أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الَّذِيۡنَ يُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِ اللّٰهِ وَلَا يَنۡقُضُوۡنَ الۡمِيۡثَاقَۙ ۞

ترجمہ:

جو لوگ اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں اور پکے عہد کو نہیں توڑتے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو لوگ اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں اور پکے عہد کو نہیں توڑتے۔ (الرعد :20) 

اس سے پہلی آیت میں فرمایا تھا وہی لوگ نصیحت قبول کرتے ہیں جو صاحبان عقل ہیں اور اس آیت میں ان کی یہ صفت بیان فرمائی ہے کہ وہ اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں اور پکے عہد کو نہیں تو ڑتے اس عہد کی تفسیر میں حسب ذیل اقوال ہیں۔

(1) اس سے مراد وہ عہد ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کی پشت سے ان تمام اولاد کو نکال کرلیا تھا اور یہ پوچھا تھا : کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو سب نے کہا کیوں نہیں۔ (الاعراف :172) 

(2) ہر انسان کی عقل میں اللہ تعالیٰ نے یہ صلاحیت رکھی ہے کہ وہ دلائل سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور انبیاء کی نبوت کو پہچان سکے۔

(3) بعض احکام عقلی دلائل سے ثابت ہیں جو قابل تنسیخ ہیں، مثلا قتل کرنا، زنا کرنا اور جھوٹ بولنا حرام ہے اور ہر وہ شخص جو اپنی عقل سے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرسکتا ہے اس کا اللہ تعالیٰ سے یہ عہد ہے کہ وہ ان احکام پر عمل کرے گا۔ 

(4) جب انسان کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوگیا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کرلیا کہ وہ اس کے تمام فرائض پر عمل کرے گا اور جن کاموں سے اس نے منع فرمایا ہے ان سے اجتناب کریگا اور جب اس نے سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کو مان لیا تو اس نے یہ التزام کرلیا اور یہ عہد کرلیا کہ وہ آپ کی اطاعت اور اتباع کرے گا۔ 

سوال نہ کرنے کا عہد : 

امام ابو داؤد اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عوف بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم سات، آٹھ یانو فرد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا کیا تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیعت نہیں کرتے، اس وقت ہم نے آپ سے نئی نئی بیعت کی تھی، ہم نے عرض کیا ہم آپ سے بیعت کرچکے ہیں، حتی کہ آپ نے تین مرتبہ فرمایا۔ ہم نے اپنے ہاتھوں کو بڑھایا اور آپ سے بیعت کرلی، ایک کہنے والے نے کہا یارسول اللہ ! ہم آپ سے بیعت کرچکے ہیں اب ہم آپ سے کس چیز پر بیعت کریں ؟ آپ نے فرمایا تم اس پر بیعت کرو کہ تم پر اللہ کی عبادت کرو گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے، اور تم پانچ وقت کی نماز پڑھو گے اور اس کے احکام سنو گے اور اطاعت کرو گے اور آپ نے چپکے سے ایک بات کہی کہ تم لوگوں سے بالکل سوال نہیں کر وگے۔ حضرت عوف بیان کرتے ہیں کہ ہمارے بعض ساتھیوں نے اس عہد پر اس پابندی سے عمل کیا کہ اگر کسی کا چابک نیچے گر جاتا تو وہ کسی سے اس چابک کو اٹھا کردینے کا بھی سوال نہیں کرتا تھا۔ (سنن ابوداؤد رقم الحدیث :1642، صحیح مسلم رقم الحدیث :1043، سنن النسائی رقم الحدیث :459، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :286) 

سوال کرنے کے جواز کی شرائط :

فقہاء اسلام کا اس پر اجماع ہے کہ بغیر ضرورت کے سوال کرنا جائز نہیں ہے اور ضرورت کا معیار یہ ہے کہ اس کے پاس اتنی مالیت نہ ہو جس سے وہ ایک دن کھانا کھا سکے اور وہ اس قدر کمزور اور بیمار ہو کہ کمانہ سکتا ہو اور جو شخص کمانے اور کسب کرنے پر قادر ہو اس کا سوال کرنا حرام ہے اور جب وہ سوال کرے تو اپنے آپ کو ذلیل نہ کرے اور گڑگڑا کر سوال نہ کرے اور مسؤل کو ایذاء نہ دے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی 261 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت قیصہ مخارق الہلالی (رض) بیان کرتے ہیں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کچھ سوال کرنے کے لیے گیا، آپ نے فرمایا رم ہمارے پاس ٹھرو حتی کہ ہمارے پاس صدقہ کا مال آجائے پھر ہم تمہارے لیے حکم دیں گے پھر آپ نے فرمایا : اے قیصہ ! سوال کرنا صرف تین شخصوں کے لیے جائز ہے۔ ایک وہ شخص جو نیک کاموں میں خرچ کرنے کے لیے کسی سے قرض لے، تو اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے حتی کہ وہ قرض ادا کردے اور پھر سوال کرنے سے رک جائے، اور دوسر وہ شخص جس پر ایسی آفت یا مصیبت آئے جس سے اس کا تمام مال ضائع ہوجائے، اس کے لیے بھی اتنا سوال کرنا جائز ہے جس سے اس کی حاجت پوری ہوجائے اور تیسرا وہ شخص جو فاقہ سے ہو اور اس کی قوم کے تین عقلمند آدمی یہ گو اہی دیں کہ یہ شخص فاقہ سے ہیں۔ (یہ شرط بطور استحباب ہے) تو اس کے لیے اتنی مقدار کا سوال کرنا جائز ہے جس سے وہ فاقہ کو دور کرسکے، ان شرائط کے بغیر جو شخص سوال کرے گا تو وہ حرام کھائے گا۔ (صحیح مسلم رقما الحدیث :1044، سنن ابوداؤد رقم الحدیث :640، سنن النسائی رقم الحدیث :2579) 

گواہوں کی شرط ان شخص کے لیے ہے جس کا مال دار ہونا مشہور ہو اور اب وہ یہ کہتا ہو کہ اس کا مال ضائع ہوچکا ہے اور لوگوں کو اس کا علم نہ ہو اور اس کی نو بت فاقہ تک پہنچ گئی ہو تو لوگوں کو یقین دلانے کے لیے کم ازکم اس کی قوم کے دو گواہوں کی یہ گواہی دینا ضروری ہے کہ وہ فاقہ سے ہے تین آدمیوں کی گواہی مستحب ہے۔

توکل کا غلط مفہوم : 

قاضی ابوبکر محمد بن عبداللہ مالکی المعروف بابن العربی المتوفی 543 ھ لکھتے ہیں : 

بندہ نے اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیے ہیں ان میں سے ایک عہد یہ ہے کہ وہ گناہوں سے باز رہے گا، اور اس کا کم ازکم درجہ یہ ہے کہ وہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہیں کرے گا اور عظیم وعدوں میں سے یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے سوال نہیں کرے گا۔ ابو حمزہ خراسانی بہت بڑے عبادت گزار تھے، انہوں نے یہ حدیث سنی کہ صحانہ کرام نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بات پر بیعت کی ہے کہ وہ کسی شخص سے سوال نہیں کریں گے، پھر اگر ان میں سے کسی کا چابک بھی گر جاتا تو وہ کسی شخص سے یہ نہیں کہتا تھا کہ یہ چابک مجھے اٹھا کردو، تو ابو حمزہ نے کہا اے میر رب ! ان لوگوں نے تیرے نبی کی زیارت کی تھی تو انہوں نے تیرے نبی سے یہ وعہد کیا تھا کہ وہ کسی سے سوال نہیں کریں گے اور میں تجھ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ میں کبھی بھی کسی سے سوال نہیں کروں گا۔ وہ حج کرنے کے لیے شام سے مکہ مکرمہ کے لیے روانہ ہوئے وہ کسی سبب سے اپنے اصحاب سے بچھڑ گئے اور وہ رات کے اندھیرے میں جارہے تھے، راستہ کنارے میں ایک کنو اں تھا، وہ اس میں گرگئے، جب وہ کنویں کی گہرائی میں پہنچے تو ان کو یہ خیال آیا کہ میں کسی کو مدد کے لیے پکاروں، شاید کوئی شخص میری پکار سن کر مجھے کنویں سے نکال دے، پھر سوچا جس ذات سے میں نے یہ عہد کیا ہے کہ میں کسی سے سوال نہیں کروں گا وہ مجھے دیکھ رہا ہے اور میرے بات سن رہا ہے، اللہ کی قسم میں کسی شخص کو نہیں پکاروں گا۔ تھوڑی دیر کے بعد لوگوں کی ایک جماعت وہاں سے گزری، جب انہوں نے راستہ کے کنارے میں ایک کھلاہوا کنو اں دیکھا تو انہوں نے کہا اس کنویں کو بند کردینا چاہیے ورنہ اس میں کوئی گرجائے گا، پھر وہ لکڑیوں کے تختے لے آئے اور ان تختوں کو کنویں کے منہ پر رکھ کر اس کو مٹی کا لیپ چڑھا کر پختہ طریقہ سے بند کر یا۔ جب ابو حمزہ نے یہ دیکھا تو دل میں کہا اب تو ہلاکت با لکل سر پر پہنچ گئی ہے اور یہ ارادہ کیا کہ ان لوگوں کو آواز دے کر اپنی طرف متوجہ کروں، ورنہ میں کبھی بھی اس کنویں سے نہیں نکل سکوں گا، پھر اس کو یہ خیال آیا کہ جس ذات سے میں نے عہد کیا تھا وہ ان تمام حالات کو دیکھ رہا ہے، پھر وہ خاموش ہوگیا اور اللہ پر توکل کر کے بیٹھ گیا اور اپنی نجات کے متعلق غور و فکر کرنے لگا پھر اچانک اس نے دیکھا کہ لوگوں نے کنویں کی چھت بنائی تھی اس سے مٹی گر رہی ہے۔ اور لکڑی کے تختے اپنی جگہ سے اٹھ آئے جارہے ہیں۔ اور اسی وقت ایک شخص کی آواز آئی اپنا ہاتھ لاؤ، انہوں نے اس شخص کو اپنا ہاتھ دیا۔ اس نے ایک ہی بار میں ان کو اوپر اٹھا کر کنویں سے نکال لیا۔ وہ کہتے ہیں جب میں باہر نکلا تو مجھے کوئی شخص نظر نہیں آیا میں نے یاتف غیبی کی یہ آواز سنی تم نے توکل کا ثمرہ دیکھ لیا ! قاضی ابن العربی نے کہا اس شخص سے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو کامل طریقہ سے پورا کیا تھا، تم بھی اس کے طریقہ پر عمل کرو تو ہدایت پاجاؤگے۔ (احکام القرآن ج 3، ص 83 ۔ 84، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1408 ھ) 

توکل کا صحیح مفہوم : 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں : 

علامہ ابو الفرج ابن الجوزی نے کہا ہے ابو حمزہ کا اس مقام پر توکل کرنا اور کسی سے سوال نہ کرنا اس زعم میں اس کی اپنے نفس پر اعانت تھی اور یہ جائز نہیں ہے اور اگر وہ توکل کا معنی سمجھتا تو وہ جان لیتا کہ اس حالت میں کسی سے مدد طلب کرنا توکل کے منافی نہیں ہے، جس طرح مکہ سے اپنی روانگی کو مخفی رکھنے کی وجہ سے رسو اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) توکل سے خارج نہیں ہوے اور ہجرت کے موقع پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے راستہ دکھانے والے کو کر آئے پر لیا اور اس نے فرمایا کہ اس معاملہ کو مخفی رکھے، اور آپ کا غار میں چھپنا اور سراقہ سے آپ کا یہ فرمانہ کہ ہمارے معاملہ کو مخفی رکھے، پس جس توکل کی تحسین کی گئی ہے وہ کسی ممنوع کام کو شامل نہیں ہوتا، اور ابو حمزہ کا کنویں میں خامو شی کو اختیار کرنا ممنوع تھا، اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے ایک ایسا آلہ پیدا کیا ہے جس سے وہ ضرر کو درع کرتا ہے اور ایک ایسا آلہ پیدا کیا ہے جس سے وہ نفع حاصل کرتا ہے پس اگر وہ توکل کا ادعاکر تے ہوئے ان آلات کو معطل کردے تو اس کی جہالت ہوگی اور ان آلات کو بنانے کی حکمت کو ضائع کرنا ہوگا کیونکہ توکل تو صرف اللہ پر اعتماد کرنے کا نام ہے اور توکل کا یہ تقاضا نہیں ہے کہ اسباب منقطع کردیئے جائیں۔ اگر انسان بھوکا ہو اور وہ کسی سے کھانے کا سوال نہ کرے اور بھوک سے مرج آئے تو وہ گناہ گار ہوگا۔ علامہ ابو لفرج نے کہا کہ ابو حمزہ کے اس قول کی طرف التفات نہ کیا ج آئے کہ ایک شخص آیا اور اس نے مجھے کنویں سے نکال دیا، کیونکہ اگر یہ بات درست بھی ہو تو ایسا کبھی کبھار ہوتا ہے، یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے اور کبھی اللہ تعالیٰ اپنے جاہل بندے پر لطف و کرم فرماتا ہے اور اس واقعہ میں اس پر اللہ تعالیٰ کی امانت تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس جان کی حفاظت کا حکم دیا ہے اور اس کو ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے اور اس نے اس جان کو ہلاکت میں ڈال دیا تھا اور یہ اس کے لیے جائز نہ تھا۔ (الجامع الاحکام القرآن جز ٩ ص ٢٧٠، ٢٦٩، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 20