أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عٰلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ الۡكَبِيۡرُ الۡمُتَعَالِ‏ ۞

ترجمہ:

وہ ہر غیب اور ہر ظاہر کو جاننے والا ہے سب سے بڑا نہایت بلند ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ ہر غیب اور ظاہر کو جاننے والا ہے، سب سے بڑا نہایت بلند ہے۔ (الرعد : 9) 

غیب کا لغوی اور اصطلاحی معنی : 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی 502 ھ لکھتے ہیں : 

جب کوئی چیز آنکھوں سے چھپ جاے تو اس کو غیب اور غائب کہتے ہیں، قرآن مجید میں ہے :

وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِيَ لا أَرَى الْهُدْهُدَ أَمْ كَانَ مِنَ الْغَائِبِينَ ( النمل : ٢٠) (سلیمان نے) پرندے کی تفتیش کی تو کہا مجھے کیا ہوا کہ میں ہد ہد کو نہیں دیکھ رہا یا وہ (حقیقت میں) غائب ہے۔

غیب کا لفظ ہر اس چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو انسان کے علم اور اس کے حواس سے غا ئب ہو قرآن مجید میں ہے :

وَمَا مِنْ غَائِبَةٍ فِي السَّمَاءِ وَالأرْضِ إِلا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ (النمل :75) اور آسمان اور زمین میں جو بھی چھپی ہو چیز ہے وہ کتاب مبین (لوح محفوظ) میں مذکور ہے۔

غیب اور غائب کا اطلاق لوگوں کے اعتبار سے کیا جاتا ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کے اعتبار سے، کیونکہ آسمانوں اور زمینوں کا کوئی ذرہ اللہ سے غا ئب نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : عالم الغیب والشھادہ۔ (الانعام :73) یعنی جو چیزیں تم سے غائب ہیں اور جو چیزیں تمہارے سامنے حاضر ہیں وہ ان سب کا ماننے والا ہے۔ 

اور یؤ منون با لغیب۔ (البقرہ :3) میں غیب کا اصطلاحی معنی مراد ہے، اور وہ یہ ہے جو چیز حواس خمسہ اور بد اہت عقل سے معلوم نہ ہو وہ غیب ہے، اور غیب کا علم صرف انبیاء (علیہم السلام) کے خبر دینے اور ان کے بتانے سے ہوتا ہے۔ (المفردات ج 1 ص 475، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، 1418 ھ) 

اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت اور اس کی خصو صیات : 

امام فخرالدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ کو تمام موجودات واجبہ ممکنہ اور معدومات ممکنہ اور ممتنعہ کا علم ہے اور امام الحرمین نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کو غیر متنا ہی چیزوں کا علم اور ان عیر متنا ہی چیزوں میں سے ہر چیز کا غیر متناہی وجود سے علم ہے (تفسیر کبیر ج 7 ص 15، مطبو عہ دارالتراث العربی بیروت، 1415 ھ) 

اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی متوفی 1340 ھ اللہ تعالیٰ کے علم کے متعلق لکھتے ہیں : 

اصل یہ ہے کہ کسی علم کی حضرت عز وجل سے تخصیص اور اس کی ذات پاک میں حصرارو اس کے غیر سے مطلقانفی چند وجہ پر ہے : اول علم کا ذاتی ہونا کہ بدذات خود بےعطا غیر ہو ،۔ دوم علم کا غنا کہ کسی آلہ وجار و تدبیر فکر و نظر والتفات و انفال کا اصلا محتاج نہ ہو۔ سوم علم کا سرمدی ہونا کہ ازلا ابد اہو۔ چہارم علم کا وجوب کہ کسی طرح اس سلب ممکن نہ ہو۔ بنجم علم کا ثبات و استمرار کہ کبھی کسی وجہ سے اس میں تغیر تبد ل، فرق، تفادت کا امکان نہ ہو۔ ششم علم کا اقصی غایت کمال پر ہونا کہ معلوم کی ذات کی ذاتیا ت، اعراض احوال لازمہ مفارقہ، ذاتیہ اضافیہ ماضیہ، آتیہ، موجودہ، ممکنہ سے کوئی ذرہ کسی وجہ پر مخفی نہ ہو سکے، ان چھ وجہ پر مطلق علم حضراتاحدیت جل وعلا سے خاص اور اس کے غیر سے قظعا مطلقا منفی یعنی کسی کو کسی ذرہ کا ایسا علم جو ان چھ وجوہ میں سے ایک وجہ بھی رکھتا ہو حاصل ہونا ممکن نہیں جو کسی غیر الہی کے لیے عقول مفارقہ ہوں خواہ نفوس ناطقہ ایک ذرہ کا ایسا علم ثابت کر یقینا اجما عا کافر مشرک ہے۔ (الصمصام ص۔ 6، 7 مطبو عہ بزم عاشقان مصطفیٰ لاہور، 1412 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 9