قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ ۚۖ-وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ(۱۰۴)

تم فرماؤ اے لوگو اگر تم میرے دین کی طرف سے کسی شبہ میں ہو تو میں تو اسے نہ پوجوں گا جسے تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۲۱۵) ہاں اس اللہ کو پوجتا ہوں جو تمہاری جان نکالے گا (۲۱۶) اور مجھے حکم ہے کہ ایمان والوں میں ہوں

(ف215)

کیونکہ وہ مخلوق ہے عبادت کے لائق نہیں ۔

(ف216)

کیونکہ وہ قادرِ مختار ، الٰہِ برحق ، مستحقِ عبادت ہے ۔

وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًاۚ-وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ(۱۰۵)

اور یہ کہ اپنا منہ دین کے لیے سیدھا رکھ سب سے الگ ہوکر (ف۲۱۷) اور ہرگز شرک والوں میں نہ ہونا

(ف217)

یعنی مخلص مومن رہو ۔

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَۚ-فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ(۱۰۶)

اور اللہ کے سوا اس کی بندگی نہ کر جو نہ تیرا بھلا کرسکے نہ برا پھر اگر ایسا کرے تو اس وقت تو ظالموں سے ہوگا

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَۚ-وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖؕ-یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖؕ-وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ(۱۰۷)

اور اگر تجھے اللہ کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا کوئی ٹالنے والا نہیں اس کے سوا اور اگر تیرا بھلا چاہے تو اس کے فضل کے رد کرنے والا کوئی نہیں (ف۲۱۸) اسے پہنچاتا ہے اپنے بندوں میں جسے چاہے اور وہی بخشنے والا مہربان ہے

(ف218)

وہی نفع و ضَرر کا مالک ہے ، تمام کائنات اسی کی محتاج ہے ، وہی ہر چیز پر قادِر اور جود و کرم والا ہے ۔ بندوں کو اس کی طرف رغبت اور اس کا خوف اور اسی پر بھروسہ اور اسی پر اعتماد چاہیئے اور نفع و ضَرر جو کچھ بھی ہے وہی ۔

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْۚ-فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَاۚ-وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ(۱۰۸)

تم فرماؤ اے لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آیا (ف۲۱۹) تو جو راہ پر آیا وہ اپنے بھلے کو راہ پر آیا (ف۲۲۰) اور جو بہکا وہ اپنے برے کو بہکا(ف۲۲۱) اور کچھ میں تم پر کڑوڑا(نگہبان)نہیں (ف۲۲۲)

(ف219)

حق سے یہاں قرآن مراد ہے یا اسلام یا سیدِ عالَم علیہ الصلٰوۃ و السلام ۔

(ف220)

کیونکہ اس کا نفع اسی کو پہنچے گا ۔

(ف221)

کیونکہ اس کا وبال اسی پر ہے ۔

(ف222)

کہ تم پر جبر کروں ۔

وَ اتَّبِـعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ ۚۖ-وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠(۱۰۹)

اور اس پر چلو جو تم پر وحی ہوتی ہے اور صبر کرو (ف۲۲۳) یہاں تک کہ اللہ حکم فرمائے (ف۲۲۴) اور وہ سب سے بہتر حکم فرمانے والا ہے (ف۲۲۵)

(ف223)

کُفّار کی تکذیب اور ان کی ایذا پر ۔

(ف224)

مشرکین سے قتال کرنے اور کتابیوں سے جزیہ لینے کا ۔

(ف225)

کہ اس کے حکم میں خطا و غلط کا احتمال نہیں اور وہ بندوں کے اسرار و مخفی حالات سب کا جاننے والا ہے ، اس کا فیصلہ دلیل و گواہ کا محتاج نہیں ۔