أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هُوَ الَّذِىۡ يُرِيۡكُمُ الۡبَرۡقَ خَوۡفًا وَّطَمَعًا وَّيُنۡشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَ‌ۚ‏ ۞

ترجمہ:

وہی جو تم کو کبھی ڈرانے کے لیے اور (کبھی) امید دلانے کے لیے بجلی کی چمک دکھا تا ہے اور بھاری بادل پیدا کرتا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہی ہے جو تم کے (کبھی) ڈرانے کے لیے اور کبھی امید دلانے کے لیے بجلی کی چمک دکھا تا ہے اور بھا ری بادل پیدا کرتا ہے۔ (الرعد : 12) 

بجلی اور بادل میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ظہور :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ڈرایا تھا کہ وہ انعام بھی عطا فرماتا ہے اور اگر اس کے انعام کی قدر نہ کہ جاے اور اس کا شکر ادانہ کیا جاے تو وہ اس انعام کو واپس لے لیتا ہے اور مصاء ب میں مبتلا کردیتا ہے اور عذاب دینے سے کوئی روک نہیں سکتا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا ذکر فرمایا، اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت پر دلیل ہے اور اس میں بعض اعتبار سے نعمت اور احسان کا ذکر ہے اور اس میں بعض لحاض سے اس کے قہر اور عذاب کا بھی بیان ہے۔ 

برق اس روشنی کو کہتے ہیں جو ہواؤں کی رگڑ کی وجہ سے بادلوں میں چمکتی ہے اور برق کے ظہور میں اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلیل ہے کیونکہ بادل پانی کے مرطوب اجزاء اور ہو اء یہ سے مرکب ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے برق پیدا کرتا ہے جو اجزاء ناریہ پر مشتمل ہوتی ہے اور پانی سرد اور مرطوب ہے اور آگ گرم اور خشک ہے اور سرد اور مر طوب گرم اس خشک کی ضد ہے اور ایک ضد سے دوسری ضد کو پیدا کردینا یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا عجیب و غریب شاہکار ہے اور ان کے سوا اور کوئی اس پر قادر نہیں ہے کہ وہ ایک ضد سے دوسری ضد کو وجود میں لے آے۔

جب بجلی چمکتی ہے اور بادل گرجتے ہیں تو کسانوں کو بارش کی امید ہوتی ہے اور یہ ڈر بھی ہوتا ہے کہ کہیں ان پر بجلی نہ گر جاے اور ان کو جلا کر خا کستر نہ کر دے اس طرح کبھی بارش سے لوگوں کو اپنی فصلوں کی نشونما اور نفع کی امید ہوتی ہے اور اسی بارش سے بعض لوگوں کو ضرر اور نقصان پہچنے کا خطرہ ہوتا ہے بلکہ ہر حادث ہونے والی چیز کا یہی حال ہے۔ بعض لوگوں کو اس سے کسی نفع کی توقع ہوتی ہے اور بعض لوگوں کو اس سے کسی ضرر کا خطرہ ہوتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 12