أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّذِيۡنَ يَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ وَيَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ وَ يَخَافُوۡنَ سُوۡۤءَ الۡحِسَابِؕ‏ ۞

ترجمہ:

اور جو ان رشتوں کو جوڑے رکھتے ہیں جن کے جوڑے رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور اپنے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور سخت حساب سے ڈرتے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جو ان رشتوں کو جوڑے رکھتے ہیں جن کے جوڑے رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور اپنے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور سخت حساب سے ڈرتے ہیں۔ (الرعد : ٢١) 

رشتوں کو جوڑنے کی اقسام : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہود کو پورا کرنے کا حکم دیا تھا۔ جس کا خلاصہ ہے خالق کی تعظیم، اور اس آیت میں مخلوق کے ساتھ تعلق جوڑنے کا حکم دیا ہے، جس کا خلاصہ ہے مخلوق پر شققت، اور انسان پر لازم ہے کہ وہ خالق کی تعظیم بھی کرے اور اور مخلوق پر شفقت بھی کرتے اور حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی رعایت کرے۔ 

بندوں کے تمام حقوق واجبہ کی رعایت کرنا ضروری ہے اس میں رشتہ داروں سے حسن سلوک کرنا اور ان سے تعلق کو قائم رکھنا بھی داخل ہے، اور تمام مسلمانوں کے ساتھ نیکی کرنا بھی داخل ہے۔ قرآن مجید میں ہے : إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ ( الحجرات : ١٠) تمام مسلمان بھائی ہی ہیں۔ ، ، اس کا تقاضا یہ ہے کہ تمام مسلمانوں کے ساتھ نیکی کی ج آئے اور ان سے بقدر امکان ضرر کو دور کیا جائے اور مریض کی عیادت کی ج آئے، اور جنازہ کے ہمراہ جائیں اور نماز جنازہ پر ھیں، اور لوگو ‏ں کو بکثرت سلام کریں اور ان سے مسکراتے ہوئی ملاقات کریں۔ راستہ سے کسی تکلیف دہ چیز کو دور کریں۔ اور جانوروں کے ساتھ بھی نیکی کریں حتی کہ مرغی اور بلی کے ساتھ بھی نیکی کریں۔ 

رشتوں کو جوڑنے کے متعلق احادیث :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس شخص کی ناک خاک آلودہ ہو، اس شخص کی ناک خاک آلودہ ہو، اس شخص کی ناک خاک آلودہ ہو، عرض کیا گیا کس کی رسول اللہ ! فرمایا جس نے اپنے والدین کو یا ان میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو برھاپے میں پایا پھر وہ جنت میں داخل نہیں ہوا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :2551) 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ باپ کی وفات کے بعد اس کے دوستوں سے تعلق جو ڑکر رکھا ج آئے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : 2552) 

حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کے رزق میں کشادگی کی جائے اور اس کی عمر میں اضافہ کیا جائے اس کو چاہیے کہ وہ اپنے رشتہ داروں سے میل ملاپ رکھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٩٨٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٥٧) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسو اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا رھم رحمن کی رحمت کے آثار میں سے ایک اثر ہے اللہ تعالیٰ نے (رحم سے) فرمایا جو تجھ سے ملاپ رکھے گا میں اس سے ملاپ رکھوں گا اور جو تجھ سے منقطع ہوں گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 5988) 

حضرت جبیر بن مطعم (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قاطع رحم میں جنت میں نہیں ہوگا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :5984، صحیح مسلم رقم الحدیث : 2555) 

حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص نیکی کے بدلہ نیکی کرے وہ رشتہ جوڑنے والا نہیں ہے لیکن رشتہ جوڑنے والا وہ ہے جب اس سے رشتہ توڑا جائے تو وہ رشتہ جوڑے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٩٩١) 

حضرت ابوبکر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا زنا اور قطع رحم کے علاوہ اور کسی گناہ پر اللہ تعالیٰ دنیا میں جلدی مواخذہ نہیں فرماتا اور آخرت میں بھی اس کی ذخیرہ کرتا ہے۔ ( سنن الترمذرقم الحدیث 2511، سنن ابو داؤد رقم الحدیث :4902) 

حضرت ابو اسید الساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ بنو سلمہ سے ایک شخص نے آکر پوچھا یا رسو اللہ ! ماں باپ کے فوت ہونے کے بعد بھی ان کے ساتھ کوئی نیکی کرسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! ان کی نماز جنازہ پڑھو، ان کے لیے استغفار کرو، اور ان کے بعد ان کے کیے ہوئے وعدوں کو پوراکر و، اور ان کے رشتہ داروں سے تعلق جو ڑو اور ان کے دوستوں کی عزت کرو، (سنن ابو داؤد رقم الحدیث : 5142، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :3664) 

حضرت معاویہ بن جاہمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت جاہمہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں جہاد کرنا چاہتا ہوں اور آپ کے پاس مشور کے لیے آیا ہوں، آپ نے پوچھا تمہاری ماں ہے ؟ اس نے کہا ہاں ! آپ نے فرمایا تو اس کی لازم رکھو ( اس کی خدمت میں رہو) کیونکہ جنت اس کے پیر کے پاس ہے۔ (مسند احمد ج 3، ص 429، سنن النسائی رقم الحدیث : 3104، شعب الایمان رقم الحدیث :7833) 

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی جس سے میں محبت کرتا تھا اور حضرت عمر اس کو ناپسند کرتے تھے۔ حضرت عمر نے مجھ سے کہا اس کو طلاق دے دو ، میں نے انکار کیا، پھر حضرت عمر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور اس بات کا زکر کیا مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو طلاق دے دو ۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :495، سنن ابو داؤد رقم الحدیث :5138) 

سخت حساب کا معنی : 

اس آیت میں فرمایا ہے : اور وہ سخت حساب سے ڈرتے ہیں۔ 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت ام المومین عائشہ (رض) جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی حدیث سنتیں اور آپ کو اس میں کوئی اشکال ہوتا تو وہ آپ سے دریافت کرتی حتی کہ آپ اس کو سمجھ لیتیں، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص سے حساب لیا گیا اس کو ہلاک کردیا گیا، تو حضرت عائشہ (رض) نے کہا کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : 

فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ( الا نشقاق : ٨) تو اس سے عبقریب بہت آسان حساب لیا ج آئے گا۔ 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس سے مراد حساب کو پیش کرنا ہے لیکن جس سے حساب میں مناقشہ کیا گیا (کہ تم نے فلاں کام کیوں کیا ؟ ) وہ ہلاک ہو ج آئے گا۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث :103، صحیح مسلم رقم الحدیث :2876)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 21