أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

‌وَيُسَبِّحُ الرَّعۡدُ بِحَمۡدِهٖ وَالۡمَلٰۤـئِكَةُ مِنۡ خِيۡفَتِهٖ ‌ۚ وَيُرۡسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيۡبُ بِهَا مَنۡ يَّشَآءُ وَهُمۡ يُجَادِلُوۡنَ فِى اللّٰه‌ۚ ِ وَهُوَ شَدِيۡدُ الۡمِحَالِؕ ۞

ترجمہ:

بادل پر معین فرشتہ اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتا ہے اور باقی فرشتے بھی اس کے خوف سے (تسبیح کرتے ہیں) اور وہی گرجنے والی بجلیاں بھیجتا ہے، پھر ان بجلیوں کو گرا دیتا ہے درآں حالیکہ وہ اللہ کے متعلق جھگڑ رہے ہوتے ہیں اور سخت گرفت کرنے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بادہ پر معین فرشتہ اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتا ہے اور باقی فرشتے (بھی) اس کے خوف سے (حمد اور تسبیح کرتے ہیں) اور وہی گرجنے والی بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے ان بجلیوں کو گرا دیتا ہے، درآں حالیکہ وہ اللہ کے متعلق جھگڑ رہے ہوتے ہیں اور سخت گرفت کرنے والا ہے۔ (الرعد : 13) 

الرعد اور الصواعق کے معانی اور جھگڑانے والوں کا بیان : 

رعد اس آواز کو کہتے ہیں جو اجسام سماویہ کی رگڑ کی وجہ سے بادل کی درمیان سے سنائی دیتی ہے، یعنی جب وہ بادل ٹکراتے ہیں اور ان کی رگڑ سے ہوا جل جاتی ہے تو اس سے گرج اور چمک پیدا ہوتی ہے۔ 

امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی 279 ھ پنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کے یہود آے اور انہوں نے کہا اے ابوالقاسم  ! ہمیں بتاءیے کہ رعد کی چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ ایک فرشتہ ہے جس کو بادل کے اوپر مقرر کیا گیا ہے اس کے پاس آگ کا ایک کوڑا ہے وہ اس سے جہاں اللہ چاہتا ہے بادل کو ہنکاتا ہے۔ انہوں نے پوچھا او یہ آواز جو ہم سنتے ہیں یہ کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا جہاں بادل کو لے جانے کا حکم دیا ہو وہاں لے جانے کے لیے فرشتہ جب بادل کو کوڑا مارتا ہے تو یہ اس کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا آپ نے سچ کہا۔ الحد یث۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (سنن الترمذیرقم الحدیث : 3117، مسند احمد ج 1، ص 274، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث :5445، المعجم الکبیررقم الحدیث :12429، حلیتہ الاولیاء ج 4، ص 304) 

الصواعق۔ الصاعقہ کی جمع ہے۔ صاعقہ فضاء آسمان کی گڑگڑاہٹ کو کہتے ہیں اور کبھی اس عظیم آگ کو صاعقہ کہتے ہیں جو بارش اس بجلی چمکنے کے دوران زمین کی طرف نازل ہوتی ہے۔ عرف میں اس کو بجلی گرنا کہتے ہیں یہ اس وقت ہوتا ہے جب بادل زمین کے قریب ہوتے ہیں جس چیز پر یہ آگ گرتی ہے اس کو جلا ڈالتی ہے۔ 

علامہ واحدی نے اس آیت کے شان نزول میں عامر بن الطفیل اور اربد بن ربیعہ کا واقعہ ذکر کیا ہے یہ واقعہ ہے جس کا ہم نے اس سورت کے تعارف میں ذکر کیا ہے۔ (اسباب النزول للواحدی رقم الحدیث :547، ) علامہ قرطبی نے بھی اس آیت کے شان نزول میں اس وقعہ کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ اربد بن ربیعہ پر بجلی گرائی گئی تھی۔ (الجامع لاحکام القرآن جز 9، ص 258) 

اس آیت میں فرمایا ہے وہ اللہ کے متعلق جھگڑ رہے ہوتے ہیں۔ امام ابو لحسن علی بن احمد واحدی متوفی 468 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ عرب کے متکبرین میں سے ایک شخص کے پاس ایک آدمی بھیجا اور فرمایا اس کو میرے پاس لاؤ اس نے کہا یا رسول اللہ ! وہ اس سے تکبر کرے گا آپنے فرمایا تم جاؤ اس کو بلا لاؤ وہ شخص اس کے پاس گیا اوارکہا تم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بلا رہے ہیں۔ اس نے کہا اللہ کیا چیز ہے ؟ کیا وہ سونے کا ہے یا وہ چاندی کا ہے یا وہ پیتل کا ہے ؟ وہ شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس آگیا اور آپ کو بتایا اس نے کیا کہا ہے اور کہا میں نے پہلے عرض کیا تھا وہ تکبر کرے گا۔ آپ نے فرمایا جاؤ اس کو دوبارہ بلاؤ۔ وہ دوبارہ گیا۔ اس متکبر شخص نے پھر اسی طرح کہا۔ وہ پھر لوٹ آیا اور آپ کو بتایا کہ اس نے کیا کہا ہے آپ نے اس کو پھر تیسری بار بھیجا اس نے پھر اسی طرح کہا اور جس وقت وہ یہ کہہ رہا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کے سر کے اوپر بجلی گرادی اور پھر یہ آیت نازل فرمائی : اور وہی گرجنے والی بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے ان بجلیوں کو گرا دیتا ہے درآ حالیکہ وہ اللہ کے متعلق جھگڑ رہے ہوتے ہیں، ( اسباب النزول للواحدیص 546، جامع البیان رقم الحدیث :15388، مسند البزاررقم الحدیث :2221، مجمع الزواء د ج 7 ص 279) مسند ابو یعلی رقم الحدیث :3341، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث :11259) 

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ آیت دونوں کے متعلق نازل ہوئی ہو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 13