أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ اِنۡ تَعۡجَبۡ فَعَجَبٌ قَوۡلُهُمۡ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِىۡ خَلۡقٍ جَدِيۡدٍ  ؕ اُولٰۤئِكَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ‌ۚ وَاُولٰۤئِكَ الۡاَغۡلٰلُ فِىۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ‌ۚ وَاُولٰۤئِكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ‌ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اگر تم تعجب کرو تو باعث تعجب تو ان کا یہ قول ہے کیا ہم مٹی ہوجانے کے بعد ازسرنو پیدا ہوں گے ؟ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا، یہی وہ لوگ ہیں جب کی گردنوں میں طوق ہوں گے، اور یہی دوزخی ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر تم تعجب کرو تو باعث تعجب تو ان کا قول ہے کی ہم مٹی ہوجانے کے بعد ازسر نو پیدا ہوں گے ؟ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی دوزخی ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ (الرعد : 5) 

تعجب اور اغلال کا معنی : 

ان تعجب : یعنی اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کفار پر تعجب کرتے ہیں کہ وہ بتوں کی پرستش کرتے ہیں جو ان کو نقصان پہنچاسکتے ہیں اور نہ ہی نفع پہنچاسکتے ہیں ! اس سے زیادہ تعجب خیز بات یہ ہت کہ کہ آخرت کا انکار کرتے ہیں اور مردہ دوبارہ اٹھنے کی تکذیب کرتے ہیں۔ عادتا غیر مستبعد اور غیر توقع اور خلاف معمول چیز کو دیکھ کر ذہن میں جو کیفیت پیدا ہوتی ہے اس کو تعجب کہتے ہیں، اس پر یہ اعتراض ہواتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو اس سے پاک ہے وہ کسی چیز پر تعجب کرے، کیونکہ تعجب تو اس کو ہوگا جس کو حقیقت حالکا علم نہ ہو اور اللہ کو ہر چیز کا علم ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ مشرکین جو آخرت کا انکار اور اس کی تکذیب کرتے ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے باعث تعجب ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے۔ 

الا غلال : غل کی جمع ہے، گر دن میں لو ہے کا کڑا ڈال دیا جاتا ہے یا لو ہے کے کڑے سے ہاتھوں کو گردن سے جکڑدیتے ہیں، اس کو غل کہتے ہیں، اس کے معنی طوق ہے۔

انکار حشر کا کفر ہونا اور اس کی سزا : 

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کی نشانیوں سے اپنے وجود اور اپنی توحید پر استدلال فرمایا، تاکہ یہ معلوم ہو کہ جو ذات اس پر قادر ہے کہ اتنی عظیم چیزوں کو پیدا کرے اس کے لیے یہ کیا مشکل ہے کہ وہ انسان کو مر نے کے بعد زندہ کر دے، کیونکہ جو زیادہ قوی اور زیادہ کامل چیز پر قادر ہو وہ ضعیف اور ناقص چیز پر بطریق اولی قادر ہوگا ! جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : 

أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ( الاحقاف : ٣٣) کیا انہوں نے یہ نہیں سمجھا کہ جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے اور ان وہ ان کو پیدا کرنے سے تھکا نہیں ! اہ مردوں کو زندہ کرنے پر (ضرور) قادر ہے، کیوں نہیں ! بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ان منکرین پر تین حکم لگاے۔ پہلا حکم یہ لگا یا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا۔ اسی طرح انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا انکار کی اور انہوں نے اپنے عناد اور گمراہی میں سرکشی کی اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ جس نے قیامت کا اور مر کر دوبارہ اٹھنے کا انکار کیا وہ کافر ہے۔

دوسرا حکم یہ لگا یا یہی وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہو گے۔ ابوبکر الا صم نے کہا کہ طوق سے مراد مجاز ہے یعنی ان کا کفر، ان کی ذلت اور ان کا بتوں کی پرستش کرنا، یعنی یہ ذلت انکے ساتھ اس طرح چمٹ گئی ہے جیسے گلے میں طوق جکڑا ہوا ہوتا ہے لیکن یہ تفسیر صحیح نہیں ہے، یہاں پر مجمول کرنے سے کیا چیز مانع ہے جبکہ طوق کے حقیقی معنی مراد ہونے پر یہ آیت دلیل ہے :

إِذِ الأغْلالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلاسِلُ يُسْحَبُونَ (٧١) فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ ( المو من : ٧٢) جب ان کی گردنوں میں طوق اور زنجیر ہوں گے اور ان کو کھو لتے ہو پانی میں گھسیٹا جاے گا، پھر وہ بھڑکتی ہو ی) آگ میں جھو نک دیے جائیں گے۔ 

اور ان پر تیسراحکم یہ لگا یا کہ وہ دوزخی ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہے گے۔ اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ دوزخ کا دائمی عذاب ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 5