أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَمَنۡ يَّعۡلَمُ اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ الۡحَـقُّ كَمَنۡ هُوَ اَعۡمٰىؕ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِۙ‏ ۞

ترجمہ:

بھلا جو شخص یہ جانتا ہو کہ آپ کے رب کی جانب سے جو آپ کی طرف نازل ہوا ہے وہ برحق ہے، کیا وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو اندھا ہو ؟ صرف وہی لوگ نصیحت قبول کرتے ہیں جو صاحبان عقل ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بھلا جو شخص یہ جانتا ہو کہ آپ کے رب کی جانب سے جو آپ کی طرف نازل ہوا ہے وہ برحق ہے، کیا وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو اندھا ہو ؟ صفر وہی لوگ نصیحت قبول کرتے ہیں جو صاحبان عقل ہیں۔ (الرعد : 19) 

اس آیت میں بھی پہلی تشبیہ اور مثال کی طرف اشارہ ہے کہ کسی چیز کا عالم بمنزلہ نابینا، اور بیان کی طرح نہیں ہے، کیونکہ نابینا جب کسی رہنما کے بغیر کسی راستہ میں جآئے گا تو ہوسکتا ہے کہ وہ گڑھے، کنویں یا کسی کھلے ہوئے گٹر میں گرجائے یا کسی اور ہلاکت کا شکار ہوجائے۔

علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ یہ آیت حضرت حمزہ بن عبدالمطلب (رض) اور ابو جہل لعنہ اللہ کے متعلق نازل ہوئی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 19