کوئی گھر عورت سے خالی نہیں

میں یہ پہلے بھی بتا چکا کہ کوئی گھر عورت سے خالی نہیں،کہیں عورت بیٹی بنکے ہے،توکہیں ماں بنکے ،کہیں عورت بھن بنکے ہے تو کہیں بیوی بنکے،اللہ نے اسے اصلاح احوال کا بڑا اچھا موقع دیا، وہ باہرجا کے تبلیغ نہیں کر سکتی تو کوئی بات نہیں اسے گھر میں رہ کر ہی اس عظیم شرف کو حاصل کرلینا چاہیئے،جب کوئی گھر عورت سے خالی نہیں تو سبھی مسلمان عورتوں کو یہ عھد کر لینا چاہیئے کہ ہمیں ہمارے نبی و رسول کو خوش کرنے کے لئے یہ عزم کرلینا چاہیئے کہ ہم اپنے آپک کو دیندار بنا کر اپنے گھروالوں کی اصلاح میں لگ جائیں گے،خدا کرے کے ایسا ہو !واقعۃ ایسا ہو جائے تو باہر کے مبلغوں کی ضرورت نہ رہ جائے ہر گھر اسلامی تعلیمات کا ادارہ نظر آئے،اللہ نے عورتوں میں یہ عظیم کمال رکھا ہے،شیطان نے ورغلا کے عورتوں کا رخ بدل دیا اور انکے کمال کو عیب میں تبدیل کر دیا ،ورنہ نبی ﷺ کی نظر میں انکی قیمت مرد کے آدھے دین کی ہے،کیا عورتیں واقع میں اپنے آپ کو اس منصب پر فائز کریں گی اور دین کی وفادار مبلغہ بن کر میدان میں آئیں گی؟