینجیکم منھا ومن کل کرب ثم انتم تشرکون۔ (الانعام : ٦٣، ٦٤) آپ پوچھیے کہ تمہیں سمندروں اور خشکی کی تاریکیوں سے کون نجات دیتا ہے ؟ جس کو تم عاجزی سے اور چپکے چپکے پکارتے ہو، اگر وہ ہمیں اس مصیبت سے نجات دے دے تو ہم ضرور شکر گزاروں میں سے ہوجائیں گے، آپ کہیے کہ تمہیں اس مصیبت سے اور ہر سختی سے اللہ ہی نجات دیتا ہے پھر (بھی) تم شرک کرتے ہو۔

اور بعض لوگ وہ ہیں جو اللہ پر ایمان رکھنے کے باوجود نعمتوں کا اسناد اسباب کی طرف کرتے ہیں، مسبب الاسباب کی طرف نہیں کرتے مثلا کسی کو بیماری سے شفا ہوجائے تو کہتا ہے فلاں دوا سے یا فلاں ڈاکٹر کے علاج سے وہ شفا یاب ہوگیا ہے یہ نہیں کہتا کہ اسے اللہ نے شفا دی ہے۔ 

اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ مصائب اور شدائد میں بھی اللہ کی طرف رجوع نہیں کرتے، وہ مشائخ اور اولیاء اللہ کے مزاروں پر جاکر ان کو پکارتے ہیں اور ان سے مدد طلب کرتے ہیں اور ان کی نذر اور ان کی منتیں مانتے ہیں۔ ہرچند کہ اولیاء اللہ سے مدد طلب کرنا اس عقیدہ سے جائز ہے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی طاقت سے اور اس کے اذن سے تصرف کرتے ہیں اور یہ شرک نہیں ہے لیکن افضل اور اولی یہی ہے کہ صرف اللہ سے مدد طلب کی جائے اور بزرگوں کے وسیلہ سے اپنی حاجت برآری کے لیے دعا کی جائے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابن عباس کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :

اذا سئلت فاسئل اللہ واذا استعنت فاستعن باللہ۔ جب تم سے سوال کرو تو اللہ سے سوال کرو اور جب تم مدد طلب کرو تو اللہ سے مدد طلب کرو۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٥١٦، مسند احمد ج ١ ص ٢٩٣، ٣٠٣، ٣٠٧۔ المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٢٩٨٨، ١٢٩٨٩، عمل الیوم واللیلۃ لابن السنی رقم الحدیث : ٤٢٥، شعب الایمان رقم الحدیث : ١٨٤، العقیلی ج ٣ ص ٥٣، الآجری، رقم الحدیث : ١٩٨، المستدرک ج ٣، ص ٥٤١، حلیۃ الاولیاء ج ١ ص ٣١٤، الآداب للبیقہی رقم الحدیث : ١٠٧٣)

اور نذر عبادت مقصودہ ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا کسی مخلوق کی نذر اور منت مانناجائز نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 12 يوسف آیت نمبر 106