أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جَنّٰتُ عَدۡنٍ يَّدۡخُلُوۡنَهَا وَمَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآئِهِمۡ وَاَزۡوَاجِهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ‌ ۖ وَالۡمَلٰٓئِكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍ‌ۚ ۞

ترجمہ:

دائمی جنتوں میں وہ خود (بھی) داخل ہوں گے اور ان کے باپ دادا، اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے نیکو کار اور فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس یہ کہتے ہوئے داخل ہو گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : دائمی جنتوں میں وہ خو (بھی) داخل ہوں گے، اور ان کے باپ دادا، اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے نیکوکار، اور فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس یہ کہتے ہوئے داخل ہوں گے۔ تم پر سلامتی ہو، کیونکہ تم نے صبر کیا، پس آخرت کا گھر کیسا اچھا ہے۔ (الرعد : 23، 24) 

جن صفات کی بناء پر جنت عطا کی جاتی ہے :

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی آٹھ صفات بیان فرمائی تھیں

(1) جو اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں اور پکے عہد کو نہیں توڑتے۔

(2) جو رشتوں کو جو ڑے رکھتے ہیں۔

(3) اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں۔

(4) سخت حساب سے ڈرتے رہتے ہیں۔

(5) اپنے رب کی رضا کی طلب میں صبر کرتے ہیں،

(6) نماز قائم کرتے ہیں

(7) ظاہر اور پوشیدہ خرچ کرتے ہیں۔

(8) برئی کو اچھائی سے دور کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے نے یہ آٹھ صفات ذکر فرمائیں، پھر اس کے بعد فرمایا جو مسلمان ان آٹھ صفات کے ساتھ موصوف ہوں گے ان کی جزاء یہ ہے کہ

(1) اللہ تعالیٰ ان کو دائمی جنتوں میں داخل فرمائے گا۔

(2) ا کے باپ دادا، ان کی بیویوں اور ان کی الاد میں سے جو نیک ہوں گے ان کو بھی دائمی جنتوں میں داخل فرمائے گا۔

(3) فرشتے ہر دروازہ سے ان کو سلام کرتے ہوئے داخل ہوں گے۔

(4) اور ان کے صبر کرنے کی تحسین فرمائیں گے۔

جنت الفردوس کی طلب کرنے کی دعا کرنی چاہیے : 

اس آیت میں نیک عمل کرنے والوں کے لیے جنت کی نوید کا ذکر ہے اور اس کے متعلق یہ حدیث بھی ہے : حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس مسلمان نے پانچ نمازیں پڑھیں اوار بیت اللہ کا حج کیا اور رمضان کے روزے رکھے (مجھے پتا نہیں کہ آپ نے زکوہ کا ذکر کیا تھا یا نہیں) اللہ کے ذمہ (کرم) پر یہ ہے کہ اس کو بخش دے خواہ اس نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی ہو یا اس زمین میں ٹھرا رہا ہو جس میں وہ پیدا ا ہو تھا، حضرت معاذ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میں لوگوں کو اس کو خبر نہ دوں ! آپ نے فرمایا : لوگوں چھوڑو دو ، اے معاذ ! جنت میں سو درجء ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان سو سال کی مسافت ہے اور الفردوس سب سے بلند یا سب سے درمیانی جنت ہے، اسی سے جنت کے دریا نکلتے ہیں پس جب تم اللہ سے سوال کرو تو الفردوس کا سوال کرو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 2790، 7423 مسند احمد رقم الحدیث :22438، سنن الترمذی رقم الحدیث :2530، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4331) 

نیک اعمال کے بغیر نسب کا غیر مفید ہونا :

اس آیت میں فرمایا ہے : دائمی جنتوں میں وہ خود (بھی) داخل ہو گے اور ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں نیکو کار۔ 

حضرت ابن عباس نے فرمایا اس سے مراد ہے کہ جس نے اس طرح تصدیق کی جس طرح ان مسلمانوں نے تصدیق کی تھی خواہ اس کے عمل ان کی طرح نہ ہوں وہ بھی جنت میں داخل ہوجائے گا۔ زجاج نے کہا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بیان فرمایا ہے کہ جب تک نیک اعمال نہ ہوں نسب سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ کسی انسان کے باپ دادا اس کی بیو یوں اور اس کی اولادنے اگر نیک اعمال نہ کیے ہوں تو وہ جنت میں نہیں داخل ہوں گے۔ علامہ واحدی نے کہا حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا وہ صحیح ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اطاعت گزاری کی جزا میں اس کی اس خوشی کو بھی رکھا ہے کہ اس کے اہل اس کے ساتھ جنت میں داخل ہوں اور یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ جس شخص نے نیک اعمال کیے اس کے اکرام کی وجہ سے اس کی اہل کو بھی جنت میں داخل کی جائے گا اور اگر اس کے اہل اپنے نیک اعمال کی وجہ سے داخل ہوں تو اس میں اطاعت گزار کے اکرام کا کوئی دخل نہیں ہے اور اس کے ساتھ اس کے اہل کو جنت میں داخل کرنے کے وعدہ کا بھی کوئی فائدہ نہیں کیونکہ جو شخص بھی نیک عمل کرے گا وہ جنت میں ساخل ہوجائے گا، ( تفسیر کبیر ج 7 ص 36، مطبو عہ داراحیاء العربی بیروت :1415 ھ) 

میں کہتا ہوں کہ زجاج کی تقریر درست ہے۔ اور علامہ واحدی کی جو تقریر امام رازی نے نقل کی ہے اول وہ واحدی کی تفسیر الوسیط میں مذکور نہیں ہے۔ ، ثانیا اگر یہ کہا جائے کہ خواہ اطاعت گزار کے اہل نے نیک عمل نہ کیے ہوں وہ پھر بھی اس اطاعت گزار کے امام کرام کی وجہ سے جنت میں داخل ہوجائیں گے تو یہ اس آیت کی صریح نص کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : 

ومن صلح بن ابائھم وازواجھم وذریتھم۔ ( الرعد :24) اور ان کی باپ دادا اور ان کی بیو یو اور ان کی اولاد میں جس نے نیک عمل کیے ہوں۔ 

جنت میں اہل و عیال کے ساتھ مجتمع ہو بھی نعمت ہے : 

باقی رہا یہ کہ پھر اطاعت گزاری کی کیا کرامت ہوئی، جب وہ اپنے ہی نیک اعمال کی وجہ سے جنت میں داخل ہوئے اس کا جواب یہ ہے کہ اطاعت گزاری کی کرامت یہ ہے کہ جنت میں اس کی اپنے اہل سے ملا قات ہوگی اور وہ سب مل کر رہیں گے اور ماں باپ، اپنی بیوی بچوں کے ساتھ مل کر جنت میں رہنا یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اور اس ملاپ اور اجتماع سے اس اطاعت گزار کو بہت خوشی حاصل ہوگی اور اس آیت سے یہ واضع ہوگیا کہ کسی شخص کو اپنے نسب پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے اور نیک اعمال کی کوشش کرنی چاہیے اور یہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ دخول جنت کے لیے نیک اعمال ظاہری اور صوری طور پر سبب ہیں، جنت میں دخول کا اصل سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔

حافظ ابو عمر محمد بن عبد البر المالکی القرطبی المتوفی 462 ھ روایت کرتے ہیں :

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت سودہ بنت زمعہ (رض) بھاری جسم کی تھے۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بوڑھی ہوگئیں۔ آپ نے ان کو طلاق دینے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا آپ مجھے طلاق نہ دیں، میرے معاملہ میں آپ کو مکمل اختیار ہے، میں تو صرف یہ چاہتی ہوں کہ میرا حشر آپ کی ازواج میں ہو اور میں نے اپنی باری حضرت عائشہ (رض) کو ہبہ کردی، اور میرا ارادہ نہیں ہے جو عوتوں کا ارادہ ہوتا ہے تو رسول اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے نکاح میں بر قرار رکھا حتی کہ ان کی وفات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکاح میں ہوئی۔ وہ حضرت عمر بن الخطاب کے آخر زمانہ خلافت میں فوت ہوئی تھیں (الا ستیعاب ج 4، ص 422، رقم : 3428، مطبو عہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1415 ھ سیل الہدی والر شادج 11، ص 199، مطبو عہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1414 ھ) 

جنت میں مومنوں کو فرشتوں کے سلام کرنے کے متعلق احادیث :

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور فرشتے ہر دروازہ سے ان کے پاس یہ کہتے ہوئے داخل ہو گے۔ تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم نے صبر کیا۔ 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کی مخلوق میں سب سے پہلے جنت میں فقراء مہاجرین داخل ہو گے، جن کی وجہ سے سرحدوں کی حفا ظت کی جاتی ہے اور ان کی وجہ سے مصائب سے نجات ملتی ہے ان میں سے کوئی شخص اس حال میں فوت ہوتا ہے کہ اس کی خواہش اس کے دل میں ہی رہ جاتی ہے وہ اس خواہش کو پورا نہیں کر پاتا، اللہ تعالیٰ جن فرشتوں سے چاہے گا فرمائے گا ان لوگوں کے پاس جاؤ اور ان کے سلام کرو، فرشتے کہیں گے اے ہمارے رب ہم تیرے اسمان کے رہنے والے ہیں اور تیری مخلوق میں سب سے بہتر ہیں، کیا تو ہمیں یہ حکم دیتا ہے کہ ہم جاکر ان لوگوں کو سلام کریں ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ میرے وہ بندے ہیں جو میری عبادت کرتے تھے اور میر ساتھ بالکل شرک نہیں کرتے تھے، ان کی وجہ سے سرحدوں کی حفاظت ہوتی تھی، ان کی وجہ سے مصائب سے نجات ملتی تھی اور ان میں سے کوئی شخص اس حال میں فوتا تھا کہ اس کی خواہش اس کے دل میں ہی ہوتی تھی، وہ اس خواہش کو پورا نہیں کر پاتا تھا یہ سن کر فرشتے ان کے پاس ہر دروازہ سے جائیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم نے صبر کیا۔ ( مسند احمد ج 2 ص 168، مسند احمدرقم الحدیث : 6570 عالم الکتب) 

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ مومن جنت میں اپنے تخت پر ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا ہوگا اور اس کے پاس اس کے خدام بیٹھے ہوئے ہوں گے پھر ایک فرشتہ اس سے اجازت لے کر اس کے پاس آئے گا اور اس کو سلام کر کے لوٹ جائے گا۔ ( جامع البیان رقم الحدیث :15442، مطبو عہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ) 

محمد بن ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر سال شہداء کی قبروں پر جاتے تھے اور فرماتے تھے اسلام علیکم بما صبر فنعم عقبی الدار۔ تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم نے صبر کیا پس آخرت کا گھر کیسا اچھا ہے ! حضرت عمر اور حضرت عثمان بھی ایسا کرتے تھے، (جامع البیان رقم الحدیث :15443، مصنف عبدرزاق رقم الحدیث :6716) 

مومنوں کے صبر کرنے کی متعدد تفاسیر :

فرشتے جو کہیں گے کیونکہ تم نے صبر کیا، اس کی گئی تفسیریں ہیں)

1 ( سعید بن جبیر نے کہا تم نے اللہ کے احکام پر عمل کرنے کی مشقت پر صبر کیا

(2) حسن نے کہا تم نے دنیا کی فضول چیزوں پر صبر کیا۔

(3) ابو عمران الجوفی نے کہا تم نے فقر پر صبر کیا۔

(4) نیز ابو عمران نے کہا تم نے دین کی مشکلات پر صبر کیا،

(5) ابن زید نے کہا تم نے اپنی محبوب چیزوں کے گم ہونے پر صبر کیا۔ زادالمسیر ج 4 ص 325)

(6) تم نے لازماطاعت کرنے اور گناہوں سے اجتناب کرنے پر صبر کیا۔ )

7 (تم نے اتباع شہوات پر صبر کیا۔ 

عبداللہ بن سلام اور علی بن الحسین (رض) بیان کیا کہ قیامت کے دن ایک منادی ندا کر گا صبر کے نے والے اٹھ کھڑے ہوں پھر کچھ لوگ کھرے ہوں گے ان سے کہا جائے گا جنت کے طرف جاؤ۔ ان کو راستے می‏ فرشتے میں گے اور کہیں کہا جا رہے ہو ؟ وہ کہیں گے جنت کی طرف۔ فرشتے کہیں گے حساب سے پہلے ؟ وہ کہیں گے ہاں۔ فرشتے پو چھیں گے تم لوگ کون ہو ؟ وہ کہیں گے ہم اہل صبر ہیں۔ فرشتے پو چھیں گے تم نے کس پر صبر کیا تھا ؟ وہ ہیں گے ہم نے اللہ کی عبادت کرنے پر صبر کی اور ہم نے اللہ کی معصیت رکنے پر صبر کیا اور ہم نے آفتوں اور مصیبتوں پر صبر کیا پھر فرشتے ان سے کہیں گے تم جنت میں داخل ہو جاو عمل کرنے والو کا کیسا اچھا اجر ہے اور فرشتے کہیں گے تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم نے صبر کیا پس آخرت کا گھر کیسا اچھا ہے، یعنی جنت دنیا کے مقابلہ میں کیسی اچھی ہے ! ( الجامع لاحکام القرآن جز 9، ص 273 مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ۔ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 23