أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لِلَّذِيۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّهِمُ الۡحُسۡنٰى ‌ ۚ وَالَّذِيۡنَ لَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهٗ لَوۡ اَنَّ لَهُمۡ مَّا فِى الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا وَّمِثۡلَهٗ مَعَهٗ لَافۡتَدَوۡا بِهٖؕ اُولٰۤئِكَ لَهُمۡ سُوۡۤءُ الۡحِسَابِ ۙ وَمَاۡوٰٮهُمۡ جَهَـنَّمُ‌ؕ وَبِئۡسَ الۡمِهَادُ‏۞

ترجمہ:

جن لوگوں نے اپنے رب کے دین کو قبول کیا ان کے لیے نیک انجام ہے، اور جن لوگوں نے اس کے دین کو قبول نہیں کیا اگر ان کے پاس تمام روئے زمین کی چیزیں اور اتنی ہی اور چیزیں بھی ہوتیں تو وہ اپنے آپ کو (عذاب) سے چھرانے کے لیے ان کو فدیہ میں دے دیتے ان ہی لوگوں کا سخت حساب ہوگا، ان کا ٹھکانا دوزخ اور وہ ٹھرنے کی کیسی بری جگہ ہے !۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جن لوگوں نے اپنے رب کے دین کو قبول کی ان کے لیے نیک انجام ہے اور جن لوگوں نے اس کے دین کو قبول نہیں کیا اگر ان کے پاس تمام روئے زمین کی چیزیں اور اتنی چیزیں بھی ہوتیں تو وہ اپنے آپکو (غذاب سے) چھڑانے کے لیے ان کو فدیہ میں دے دیتے، ان ہی لوگوں کا سخت عذاب ہوگا، اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ ٹھر نے کیسی بری جگہ ہے !۔ (الرعد : 18) 

مومنوں اور کافروں کے اخروی احوال : 

اس سے پہلے آیت میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور کافروں کی مثا لیں بیان فرمائی تھیں، اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور کافروں کے اخروی احوال بیان فرمائے ہیں۔ 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت کو قبول کی اور تو حید، رسالت تقدیر، قیامت، مرنے کے بعد اٹھنے اور جزا اور سزا پر ایمان لے آئے ان کے لیے نیک انجام ہے، اور نیک انجام سے مراد ہے خالص منفعت جو ہر قسم کے نقصان اور ہر قسم کے خطرات سے خالی ہو، اور وہ منفعت دائمی ہو اور اس کا کبھی انقطاع نہ ہو، جیسا کہ ان آیت میں ہے :

لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ وَلا يَرْهَقُ وُجُوهَهُمْ قَتَرٌ وَلا ذِلَّةٌ أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ( یونس : ٢٦) جن لوگوں نے نیک کام کیے ان کے لیے نیک انجام اور مزید اجر ہے، ان کے چہروں پر نہ سیاہی چھ آئے گی نہ ذلت، یہی لوگ جنتی ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

وَأَمَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُ جَزَاءً الْحُسْنَى وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنَا يُسْرًا (الکھف :88) اور جو شخص ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیے تو اس کے لیے آخرت میں نیک انجام ہے اور عنقریب ہم اسے آسان احکام دیں گے۔

اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت نہیں کرتے وہ دنیا کی تمام چیزیں اور اتنی اور بھی اپنے آپ کو عذاب سے چھڑانے کے لیے فدیہ دے دیں پھر بھی وہ اپنے آپ کو عذاب سے نہیں چھڑاسکیں گے جیسا کہ ان آیات میں ہے :

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَأُولَئِكَ هُمْ وَقُودُ النَّارِ (آل عمران :10) بیشک جن لوگوں نے کفر کیا ان کے مال اور ان کی اولاد ان کو اللہ (کے عذاب) سے ہرگز نہ بچا سکیں گے اور یہی لوگ دوزخ کا ایندھن ہیں۔ 

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِمْ مِلْءُ الأرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَى بِهِ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ ( آل عمران : ٩١) بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور وہ کفر کی حالت میں مرگئے تو ان میں سے کسی سے تمام روئے زمین کے برابر سونا نہیں قبول کیا ج آئے گا خواہ وہ اس کو فدیہ میں دے، ان کے لیے درد ناک عذاب ہے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہے۔ 

اس آیت میں فرمایا ان کے لیے سوء الحساب ہے یعنی ان سے سخت حساب لیاج آئے گا، سخت حساب کا معنی یہ ہے کہ ان سے ہر چیز کا حساب لیا ج آئے گا اور کسی چیز کو ترک نہیں کیا ج آئے گا ان کے ہر گناہ پر مواخذہ ہوگا اور ان کے کسی گناہ کو معاف نہیں کیا جآئے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 18