وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِۚ-فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُؕ-اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ(۹۳)

اور بےشک ہم نے بنی اسرائیل کو عزت کی جگہ دی (ف۱۹۶) اور انہیں ستھری روزی عطا کی تو اختلاف میں نہ پڑے (ف۱۹۷) مگر علم آنے کے بعد (ف۱۹۸) بےشک تمہارا رب قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں جھگڑتے تھے (ف۱۹۹)

(ف196)

عزت کی جگہ سے یا تو مُلکِ مِصر اور فرعون و فرعونیوں کے اَملاک مراد ہیں یا سر زمینِ شام و قدس و اُردن جو نہایت سرسبز و شاداب اور زرخیز بلاد ہیں ۔

(ف197)

بنی اسرائیل جن کے ساتھ یہ واقعات ہو چکے ۔

(ف198)

علم سے مراد یہاں یا تو توریت ہے جس کے معنی میں یہود باہم اختلاف کرتے تھے یا سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری ہے کہ اس سے پہلے تو یہود سب آپ کے مُقِر اور آپ کی نبوّت پر متفق تھے اور توریت میں جو آپ کے صفات مذکور تھے ان کو مانتے تھے لیکن تشریف آوری کے بعد اختلاف کرنے لگے ، کچھ ایمان لے آئے اور کچھ لوگوں نے حسد و عداوت سے کُفر کیا ۔ ایک قول یہ ہے کہ علم سے قرآن مراد ہے ۔

(ف199)

اس طرح کہ اے سیدِ انبیاء آ پ پر ایمان لانے والوں کو جنّت میں داخل فرمائے گا اور آپ کے انکار کرنے والوں کو جہنّم میں عذاب فرمائے گا ۔

فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْــٴَـلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَۚ-لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ(۹۴)

اور اے سننے والے اگر تجھے کچھ شبہ ہو اس میں جو ہم نے تیری طرف اتارا (ف۲۰۰) تو ان سے پوچھ دیکھ جو تجھ سے پہلے کتاب پڑھنے والے ہیں (ف۲۰۱) بےشک تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے حق آیا (ف۲۰۲) تو تو ہر گز شک والوں میں نہ ہو

(ف200)

بواسطہ اپنے رسول محمّدِ مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ۔

(ف201)

یعنی عُلَمائے اہلِ کتاب مثل حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے اصحاب کے تاکہ وہ تجھ کو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوّت کا اطمینان دلائیں اور آپ کی نعت و صفت جو توریت میں مذکور ہے وہ سنا کر شک رفع کریں ۔

فائدہ : شک انسان کے نزدیک کسی امر میں دونوں طرفوں کا برابر ہونا ہے خواہ وہ اس طرح ہو کہ دونوں جانب برابر قرینے پائے جائیں خواہ اس طرح کہ کسی طرف بھی کوئی قرینہ نہ ہو ۔ محققین کے نزدیک شک اقسامِ جہل سے ہے اور جہل و شک میں عام و خاص مطلق کی نسبت ہے کہ ہر ایک شک جہل ہے اور ہر جہل شک نہیں ۔

(ف202)

جو براہینِ لائحہ و آیاتِ واضحہ سے اتنا روشن ہے کہ اس میں شک کی مجال نہیں ۔ (خازن)

وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ(۹۵)

اور ہرگز ان میں نہ ہونا جنہوں نے اللہ کی آیتیں جھٹلائیں کہ تو خسارے والوں میں ہوجائے گا

اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ(۹۶)

بےشک وہ جن پر تیرے رب کی بات ٹھیک پڑچکی ہے (ف۲۰۳) ایمان نہ لائیں گے

(ف203)

یعنی وہ قول ان پر ثابت ہو چکا جو لوحِ محفوظ میں لکھ دیا گیا ہے اور جس کی ملائکہ نے خبر دی ہے کہ یہ لوگ کافِر مریں گے وہ ۔

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ(۹۷)

اگرچہ سب نشانیاں ان کے پاس آئیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں (ف۲۰۴)

(ف204)

اور اس وقت کا ایمان نافع نہیں ۔

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی (ف۲۰۵) کہ ایمان لاتی (ف۲۰۶) تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا (ف۲۰۷)

(ف205)

ان بستیوں میں سے جن کو ہم نے ہلاک کیا ۔

(ف206)

اور اخلاص کے ساتھ توبہ کرتی عذاب نازِل ہونے سے پہلے ۔ (مدارک)

(ف207)

قومِ یونس کا واقعہ یہ ہے کہ نینوٰی علاقۂ موصل میں یہ لوگ رہتے تھے اور کُفر و شرک میں مبتلا تھے ۔ اللہ تعالٰی نے حضرت یونس علیہ الصلٰوۃ والسلام کو ان کی طرف بھیجا ، آپ نے بُت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا ان کو حکم دیا ان لوگوں نے انکار کیا ، حضرت یونس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تکذیب کی ، آپ نے انہیں بحکمِ الٰہی نُزولِ عذاب کی خبر دی ۔ ان لوگوں نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس علیہ الصلٰوۃ و السلام نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے ، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیئے کہ عذاب آئے گا ۔ شب میں حضرت یونس علیہ السلام وہاں سے تشریف لے گئے صبح کو آثارِ عذاب نمودار ہو گئے ، آسمان پر سیاہ ہیبت ناک اَبر آیا اور دھواں کثیر جمع ہوا تمام شہر پر چھا گیا یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوا کہ عذاب آنے والا ہے تو انہوں نے حضرت یونس علیہ السلام کی جستجو کی اور آپ کو نہ پایا اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ مع اپنی عورتوں ، بچوں اور جانوروں کے جنگل کو نکل گئے ، موٹے کپڑے پہنے اور توبہ و اسلام کا اظہار کیا ، شوہر سے بی بی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری شروع کی اور کہا کہ جو یونس علیہ السلام لائے اس پر ہم ایمان لائے اور توبۂ صادقہ کی ، جو مظالم ان سے ہوئے تھے ان کو دفع کیا ، پرائے مال واپس کئے حتی کہ اگر ایک پتھر دوسرے کا کسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر پتھر نکال دیا اور واپس کر دیا اور اللہ تعالٰی سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں ، پروردِگار ِعالم نے ان پر رحم کیا ، دعا قبول فرمائی ، عذاب اٹھا دیا گیا ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب نُزولِ عذاب کے بعد فرعون کا ایمان اور اس کی توبہ قبول نہ ہوئی تو قومِ یونس کی توبہ قبول فرمانے اور عذاب اٹھا دینے میں کیا حکمت ہے ؟ عُلَماء نے اس کے کئی جواب دیئے ہیں ایک تو یہ کرمِ خاص تھا قومِ حضرت یونس کے ساتھ ۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ فرعون عذاب میں مبتلا ہونے کے بعد ایمان لایا جب امیدِ زندگانی ہی باقی نہ رہی اور قومِ یونس علیہ السلام سے جب عذاب قریب ہوا تو وہ اس میں مبتلا ہونے سے پہلے ایمان لے آئے اور اللہ قُلوب کا جاننے والا ہے ، اخلاص مندوں کے صدق و اخلاق کا اس کو علم ہے ۔

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًاؕ-اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ(۹۹)

اور اگر تمہارا رب چاہتا زمین میں جتنے ہیں سب کے سب ایمان لے آتے (ف۲۰۸) تو کیا تم لوگوں کو زبردستی کرو گے یہاں تک کہ مسلمان ہوجائیں (ف۲۰۹)

(ف208)

یعنی ایمان لانا سعادتِ ازَلی پر موقوف ہے ، ایمان وہی لائیں گے جن کے لئے توفیقِ الٰہی مُساعِد ہو ۔ اس میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسلی ہے کہ آپ چاہتے ہیں کہ سب ایمان لے آئیں اور راہِ راست اختیار کریں پھر جو ایمان سے محروم رہ جاتے ہیں ان کا آپ کو غم ہوتا ہے اس کا آپ کو غم نہ ہونا چاہیئے کیونکہ ازَل سے جو شقی ہے وہ ایمان نہ لائے گا ۔

(ف209)

اور ایمان میں زبردستی نہیں ہو سکتی کیونکہ ایمان ہوتا ہے تصدیق و اقرار سے اور جبر و اکراہ سے تصدیقِ قلبی حاصل نہیں ہوتی ۔

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ(۱۰۰)

اور کسی جان کی قدرت نہیں کہ ایمان لے آئے مگر اللہ کے حکم سے (ف۲۱۰) اور عذاب ان پر ڈالتا ہے جنہیں عقل نہیں

(ف210)

اس کی مشیّت سے ۔

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ(۱۰۱)

تم فرماؤ دیکھو (ف۲۱۱) آسمانوں اور زمین میں کیاکیا ہے (ف۲۱۲) اور آیتیں اور رسول انہیں کچھ نہیں دیتے جن کے نصیب میں ایمان نہیں

(ف211)

دل کی آنکھوں سے اور غور کرو کہ ۔

(ف212)

جو اللہ تعالٰی کی توحید پر دلالت کرتا ہے ۔

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْؕ-قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ(۱۰۲)

تو انہیں کاہے کا انتظار ہے مگر انہیں لوگوں کے سے دنوں کا جو ان سے پہلے ہو گزرے (ف۲۱۳) تم فرماؤ تو انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں (ف۲۱۴)

(ف213)

مثل نوح و عاد و ثمود وغیرہ ۔

(ف214)

تمہاری ہلاکت اور عذاب کے ۔ ربیع بن انس نے کہا کہ عذاب کا خوف دلانے کے بعد اگلی آیت میں یہ بیان فرمایا کہ جب عذاب واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالٰی رسول کو اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو نَجات عطا فرماتا ہے ۔

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَۚ-حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠(۱۰۳)

پھر ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کو نجات دیں گے بات یہی ہے ہمارے ذمہ کرم پر حق ہے مسلمانوں کو نجات دینا