أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتۡ اَوۡدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحۡتَمَلَ السَّيۡلُ زَبَدًا رَّابِيًا‌ ؕ وَمِمَّا يُوۡقِدُوۡنَ عَلَيۡهِ فِى النَّارِ ابۡتِغَآءَ حِلۡيَةٍ اَوۡ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثۡلُهٗ‌ ؕ كَذٰلِكَ يَضۡرِبُ اللّٰهُ الۡحَـقَّ وَالۡبَاطِلَ ؕ  فَاَمَّا الزَّبَدُ فَيَذۡهَبُ جُفَآءً‌‌ ۚ وَاَمَّا مَا يَنۡفَعُ النَّاسَ فَيَمۡكُثُ فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ كَذٰلِكَ يَضۡرِبُ اللّٰهُ الۡاَمۡثَالَؕ ۞

ترجمہ:

اس نے آسمان سے پانی نازل کیا جس سے اپنی وسعت کے مطابق ندی نالے جاری ہوگئے پھر پانی کے زور نے بلبلے والے جھاگ بنا دء یے اور جس دھات کو زیور یا کسی اور چیز (کی شکل) میں ڈھالنے کے لیے آگ میں پگھلاتے ہیں اس میں بھی ایسے ہی جھاگ بنتے ہیں اللہ اس طرح حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے پس رہا جھاگ تو وہ بےفائدہ ہونے کی وجہ سے زائل ہوجاتا ہے، اور رہی وہ چیزجو لوگوں کو فائدہ پہنچاتی ہے تو وہ باقی رہتی ہے، اسی طرح اللہ مثالیں بیان فرماتا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اسی نے آسمان سے پانی نازل کیا جس سے اپنی وسعت کے مطابق ندی نالے جاری ہوگئے پھر پانی کے زور نے بلبلے والے جھاگ بنا دیے اور جس دھات کو زیور یا کسی اور چیز ( کی شکل) میں ڈھالنے کے لیے آگ میں پگھلاتے ہیں اس میں بھی ایسے ہی جھاگ بنتے ہیں اللہ اسی طرح حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے پس جھاگ تو وہ بےفائدہ ہونے کی وجہ سے زائل ہوجاتا ہے اور رہی وہ چیز جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتی ہے تو وہ باقی رہتی ہے اسی طرح اللہ مثالیں بیان فرماتا ہے۔ (الرعد : 17) 

مشکل الفاظ کے معانی : 

اودیہ : یہ وادی کی جمع ہے، یہ وہ جگہ ہے جہاں کثرت کے ساتھ پانی بہتا ہے اس میں اس کی وسعت کے مطابق پانی ہوتا ہے۔ اگر وادی چھوٹی ہو تو کم پانی ہوتا ہے اور اگر وادی بڑی ہو تو اس میں زیادہ پانی ہوتا ہے، دو پہاڑوں کے درمیان جو کشادہ راستہ ہوتا ہے اس کو وادی کہتے ہیں اور مجاز امذہب اور اسلوب کے معنی ہیں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ 

زبد : گندگی اور میل کچیل جو پانی سطح پر ابھر کر آجاتا ہے، جھاگ۔

رابیا : کسی چیز کا خود بخود زیادہ ہونا، بلند ہونا، اس آیت سے مراد ہے پانی کے بلبلے۔

وممایوقدون علیہ فی النار : بعض معدنیات، مثلا سونا، لوہا اور پیتل کو کسی مخصوص شکل میں ڈھالنے کے لیے آگ میں بگھلایا جاتا ہے۔ 

ابتغاع حلیتہ اومتاع : زیب وزینت کے لیے زیورات بن آئے جاتے ہیں اور دیگر فوائد کے حصول کے لیے بر تن، جنگ اور زراعت کے آلات اور دیگر کار آمد چیزیں بنائی جاتی ہیں۔ 

زبد مثلہ : سیلاب کے جھاگ کی طرح، بگھلے ہوئے سونے، چاندی اور لوہے کا میل کچیل ان کی مائع سطح پر جھاگ بن کر آجاتا ہے۔ 

جفاء : خس و خاشاک، کو ڑا کرکٹ اور میل کچیل جو پہتی ہوئی وادی کے کناروں پر یا ابلتی ہوئی دیگچی کے کناروں پر آجاتا ہے۔ 

پانی اور جھاگ سے تشبیہ کا بیان : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مومن اور کافر اور ایمان اور کفر کو، نابینا اور بینا، اور اندھیرے اور روشنی سے تشبیہ دی تھی، اس آیت میں ایمان اور کفر کی ایک مثال دی ہے، اس میں پانی اور جھاگ کا ذکر فرمایا کہ وادیوں میں پانی پہتا ہے اور وہ پانی وادیوں کی گنجائش اور وسعت کے اعتبار سے کم اور زیادہ ہوتا ہے اور اس میں جو خس و خاشاک ہوتا ہے وہ جھاگ اور بلبلوں کی صورت پانی کی سطح پر ظاہر ہوتا ہے اور بہت جلد فنا ہوجاتا ہے، اسی طرح جب سونے، چاندی، پیتل اور دیگر معدنیات کو پگھلایا جاتا ہے تو ان کا میل کچیل ان کی مائع سطح پر جھاگ اور بلبلوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور جلد زائل ہوجاتا ہے۔ 

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی کبریائی جالالت اور احسان کے آسمان سے رحمت کا پانی فرمایا جو قرآن مجید اور یہ پانی بندوں کے دلوں کی وادیوں میں نازل فرمایا۔ قرآن مجید کو پانی کے ساتھ تشبیہ دی کیونکہ پانی حیات دنیاوی کا سبب ہے اور قر آج مجید اخروی حیات کا سبب ہے، اور وادیوں کو بندوں کے دلوں کے ساتھ تشبیہ دی کیونکہ جس طرح وادیوں میں پانی مستقرہوتا ہے اسی طرح بندوں کے دلوں میں انوار قرآن اور مضامین جگہ پاتے ہیں اور جس طرح بعض وادیاں تنگ ہوتی ہیں اور بعض کشادہ اور ان کی گنجائش اور وسعت کے اعتبار سے ان میں پانی ہوتا ہے اسی طرح دلوں کی پاکیزگی اور ان کی نجاست اور ان کی قوت فہم کی زیادتی اور کمی کے اعتبار سے ان میں قرآن مجید کے مضامین اور انوار کم اور زیادہ ہوتے ہیں اور جس پانی اور پگھلے ہوئے معدنیات کی مائع سطح پر خس و خاشاک اور ان کا میل کچیل جھاگ کی صورت میں ان کی سطح پر آجاتا ہے اور جلد زائل ہوجاتا ہے اسی طرح قرآن مجید کے مضامین میں جو شکوک و شہبات ہوتے ہیں وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور علماء کے بیانات سے جلد زائل ہوجاتے ہیں اور عقاء د اور احکام شرعیہ کی تصریحات اور ہدایت اور عملی نکات باقی رہ جاتے ہیں، یہ مثال اور تشبیہ کی تقریر ہے جس کو سب سے پہلے صرف امام رازی نے بیان کیا ہے اور بعد کے مفسرین نے اسی تقریر سے استفادہ کیا ہے اور ہم نے اس کو مزید وضاحت سے پیش کیا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 17