أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ اٰيَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُنۡذِرٌ‌ وَّ لِكُلِّ قَوۡمٍ هَادٍ۞

ترجمہ:

اور کافر کہتے ہیں کہ ان کے رب کی طرف سے ان پر کوئی نشانی کیوں نہ نازل ہوئی، آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں، اور ہر قوم کو ہدایت دینے والے ہیں۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کافر کہتے ہیں کہ ان کے رب کی طرف سے ان پر کوئی نشانیاں کیوں نہ نازل ہوئی۔ آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کو ہدایت دینے والے ہیں۔ (الرعد : 7)

مشرکین کا یہ کہنا کہ آپ پر کوئی معجزہ کیوں نہیں کی گیا ؟

الرعد : 5 میں ذکر کیا گیا ہے کہ مشرکین نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر یہ اعتراض کیا کہ یہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو مر نے کے بعد پھر زندہ کی جاے گا اورالرعد : 6) میں مشرکین کے اعتراض کا ذکر کیا گیا ہے ہمارے انکار کی بناء پر یہ ہمیں جس عذاب سے ڈراتے ہیں وہ عذاب کیوں نہیں آتا اور الرعد : 7) میں ان کے اس اعتراض کا ذکر کیا گیا ہے کہ آپ پر کوئی معجزہ کیوں نہیں نازل کیا گیا۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو قرآن مجید نازل کیا گیا وہ بہت عظیم الشان معجزہ ہے، پھر وہ کیوں کہتے تھے کہ آپ پر کوئی معجزہ کیوں نہیں نازل کیا گیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کا کہنا یہ تھا ان کے فرمائشی معجزہ کیوں نہیں پیش کیے گے۔ سورة بنی اسرائیل میں ان کے فرمائشی معجزہ کا ذکر ہے : وہ کہتے تھے ہم آپ پر اس وقت تک ہرگز ایمان نہیں لاے گے حتی کہ آپ ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ جاری کردیں یا آپ کے لیے کھجو روں اور انگوروں کا کوئی باغ بن جاے پھر آپ اس باغ کے درمیان بہتے ہوے دریا جاری کردیں، یا آپ آسمانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمارے اوپر گرا دیں یا آپ اللہ کو اور فرشتوں کو ہمارے سامنے بےحجاب لے آئیں یا آپ آسمان پر چڑھ جائیں اور ہم آپ کے صرف چڑھنے پر بھی ایمان نہیں لاے گے حتی کہ آپ ہم پر ایک کتاب نازل کردیں جس کو ہم خود پڑھیں (بنی اسرائیل :93، 90)

مشرکین کے فرمائشی معجزات پیش نہ کرنے کی وجوہ :

اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے فرمائشی معجزات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا نہیں فرماے، اس کی حسب ذیل وجوہات ہیں 

(1) مشرکین مکہ اپنی تسلی اور اطمینان کے لیے معجزہ طلب نہیں کرتے تھے۔ اگر حق اور صدق کو پہچاننا ان کا مطلوب ہوتا صرف قرآن مجید کا معجزہ ہونا ہی ان کے اطمینان کے لیے کافی تھا۔ وہ عناد، سرکشی، کٹ حجتی اور ہٹ دھرمی کے طور پر آپ سے فرمایشی معجزات کو طلب کرتے تھے جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے ان کو کہا تھا ہم آپ پر ایمان نہیں لاے گے حتی کہ ہم ظاہرا اللہ کو دیکھ لیں۔ (البقرہ :59)

(2) اگر بلفرض ان کی ان فرمائشوں کو پورا بھی کردیا جاتا تو وہ پھر اور معجزات کی فرمائش کرتے اور ان کا یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا

(3) اللہ تعالیٰ کو یہ علم تھا کہ اگر بالفرض ان کے مطلو بہ اور فرمائشی معجزات پیش بھی کردیے گے تو پھر بھی ایمان نہیں لاے گے جیسا کہ اس آیت میں فرمایا ہے :

وَلَوْ عَلِمَ اللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًا لأسْمَعَهُمْ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَهُمْ مُعْرِضُونَ ( الاانفال : ٢٣) اور اگر اللہ کے علم میں ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ان کو ضرور سنا دیتا اور اگر (بالفرض) وہ ان کو سنا دیتا تو وہ ضرور اعراض کرتے ہوے پشت پھیر لیتے۔

اس آیت کا خلا صہ یہ ہے کہ اگر اللہ کو ان میں کسی خیر کا علم ہوتا تو وہ ان کو دین حق کے دلائل اور اور آخرت کے متعلق نصیحتیں سناتا اور ان کے ذہنوں اور دما غوں میں اس کی فہم پیدا کرتا، اور اگر یہ جاننے کے باوجود کہ ان میں کوئی خیر نہیں ہے اور وہ دلائل اور نصائح سے کوئی نفع حاصل نہیں کریں گے، پھر بھی ان کو دلائل اور نصا ئح سنا دیتا تو وہ ضرور اعراض کرتے ہوے پیٹھ پھیر لیتے۔ اسی نہج پر ہم کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ یہ ان فرمائشی معجزات کو دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاے گے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے مطلو نہ اور فرمائشی معجزات پیش نہیں فرماے۔

(4) اللہ تعالیٰ کی پچھلی اقوام میں یہ سنت رہی ہے کہ جب کفار کی قوم کسی معجزے کی فرمائش کرتی اور وہ اس کو وہ معجزہ دے دیا جاتا اور پھر بھی اپنی سرکشی سے باز نہ آتی تو ایک اور کافروں کو ملیا میٹ کردیا جاتا، جیسے حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم یہ مطالبہ کی کہ اس چٹان سے اونٹنی نکال کر دکھا جاے اور جب ان کے مطالبے کے موافق اس چٹان سے اونٹنی نکالی گئی اور پھر وہ اپنی سرکشی سے باز نہ آے تو ایک ہمہ گیر عذاب آیا اور کافروں کی پوری قوم کو ملیا میٹ کردیا گیا اور بن (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہوتے ہوے مشرکین مکہ پر عذاب آ نہیں سکتا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے، اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں ہے کہ آپ کے ہوتے ہوے ان کو عذاب دے (الا نفال : 33) اس لیے اللہ تعالیٰ انکے فرمائشی معجزات کا مطالبہ پورا نہیں فرمایا۔

آپ کو قرآن مجید کا معجزہ کیوں دیا گیا :

اب ایک سوال یہ ہے یہ اللہ تعالیٰ نے سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خصوصیت کے ساتھ قرآن مجید کا معجزہ کیوں عطا فرمایا ؟ اور اس کا جواب یہ ہے کہ ہر نبی کے زمانے میں ان کی قوم کے مخصو ص حالات تھے جن کی بناء پر ان حالات کے منا سب ان کو معجزہ عطا فرمایا گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں سحر اور جادو گری کا چرچا تھا اس لیے ان کو عصا کا معجزہ عطا فرمایا جس کے سامنے تمام جادو گر مات کھا گے انہوں نے جان لیا کہ یہ جادہ نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے برہان ہے، اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں طب کا بہت شہرہ تھا تو حضرت عیسیٰ کو اسی جنس سے معجزہ عطا فرمایا، ہو مردوں کو اللہ تعالیٰ کے اذن سے زندہ کردیتے، مادر زاد اندھوں کو اللہ اذن سے بنا کردیتے اور بر ص میں مبتلا لوگوں کو اللہ کے اذن سے تندرست کردیتے۔ اور سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں زبان دانی کا غلبہ تھا تو اس زمانہ میں فضاحت اور بلاغت کی جنس سے معجزہ چاہیے تھا، اس لیے آپ کو فصاحت وبلا غت کی جنس سے معجزہ عطا کی گیا اور وہ قرآن کریم ہے جس کی فصاحت و بلاغت کا یہ علم ہے کہ تمام جن اور انسان مل کر بھی قرآن مجید کی کسی ایک سورت کی بھی نظیر نہیں لاسکے، اور اب چودہ سو سال سے زیادہ گزر چکے ہیں، علوم وفنون میں بہت ترقی ہوچکی ہے اور السلام کے مخالفین بھی بہت زیادہ ہیں اس کے باوجود اب تک کوئی قرآن مجید کی کسی ایک سورت کی بھی نظیر نہیں لاسکا۔

آپ کے دیگر چند مشہور معجزات :

بعض لوگوں کا یہ گمان ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صرف قرآن مجید کا معجزہ دیا گیا ہے، لیکن ایسا نہیں ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیشمار معجزات عطا کیے گے ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غیب کی خبریں دی ہیں۔ (الا عراف : 188 (کی تفسیر میں ہم نے متعدد کتب احادیث کے حوالوں کے ساتھ پچاس سے زیادہ احادیث بیان کی ہیں، جن میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دی ہوی غیب کی خبریں ہیں اور ہر غیب کی خبر آپ کا معجزہ ہے، اب ہم سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چند مشہور معجزات مستند کتب حد یث کے حو الوں سے بیان کر رہے ہیں۔

حضرت جابربن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ حدیبہ کے دن مسلمانوں کو سخت پیاس لگی ہوئی تھی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ایک چھاگل (پانی کی ڈول) تھی، آپ نے اس سے وضو کیا۔ لوگ آپ کے پاس فریاد کرتے ہوے آئے آپ نے ہوچھا : تمہیں کیا ہوا ؟ انہوں نے کہا ہمارے پاس پانی نہیں ہے، جس کو ہم پی سکیں یا جس ہم وضو کرسکیں اس پانی کے سوا جو آپ کے پاس اس چھا گل میں ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس چھا گل میں اپنا مبارک ہاتھ رکھا تو آپ کی انگلیوں کے درمیان سے اس طرح جوش اور تیزی سے پانی نکلنے لگا جس طرح چشموں سے پانی ابلتا ہے۔ ہم سب نے اس پانی کو پیا اور اس سے وضو کیا۔ راوی نے کہا میں نے پو چھا تمہاری اس وقت کتنی تعداد تھی، حضرت جابر نے کہا اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کا فی ہوجا تا، ہم اس وقت پندرہ سو نفر تھے۔ (صحیح البخاری رقم احدیث :3576، مسند احمد رقم الحدیث : 15322، عالم الکتب بیروت)

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ جن دنوں خندق کھودی جا رہی تھی، میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سخت بھوک کے آثار دیکھے میں اپنی بیوی سے کہا کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ کیونکہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سخت بھوک کے آثار دیکھے ہیں۔ اس نے میرے لیے ایک چرمی تھیلا نکالا جس میں ایک صاع (چارکلو گرام) جو تھے اور ہمارے پاس ایک بکری کا بچہ تھا۔ میں اس کو ذبح کی اور میری اہلیہ نے جو پیسے وہ میر فا رغ ہونے تک اپنے کام سے فا رغ ہوگئی اور میں نے گوشت کی بو ٹیاں دیگچی میں ڈالیں، پھر میں رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں جانے لگا، میری بیوی نے کہا مجھے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور آپ کے اصحاب کے سامنے شرمندہ نہ کرنا، میں آپ کے پاس پہنچا اور میں نے چپکے سے کہا یا رسول اللہ ! ہم نے ایک بکری کا بچہ ذبح کیا ہے اور ہمارے پاس تھو ڑے سے جو تھے ہم ان کو پیس لیا ہے آپ آئیے اور جو اصحاب آپ کے ساتھ ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلند آواز سے فرمایا : اے اہل خندق ! جابر نے ہمارے لیے کھانا تیار کیا ہے، چلو اس کے گھر۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اپنی دیگچی چولہے سے نہ اتار نا اور میرے پہنچنے تک تم اپنے آٹے سے روٹی نہ پکانا نہ شروع کرنا، پس میں گیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی لوگوں کو لے کر پہنچ گے حتی کہ میں اپنی بیوی کے پاس گیا، اس نے کہا یہ تم نے کیا کیا ہے ! میں نے وہی کیا ہے جو تم نے کہا تھا، اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے گندھا آٹا پیش کیا، آپ نے اس آٹے میں اپنا لعاب دہن ڈالا اور برکت کی دعادی، پھر آپ نے ہما ری دیگچی کا قصد کیا اور اس میں اپنا لعاب دہن ڈالا اور برکت کی دعادی، پھر آپ نے فرمایا روٹی پکانے والی کو بلاؤ وہ میرے سامنے روٹیاں پکائے اور اپنی دیگچی سے سالن پیالوں میں ڈالو اور اس کو چولہے سے مت اتار نا۔ اصحاب خندق کی تعداد ایک ہزار تھی، میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ان سب نے کھانا کھا یا اور بقیہ کھانا چھوڑ کر چلے گے اور ہماری دیگچی اس طرح جوش میں تھی اور ہمارے گندھے ہو آٹے سے اسی طرح روٹیاں پک رہی تھیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث 4102، صحیح مسلم رقم الحد یث ؛2039، مسند احمد رقم الحدیث 14269، سنن دارمی رقم الحدیث :239)

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کے دن کھجور کے درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے انصار کی ایک عورت یا مرد نے کہا یا رسول اللہ ! کیا ہم آپ کے لیے مبنر نہ بنادیں۔ آپ نے فرمایا اگر تم چاہو، انہوں نے آپ کے لیے منبر بنادیا۔ اگلے جمعہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر رونق افروز ہوے، کھجور کا وہ تنا اس طرح چیخ چیخ کر رو رہا تھا جس طرح بچہ سسکیاں لے کر روتا ہے جب اس کو تھپکیاں دی جاتی ہیں۔ حضرت جابر نے کہا وہ اس لیے رو رہا تھا کہ وہ اس ذکر کو سنتا تھا جو اس کے پاس کیا جاتا تھا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :3584)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک میں مدینہ میں قحط پڑگیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا : یا رسول اللہ ! گاے۔ بیل اور، مویشی ہلاک ہو گے بکریاں ہلاک ہوگئیں، آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ ہم پر بارش نازل فرماے۔ آپ نے ہاتھ پھیلاے اور دعا کی۔ حضرت انس نے کہا اس وقت آسمان شیشے کی طرح صاف تھا پھر ایک دم ہو چلی اور بادل امنڈ آے پھر بارش ہونے لگی پھر ہم پانی میں چلتے ہوے اپنے گھروں کو پہنچے اگلے جمعہ تک مسلسل بارش ہوتی رہی اور جمعہ کے دوران وہی شخص تھا یا کوئی اور شخص تھا اس کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ ! گھر منہدم ہو گے، آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ اس بارش کو روک لے۔ آپ نے فرمایا (بارش) ہمارے گردوپیش ہو اور ہم پر نہ ہو پھر میں میں نے بادلوں کی طرف دیکھا تو وہ مدینہ کے گرد سے چھٹ گئے تھے۔ (صحیح البخاری رقمالحدیث :3582، سنن النسائی رقم الحدیث 1513)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سفر میں تھے، آپ کے قریب ایک اعرابی آیا، آپ نے اس پو چھا تم کہا جا رہے ہو ؟ اس نے کہا میں اپنے اہل کے پاس جا رہا ہوں۔ آپ نے فرمایا تمہیں کوئی خبر ؟ اس نے پوچھا کیا ؟ آپ نے تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ ایک ہے اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اس کو کوئی شریک نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ؟ اس پو چھا آپ کے اس قول کی کون شہادت دے گا ؟ آپ نے فرمایا یہ درخت ہے، پھر آپ نے اس درخت کو بلایا اور درخت وادی کے ایک کنارے پر تھا، وہ زمین کو چیر تا ہوا آیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کھڑا ہوگیا اور اس نے تین مرتبہ اسی طرح کلمہ شہادت پڑھا جس طرح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کلمہ شہادت پڑھا پھر وہ واپس اپنی جگہ چلا گیا اور وہ اعرابی اپنی قوم کے پاس چلا گیا اور اس نے کہا اگر میری قوم نے میری بات مان لی تو میں اس لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گا ورنہ میں خود آپ کے پاس آؤں گا اور آپ کے پاس ہی رہوں گا۔ المعجم الکبیررقم الحدیث :13582، مسند ابو یعلی رقم الحدیث 5662، مسند البزاررقم الحد یث 2411، حافظ الہیشمی نے کہا اس حدیث کے راوہ، حدیث صحیح کے راوی ہیں)

حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مکہ میں جا رہا تھا۔ ہم اس کی بعض جانبوں کے پاس سے گزرے، راستہ میں جو پہاڑ یا جو درخت آپ کے سامنے آتا وہ کہتا تھا السلام علیک یا رسول اللہ ! ( سنن الترمذی رقم الحدیث :3626، سنن الدارمی رقم الحد یث :21، دلائل النبوہ للبیہقی ج 2 ص 154 ۔ 153 شرح السنہ رقم الحدیث : 3710)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہنے لگا میں کس دلیل سے یہ پہچانوں کہ آپ نبی ہیں ؟ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھجور کے اس خوشہ کو بلایا تو وہ خوشہ درخت سے اترا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آکر گرگیا۔ آپ نے فرمایا لوٹ جا تو وہ خوشہ لوٹ گیا پس وہ اعرابی مسلمان ہوگیا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث 3628، الطبقات الکبری ج 1 ص 182 مسند احمدج 1 ص 223، سنن الداری رقم الحدیث :24، المعجم الکبیر رقم الحدیث :12622، المستدرک ج 1 ص 620، دلائل النبوت للبیہقی ج 6 ص 15 ۔ 16 ۔ مسند ابو یعلی رقم الحدیث :2350، صحیح ابن حبان رقم الحد یث : 6523، دلائل النبوت لابی نعیم رقم الحدیث :297)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات کے متعلق یہ چند احادیث ہیں جن کا ہم نے یہاں ذکر کیا ہے ورنہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ امام بیہقی متو فی 458 ھ نے پانچ جلدوں پر مشتمل ایک کتاب لکھی ہے دلا ئل النبوت جس میں انہوں نے آپ کے معجزات کو جمع کیا ہے۔ امام ابو نعیم متوفی 430 ھ نے حجتہ اللہ علی العالمین کے نام سے ایک بہت ضخیم کتاب لکھی ہے، اس موضوع پر اور بہت کتابیں ہیں۔

معجزہ کی تعریف، معجزہ کی شرائط نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزہ کا دیگر انبیاء (علیہ السلام) کے معجزات سے امتیاز، معجزہ کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اختیار میں ہونا وغیرہ اور معجزہ کے دیگر اہم مبا حث کو ہم نے الا عراف : 101، میں تفصیل سے بیان کیا ہے تبیان القرآن ج 4 ص 236 ۔ 246 ملا حظہ فرمائیں۔

ولکل قوم ھاد میں ھادی کے متعدد محامل :

اس کے بعد اللہ عزوجل کا ارشاد ہے : آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کی ہدایت دینے والے ہیں۔ آیت کے اس حصہ کا معنی یہ ہے کہ مشرکین جو قرآن مجید اور آپ کے دیگر معجزات کا انکار کرتے ہیں اس کی وجہ سے آپ اپنے دل میں رنج محسوس نہ کریں آپ تو صرف ان کو عذاب الہی سے ڈرانے والے ہیں، اور ان کے سینوں میں ایمان کا پیدا کرنا آپ کا منصب نہیں ہے اور نہ یہ آپ کی قدرت میں ہے اور ہر قوم میں ہدایت کو پیدا کرنے والا اللہ عزوجل ہے، آپ کا کام صرف عذاب سے ڈرانا ہے اور ہدایت اللہ کی جانب سے ہے۔ ھادی کی تفسیر میں حسب ذیل اقوال ہیں :

(1) حضرت ابن عباس، سعید بن جبیر، عکرمہ، مجاہد ضحاک، نخعی وغیرہ ہم نے کہا آپ کا کا کم ایمان نہ لا نے پر مشرکین کو صرف اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانا ہے اوار ان میں ہدایت کو پیدا کرنا یہ صرف اللہ کا کام ہے۔

(2) حسن، قتادہ، عطا اور ابن زید نے کہا ھادی سے مراد اسلام کی دعوت دینے والا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، اور آیت کا معنی ہے ہر قوم کا ایک نبی ہوتا ہے جو ان کو عذاب سے ڈراتا ہے۔

(3) عکرمہ اور ابوالضحی نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی ھادی ہیں اور معنی یہ ہیں : آپ ڈرانے والے ہیں اور ہدایت دینے والے ہیں۔

(4) اسماعیل بن ابی خالد، ابو صالح، ابو العالیہ اور ابو رافع نے کہا ہے کہ ھادی سے مراد قائد اور امام ہے یعنی آپ صرف عذاب سے ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم ایک قائد اور امام ہوتا ہے، ابو العالیہ نے ھادی کی تفسیر عمل کے ساتھ کی ہے۔

(5) سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی انما انت مندرولکل قوم ھاد تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کی طرف اشارہ کرکے فرمایا : اے علی ! تم ھادی ہو، میرے بعد تم سے ہدایت پانے والے ہدیت پائیں گے۔ (جامع البیان جز 13 ص 140 ۔ 142، تفسیر ابن حاتم ج 7 ص 2226 ۔ 2224، زادالمیرج 4 ص 307)

حضرت علی (رض) کو اس آیت کا مصداق قرار دینے کی تحقیق :

یہ آخری روایت غایت درجہ کی صعیف ہے، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن حسین انصاری کو فی ہے، حافظ شمس الدین محمد بن احمد الذہبی المتوفی 748 ھ اس کے متعلق لکھتے ہیں :

امام ابو حاتم نے کہا الحسن بن الحسین انکے نزدیک سچا نہیں ہے۔ یہ رؤساء شیعہ میں سے تھا۔ امام ابن عدی نے کہا اس کی حد یث ثقات کی احایث کے مشابہ نہیں ہے۔ امام ابن حبان نے کہا یہ اثبات (ثقات) سے ملز قات (مشتبہات) کو روایت کرتا تھا اور مقلوبات کو روایت کر رہا تھا (متن اور سند کو الٹ کردیتا تھا) المسعود نے کہا اس کی روایت حجت نہیں ہے (میزان الا عتدال ج 2، ص 230 ۔ 231، مطبو عہ دارلکتب العلمیہ بیروت : 1416 ھ)

امام عبدالر حمان بن محمد جو زی متوفی 597 ھ نے لکھا ہے یہ حدیث رافضیوں کی موضوعات میں سے ہے۔ (زادلمیر ج 2، ص 307، مطبو عہ المکتب الاسلامی بیروت، 1407 ھ)

حافظ ابن کثیر متوفی 774، ھ نے اس حدیث کو امام جریر کی سند سے ذکر کر کے بعد لکھا ہے اس میں شدید نکارت ہے۔ ( تفسیر ابن کثیرج 2 ص 555، مطبو عہ دارالفکر بیروت : 1419)

علامہ ابولحیان محمد بن یوسف اندلسی متوفی 754 ھ لکھتے ہیں :

ایک فرقہ نے کہا کہ ھادی حضرت بن ابی طالب (رض) ہیں، اگر حضرت ابن عباس (رض) کی طرف منسوب یہ روایت صحیح ہو تو اس کا محمل یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس امت کے علماء اور دین کی طرف ہدایت دینے والوں کے لیے حضرت علی (رض) کو نمو نہ قرار دیا ہے گو یہ کہ آپ نے یوں فرمایا اے علی ! تمہاری یہ صفت ہے تاکہ ھادی کے عموم میں حضرت ابو بکر، حضرت عثمان اور تمام علماء صحابہ (رض) داخل ہوجائیں اور اسی طرح ہر زمانہ کے علماء داخل ہوجائیں اور اس صورت میں آیت کا معنی اس طرح ہوگا : اے محمد ! ( (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) آپ آپ صرف ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کے لیے خواہ وہ مقدم ہو یامو خر، خیر کی طرف ہدایت دینے والے ہوتے ہیں۔ (البحر المحیط ج 6 ص 355، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1412 ھ)

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متو فی 852 ۔ ھ لکھتے ہیں :

اگر یہ روایت ثابت ہو تو لکل قوم ھاد میں سے مضصوص قوم مراد ہے یعنی بنو ہا شم، اور امام ابن حاتم نے اپنی سند کے ساتھ حضرت علی (رض) سے ورایت کیا ہے کہ الھادی بنو ہاشم کا ایک مرد ہے۔ (تفسیرامام بن ابع حاتم رقم الھدیث :12152، ) اور اس کے بعض راویوں نے کہا اس مرد سے مراد حضرت علی ہیں، اس ان دونوں روایتوں کی اسناد میں بعض شعیہ ہیں، اگر یہ روایت ثابت ہوتی تو اسکے راویوں میں اختلاف نہ ہوتا۔ (فتح الباری ج 8 ص 376، مطبو عہ لاہور، 1401 ھ)

حضرت علی کو خلیفہ بلا فصل قرار دینے کی دلیل کا جواب :

علامہ سید محمود آلوسی متوفی 1270 ھ لکھتے ہیں :

امام عبداللہ بن احمد نے زوائد مسند میں امام ابن ابی حاتم نے اپنے تفسیر میں امام طبرانی نے المعجم الا وسط میں حاکم نے امستدرک میں صحت اسناد کے ساتھ اور امام ابن عسا کرنے حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہ سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ حضرت علی نے فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عذاب سے ڈرانے والے ہیں اور میں ہادہوں اور ایک روایت میں کہ الھادی بنو ہاشم کا یک مرد ہے یعنی وہ خو د۔

اس روایت سے شیعہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت علی (رض) خلیفہ بلا فصل ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ ہم اس حدیث کی صحت کو تسلیم نہیں کرتے اور اہل علم کے نزدیک حاکم کی تصحیح کا اعتبار نہیں ہے اور اس آیت میں اس مطلوب پر کسی وجہ سے دلیل نہیں ہے زیادہ سے زیادہ کہ جاسکتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ہدایت پانے والے حضرت علی کم اللہ وجہ الکریم سے ہدیت پائیں گے اور یہ مرتبہ ارشاد ہے اور یہ چیز اور ہے اور خلاف اور چیز ہے۔

بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ اگر یہ حدیث صحیح ہو تو یہ خلفاء ثلاثہ کی خلافت کی صحت پر دلیل ہے، کیونکہ جب حضرت علی (رض) حق اور ہدایت کا نمو نہ اور معیار قرار پاے اور انہوں نے جس کام کو کیا اور جس کام کو ترک کیا، اس سب میں ہدایت اور حق ہے تو حضرت علی (رض) نے خوشی سے ان خلفاء کی بعیت کی اور ان کی تعریف و تحسین فرمائی اور انکی خلافت پر کوئی اعتراض نہیں کیا لہذا حضرت علی (رض) کی اقتداء کرنا اور اس معاملہ میں ان کے طریقہ کی پیروی کر نالازم ہے، اور اس کے خلاف کو ثابت کرنا اپنے آپ کو کانٹوں سے زخمی کرنا ہے، اس کے بعد علامہ آلو دی نے علا مہ ابو لحیان اندلسی کی عبارت نقل کی ہے۔ علامہ ابو الحیان اندلسی کی عبادت کا تقاضا یہ ہے کہ انہوں نے ھادی کو حضرت علی میں منحصر نہیں کیا بلکہ اس کو عام قرار دیا ہے اور ان کے عموم کی تائید میں یہ حدیث ہے۔

حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ سلی علی وسلم نے فرمایا : میں (ازخود) نہیں جانتا کہ میری بقائم میں کب تک ہے ؟ پس تم ان لوگوں کو اقتداء کرنا جو میرے بعد ہیں، آپ نے ابوبکر اور عمر کی طرف اشارہ کیا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :3663، الطبقات الکبرای ج 2 ص 334، مسند احمد ج 5، ص 399، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :6902)

اور اس کے علاوہ اور احادیث ہیں جن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی کے علاوہ دوسرے اصحاب کو بھی ھادی فرمایا ہے : (مثلا یہ حدیثیں ہیں)

حضرت عبدالرحمن بن عمیرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! معاویہ کو ھادی اور مہدی بنا اور ان کے سبب سے ہدایت دے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :3842، الطبقات الکبری ج 7، ص 418، مسند احمد ج 4، ص 207، تاریخ بغداد ج 1، ص 207، حلیتہ الاولیاء ج 8، ص 358، المعجم الا وسط رقم الحدیث :660، الاحادیث الصحیحہ الالبانی رقم الحدیث :3018)

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے اپنے رب سے میرے بعد میرے اصحاب کے اختلاف کے متعلق سوال کیا تو میری طرف یہ وحی کی گئی اے محمد ( (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) آپ کے اصحاب میرے نزدیک آسمان کے ستاروں کی طرح ہیں، ان میں سے بعض، بعض دوسروں ` سے قوی ہیں اور ان میں ہر ایک کے لیے نور ہے، پس جس شخص نے ان کی باہمی اختلاف کے باوجود جس کے قول پر بھی عمل کی وہ ہدایت پر ہوگا، اسر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے تمام اصحاب ستاروں کی ماند ہیں تم نے ان میں سے جس کی بھی اقتداء کی تم ہدایت پالو گے ! اس حدیث کو زرین نے روایت کیا ہے۔ (مشکات المصابیح رقم الحدیث : 6018، مطبو عہ دارارقم بیروت)

اس بحث کی اخیر میں علامہ آلوسی لکھتے ہیں : اور میرا گمان یہ ہے کہ تم حضرت ابن عباس کی طرف منسوب اس روایت کی تاویل کرنے میں اپنے ذہن کو مشقت میں نہیں ڈولو گے اور تمہارے لیے یہ کافی کہ تم اس حدیث کے صحیح نہ ہونے کی وجہ سے اس کو قبول نہیں کرو گے اور قرآن کریم کی اس آیت میں اس روایت کی کوئی تائید نہیں ہے۔ (روح المعانی جز 13 ص 154 ۔ 155 مطبو عہ دارالفکر بیروت :1417 ھ)

علماء شیعہ نے اس آیت سے یہ استدلال بھی کیا ہے کہ ہر زمانہ میں امام کا ہونا ضروری ہے، اس کا تفصیلی بیان البقرہ : 124، میں ملا حظہ فرمائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 7