أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَهُوَ الَّذِىۡ مَدَّ الۡاَرۡضَ وَجَعَلَ فِيۡهَا رَوَاسِىَ وَاَنۡهٰرًا‌ ؕ وَمِنۡ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِيۡهَا زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ‌ يُغۡشِى الَّيۡلَ النَّهَارَ‌ ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لِّـقَوۡمٍ يَّتَفَكَّرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

وہی دنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے وہ آیتوں کی تفصیل فرماتا ہے تاکہ تم اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے کا یقین ہو۔ اور وہی ہے جس نے زمین کو پھلایا اور اس میں پہاڑ نصب کیے، اور دریا رواں کیے اور زمین میں ہر قسم کے پھلوں کے دو ، دو جوڑے بناے، وہ رات سے دن کو چھپالیتا ہ، بیشک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور وہی ہے جس زمین کو پھیلا یا اور اس میں پہاڑ نصب کیے اور دریا رواں کیے، اور زمین میں ہر قسم کے پھلوں کو دو ، دو جو ڑے بنائے، وہ رات سے دن کو چھپا لیتا ہے، بیشک اس میں غور فکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (الرعد : 3) 

مشکل الفاظ کے معنی : 

مدالا رض : زمین کو لمبای اور چوڑای میں پھلا دیا تاکہ انسان اور حیوان اس میں رہ سکیں اور چل سکیں اور اس کے منا فع سے استفادہ کرسکیں۔

وجعل فیھا رواسی : اس زمین میں پہاڑ نصب کردیے۔ رواسی، راسیہ کی جمع ہے، یہ لفظ رسو سے بنا ہے، اس کی معنی ہے کسی چیز پر قائم رہنا۔ رواسی کا استعمال ٹھرے ہوے پہا ڑوں کے لیے ہوتا ہے۔ 

انھار : یہ نہر کی جمع ہے، بحرکامعنی سمندر ہے اور نہر کا معنی دریا ہے۔ القتات کا معنی نہر ہے، جدول کا معنی چھو ٹی نہر ہے، انہار کا عطف جبال پر کیا ہے کیونکہ پہا ڑوں سے چشمے نکلتے ہیں جن سے دریا وجود میں آتے ہیں۔

زوجین اثنین : یعنی زمین میں تمام پھلوں کی دو دو قسمیں ہیں، بعض پھل پہلے کھتے ہوتے ہیں اور پھر میٹھے ہوجا تے ہیں جیسے آم۔ بعض پھل سیاہ اور سفید ہوتے ہیں جیسے شہتو ت۔ بعض پھل مذکر اور مونث ہوتے ہیں جیسے کھجور۔ 

یغشی الیل النھار : یعنی رات کا اندھیرا دن کی روشنی کو چھپالیتا ہے اور روشن ہونے کے بعد تاریک ہوجاتی ہے۔

زمینوں، درختوں اور پھلوں سے وجود باری اور توحید باری پر استدلال:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کی تخلیق سے اپنی توحید پر استدلال فرمایا تھا اور اس آیت میں زمین، پہاڑ اور درختوں اور ان کے پھلوں سے اپنے وجود اور توحید پر استدلال ک فرمایا۔ 

زمین سے اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید پر استدلال کی تقریر اس طرح ہے کہ یہ حقیقت مسلم اور مشاہد کہ زمین گول ہے اور اس کے چھ جہتوں سے آسمان محیط ہے، اب ایک سوال تو یہ ہے کہ اس زمین کا کوئی پیدا کرنے والا ہونا چا ہے اور یہ ضروری ہے کہ اس کا پیدا کرنے والا واجب الو جود اور قدیم ہو کیونکہ اگر وہ ممکن اور حادث ہو تو وہ اپنے وجود میں خود کسی علت اور پیدا کرنے والے کا محتاج ہوگا اور جو محتجاج ہو وہ مخلوق ہوگا خالق نہیں ہوگا۔ اور یہ ضروری ہے کہ واجب الوجود واحد ہو کیونکہ اگر دو واجب الوجود ہوں گے تو ان میں سے ہر ایک دو سرے سے ممتاز ہوگا اور وجوب وجود میں مشترک ہوگا پس ہر ایک میں دو چزیں ہوں گی : ایک امر مشترک اور ایک امر ممیز اور جو دو چیزوں سے مرکب ہو وہ اپنے وجود میں ان اجزاء کا محتاج ہوگا اور جو محتاج ہو وہ واجب اور قدیم نہیں ہوسکتا، اس لیے ضروری ہوا کہ واجب الوجود واحد ہو۔ 

دوسری تقریر اس طرح ہے کہ زمین کی آسمان کے ساتھ ایک مخصوص نسبت اور مخصوص وضع ہے اور اس وضع اور نسبت کے لیے کسی مخصص اور مر جح ہونا ضروری ہے اور ضروری ہے کہ وہ مخصص واجب، قدیم اور واحد ہو جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا ہے۔ 

زمین اسے استدلال کی تیسری تقریر اس طرحح ہے کہ زمین گردش کررہی ہے اور اس کی گردش بھی ایک خصوص جانب میں ہورہی ہے سو اس گردش کے لیے بھی ایک مخصس کا ہونا ضروری ہے اور ضروری ہے کہ وہ مرجح واجب ہے، قدیم اور واحد ہو۔

درختوں سے استدلال کی تقریر یہ ہے کہ جو بیج زمین میں بویا جاتا ہے اس سے جو کو نپل پھو ٹتی ہے اس کا ایک حصہ جڑ کی صورت میں نیچے چلا جاتا ہے اور ایک حصہ تنے کی صورت میں اوپر چلا جاتا ہے اور اس کی شا خیں دائیں بائیں پھیل جاتی ہیں۔ جڑ تنا اور شا خیں سب لکڑی کی ہیں اور لکڑی کی ایک ہی طبیت ہے اور ایک طبیت کا ایک تقا ضا ہونا چا ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جڑ نیچے رہی ہے، تنا اوپر جا رہا ہے اور شاخیں دائیں بائیں پھیل رہی ہیں اس لے معلوم ہو کہ یہ اس کے طبعی افعال نہیں ہیں بلکہ ان مختلف افعال کا فاعل کوئی خا رجی مر جح اور مخصص ہے، وہ جس حصہ کو چاہتا ہے زمین کے نیچے داخل کردیتا ہے اور جس حصہ کو چاہتا ہے اوپر بلند کردیتا ہے اور جس حصہ کو چاہتا ہے دائیں بائیں پھیلا دیتا ہے اور دلائل سابقہ کے لحاظ سے اس مخصص اور مر جح کا وا جب، قدیم ور واحد ہونا ضرو ری ہو۔ 

اور پھلوں استدلال ک کی تقریر یہ کہ پھل اپنے رنگوں، جسا متوں، خوشبو وں اور ذائقوں میں سب ایک دوسرے سے مختلف ہیں تو پھر اس اختلاف کے لیے کوئی مخصص اور مر جح ہونا چا ہے اور ضروری ہے کہ وہ مخصص واجب، قدیم اور واحد ہو جیسا کہ ہم پہلے واضع کرچکے ہیں۔ 

اور ایک اور طرز سے درختوں اور پھلوں سے اللہ تعالیٰ کی توحید کی تقریر اس طرح ہے کہ تمام درختوں کی نشونما کا نظام واحد ہے، سب درختوں کا تنا اوپر جاتا ہے اور جڑیں نیچے جاتی ہیں اور شا خیں مختلف اطراف میں پھیل جاتی ہیں اور اس نظام کی وحدت یہ تقا ضا کرتی ہے کہ اس نظام کا خا لق بھی واحد ہو، اسی طرح پھلوں کی پیدا ئش کا نظام بھی واحد ہے، آم کے بیج سے ہمیشہ آم پیدا ہوتا ہے اور کھجور کے بیج سے کھجور پیدا ہوتی ہے، پھر ہر پھل کا ایک موسم ہے، وہ اسی موسم میں پیدا ہوتے ہیں وہ پھل جس علاقہ اور جس زمین میں پیدا ہوا اس کی وہی خشبو، وہ ہی ذائقہ اور وہی تاثیر ہوگی، غرض اس کی پیداے ش، اس کی نشونما، اس کے ذائقہ اور اس کی تا ثیر کا نظام واحد ہے اور اس نظام کی وحدت یہ بتاتی ہے کہ اس نظام کا خالق بھی واحد ہے، اگر نظام بنانے والے متعدد ہوتے تو نظام واحد نہ ہوتا بلکہ متعدد نظام ہوتے، امر یکہ میں معا شی نظام اور ہے، روس میں نظام اور ہے اور چین میں اور نظام ہے۔ یہ نظام اس لیے متعدد ہیں کہ نظام بھی کے بنانے والا واحد ہو تو نظام بھی واحد ہوتا ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ اس پوری کائنات میں چشموں، دریاوں، سمندروں، پہاڑوں درختوں، پتوں، پھلوں، حیونوں اور انسانوں کی پیدا ئش اور نشونما کا نظام واحد ہے، اس نظام کی وحدت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس نظام کا خالق بھی واحد ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 3