اقلیت اور غیر مسلم میں فرق

(اندھے مقلدوں کیلئے)

اس چیز کو سمجھنے کی ضرورت ہے اقلیت غیر مسلم کو نہیں کہا جاتا۔ کسی بھی ملک میں جس مذہب کے پیروکار کم تعداد میں ہوں ان کو اقلیت کہا جاتا ہے۔ جیسے مسلمان یورپ میں اقلیت ہیں اور انھیں اقلیت کہلانے پر کوئی اعتراض نہیں۔ اسی طرح قادیانی پاکستان میں اپنے آپ کو خوشی خوشی اقلیت کہلوائیں گے کیونکہ ان کے عقیدہ کے مطابق جو مرزے کو نبی نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں لہذا پاکستان کی اکثریت مسلمان نہ رہی اور وہ اقلیتی مسلمان بن گئے۔ قوم کو یہ گولی دینے کی کوشش نہ کریں کہ وہ اپنے آپ کو اقلیت تسلیم کر رہے ہیں لہذا یہ فلاں کی بڑی کامیابی ہے؟ حقیقت میں وہ کامیابی نہیں دھوکہ سے ذلت قبول کرنے والا ہے یا دھوکہ دے ریا ہے۔ کامیابی تب ہے کہ وہ ان سے اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرالے۔ جو انھوں نے کبھی کرنا نہیں۔

اگر وہ تسلیم کر لیتے ہیں تو پھر بھی انھیں وہ تمام حقوق دینے ہمت حکومت نہ کرے جو ہر اقلیت کے حق کے مطابق عیسائیوں اور یہودیوں وغیرہ کو اسلام نے دیے ہیں۔

اگر خان صاحب واقع ہی انھیں ان کا اصل حق دینا چاہتے ہیں تو پھر ریاست مدینہ کے پہلے خلیفہ کی حکومت کے دور کا مطالع فرمائیں کہ انھوں نے یہودیوں، عیسائیوں کو تو بطور ذمی شہری کیا حقوق دیئے۔ اور دوسری طرف مرزا کے مرشد مسیلمہ اور اس کے پیروکاروں کو ان کا کون سا اصل حق دیا تھا۔

پھر ایک یمامہ آپ کی منتظر ہے۔

تحریر: جگر گوشہ مصلح امت علامہ سید حبیب الحق شاہ صاحب کاظمی