أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الۤرٰ‌ ۚكِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ اِلَيۡكَ لِـتُخۡرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ  ۙ بِاِذۡنِ رَبِّهِمۡ اِلٰى صِرَاطِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِۙ ۞

ترجمہ:

الف لام را یہ وہ کتاب ہے جس کو ہم نے آپ کی طرف نازل فرمایا، تاکہ آپ ان کے رب کی تو فیق سے لوگوں کو کفر کے اندھیروں سے (اسلام کی) روشنی کی طرف لائیں۔ اس کے راستے کی طرف جو بہت غالب، بہت تعریف کی ہوا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الف لام را یہ وہ کتاب ہے جس کو ہم نے آپ کی طرف نازل فرمایا، تاکہ آپ ان کے رب کی توفیق سے لوگوں کو (کفر کے) اندھیروں سے (اسلام) کی روشنی کی طرف لائیں اس کے راستے کی طرف جو بہت غالب بہت تعریف کیا ہوا ہے۔ (ابراھیم : 1) 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قرآن مجید کی تلاوت سے لوگوں کو مسلمان کرنا : 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے محمد ! ( (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) ہم نے آپ پر یہ قرآن کریم نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو کفر، گمراہی اور جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ایمان، ہدایت اور علم کی روشنی میں لے آئیں اللہ تعالیٰ کی تو فیق اور اس کے لطف سے صراط مستقیم کی طرف، اور اس سے مراد ہے دین اسلام جس کو اس نے پسند کرلیا ہے اور اپنی تمام مخلوق کے لیے اس کو مشروع کردیا ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہدایت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی اجازت اور توفیق سے مقید فرمایا ہے اور اس میں یہ بتایا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ذات اور اپنی طاقت سے کسی مومن اور مسلمان بنانے پر قادر نہیں ہیں، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پورے جزیرہ عرب میں کوئی کافر نہ رہتا، اس لیے وہی ایمان اور اسلام قبول کرتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ ایمان اور اسلام کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ اس آیت میں فرمایا ہے اس کتاب کو نازل کرنے کی وجہ سے آپ اپنے رب کی توفیق سے لوگوں کو کفر سے اسلام کی طرف لائیں بایں طور پر کہ آپ لوگوں پر اس کتاب کی آیات کو تلاوت کریں تاکہ لوگ اس کتاب کی آیات میں غور وفکر کریں اور اس میں مذکور دلائل سے یہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ عالم، قادر اور حکیم ہے اور قرآن کریم کے معجزہ ہونے کو پہچانیں تاکہ ان پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دعوی نبوت کا صدق منکشف ہو اور وہ آپ کی نبوت پر ایمان لے آئیں اور جب وہ آپ پر ایمان آئیں گے تو آپ ان کو جو بھی شرعی احکام دیں گے وہ ان احکام کو مانیں گے اور ان پر عمل کریں گے۔

اللہ تعالیٰ کے اذن اور اس کی توفیق وضاحت : 

ہماری اس تقریر سے یہ ظاہر ہوگیا ہے بندہ کے ایمان لانے میں دو چیزوں کا دخل ہے ایک ہے بندوں کا قرآن مجید کی ان آیات میں اور اسلام کی حقانیت میں غور و فکر کرنا اور دوسری چیز ہے اللہ تعالیٰ کی تو فیق، سو جب اللہ تعالیٰ توفیق دیتا ہے تو بندہ ان آیات سے صحیح نتیجہ پر پہچنتا ہے اور جب اس کی تو فیق شامل حال نہیں ہوتی تو وہ ان ہی آیات سے غلط نتیجہ اخذ کرتا ہے اور بھٹک جاتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ جب اللہ تعالیٰ کے توفیق نہ دینے کی وجہ سے کوئی شخص بھٹک گیا اور ایمان نہ لاسکا تو اس میں بندہ کا کیا قصور ہے ! اس کا جواب یہ ہے کہ توفیق کا معنی ہے کسی نیکی اور خیر کے اسباب کو مہیا کردینا، اللہ تعالیٰ ن ہر انسان میں یہ استعداد اور صلاحیت رکھی ہے کہ وہ عقل سلیم سے کام لے کر اچھائی اور برائی اور نیکی اور بدی میں تمیز کرسکے اسی استعداد اور صلاحیت کو فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں یا مجو سی بنا دیتے ہیں۔ الحدیث۔ صحیح البخاری رقم الحدیث :1385، سنن ابو داؤد رقم الحدیث :4714 مسند احمد رقم الحدیث 7181) 

اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

أَلَمْ نَجْعَلْ لَهُ عَيْنَيْنِ (٨) وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ (٩) وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ ( البلد : ١٠) کیا ہم نے انسان کی دو آنکھیں نہیں بنائیں۔ اور وہ زبان اور دوہونٹ۔ اور ہم نے اسے (نیکی اور بدی کے) دونوں واضح راستے دکھا دئیے۔ 

وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا (٧) فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا (٨) قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا (٩) وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا ( الشمس : ١٠) نفس کی قسم اور اس کی جس نے اس کو درست بنا یا۔ پھر اس کو کی بد کرداری اور پرہیزگاری کو سمجھادیا۔ جس نے نفس کو پاکیزہ کیا وہ کامیاب ہوگیا۔ اور جس نے اس گناہوں سے آلودہ کیا وہ ناکام ہوگیا۔ 

اس حدیث اور قرآن مجید کی ان ایات سے واضع ہوگیا کہ اللہ تعال نے انسان کو عقل اور فہہم دی ہے اور حق اور باطل کے ادراک کرنے کی صلاحیت عطا کی ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کی توحید پر جو دلائل قائم کیے تھے اور پنی رسلات کے ثبوت میں جو معجزاہ پیش کیے تھے وہ بھی ان سامنے تھے اور ان کے آباؤواجداد کا جو بت پرستی کا طریقہ تھا وہ بھی ان کے سامنے تھا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین کا برحق ہونا اور ان کے آباؤواجداد کے طریقہ کا باطل ہونا ان پر واضع ہوچکا تھا، لیکن جن لوگوں کے دل و دماغ پر اپنے آباؤواجداد کی تقلید کی گہر چھاپ لگی ہوئی تھی، انہوں نے اسی طریقہ پر کار بند رہنے کا رادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان میں اسی گمراہی کو پیدا کردیا اور جن لوگوں نے اس طریقہ کے بطلان کے منکشف ہونے کے بعد قدیم جاہلیت کو ترک کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان میں اسلام اور ایمان کو پیدا کردیا اور یہی اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے، اور اللہ تعالیٰ کے اذن سے مراد یہ ہے کہ جو اسلام قبول کرنے کا ارادہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اسلام قبول کرنے کا راستہ سہل اور آسان کردیتا ہے اور اسلام لانے کے اسباب اس کو مہیا اور میسر کردیتا ہے۔ 

جس کے اسلام لانے کا اللہ تعالیٰ نے اذن نہیں دیا اس کے اسلام نہ لانے میں اس کا کیا قصور ہے ؟ 

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اذن سے مراد یہ ہو کہ جب انسان کفر کی ترغیبات اور اسلام کے دلائل میں غور کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں اسلام قبول کرنے کی تحریک اور داعیہ پیدا کرتا ہے، بعض انسان اس تحریک کی وجہ سے اسلام قبول کر لیت ہیں اور یہی اللہ تعالیٰ کا اذن ہے اور بغض انسانوں پر آباؤ و اجداد کی تقلید غالب آجاتی ہے اور وہ کفر پر قائم رہنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان میں کفر اور گمراہی پیدا کردیتا ہے۔ 

بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے مراد اس کا علم یا اس کارادہ ہے، بہر حال ہم نے جو تقریر کی ہے اس سے یہ اعتراض دور ہوجا تا ہے کہ جب ایمان وہی لو گو لاتے ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ کا اذن ہوتا ہے تو کفار کا ایمان نہ لانا اس وجہ سے تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان لانے کا اذن نہیں دیا تھا پس اگر وہ ایمان نہیں لائے تو اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے پھر ان کو کفر پر دنیا میں ملامت کیوں کی جاتی ہے اور آخرت میں ان کو عذاب کیوں دیا جائے گا اور اس اعتراض کے دور ہونے کے وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب انسانوں پر حق اور باطل دلائل واضع کر دئیے اور انک کی عقل میں یہ صلاحیت رکھی کہ وہ حق کو باطل پر ترجیح دے سکیں اور سب کو ایمان لانے کے مواقع فراہم کیے بعض لوگوں نے ان مواقع سے فائدہ نہیں اٹھا یا اور کفر پر قائم رہنے کا ارادہ کیا سو اللہ تعال نے ان کے حق میں کفر پیدا کردیا اور بعض لوگوں نے ان مواقع سے فائدہ اٹھایا اور ایمان لانے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ ن ان کے لیے اسلام لانے کے اسباب مہیا کر دئیے اور ان کے لیے اسلام قبول کرنے کو سہل اور آسان کردیا۔ 

اسلام کی نشر و اشاعت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلم سے ہوئی یا دلائل سے : 

اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو کفر سے اسلام کی طرف لاتے ہیں اس سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیم کے بغیر اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل نہیں ہوتی اوارماما رازی نے یہ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت صرف دلیل سے حاصل ہوتی ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف متوجہ اور متفیہ کرنے والے ہیں۔ تاہم تحقیق یہ ہے کہ جو چیز جز یرہ عرب کے لوگوں کے اسلام لانے کا باعث بنی وہ سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بےداغ، پاکیزہ اور نے مثال سیرت ہے، جو لوگ آپ کی شخصیت اور آپ کی سیرت کو جس قدر قریب سے دیکھنے والے تھے وہ اس قدر جلد مسلمان ہوگئے اور جن لوگوں نے آپ کی شخصیت اور آپ کی سیرت کو جتنی دیر سے دیکھا وہ اس قدر دیر سے مسلمان ہوئے، اور صرف دلائل کافی نہیں تھے ورنہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی صفات پر دلائل تو ہمیشہ سے موجود ہیں، اصل چیز نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیم تھی اور آپ کا فیضان نظر تھا، یہ بات ہے کہ بعض محققین نے آپ کی تعلیم کو تنبیہہ سے تعبیر کرلیا۔ 

العزیزالحمید کا معنی : 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے العزیز الحمید، العزیز کا معنی بہت غالب، اس کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا عالم ہو اور ہر چیز پر قادر ہو، ورنہ جس چیز کا اسے علم نہیں ہوگا یا جس چیز پر اسے قدرت نہیں ہوگی وہ اس پر غالب نہیں ہوگا، اور الحمید کا معنی ہے وہ اپنے ہر فعل پر حمد کا مستحق ہو اور جو اپنے ہر فعل پر حمد کا مستحق ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر ایک سے اور ہر چیز سے مستغنی ہو، اس سے معلوم ہوا کہ جو عزیز حمید کا راستہ ہے وہی سب سے اعلی اور اشراف راستہ ہے اور وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو صراط مستقیم کہا جائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراهيم آیت نمبر 1