أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَللّٰهُ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيَقۡدِرُ‌ؕ وَفَرِحُوۡا بِالۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ؕ وَمَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا فِى الۡاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۞

ترجمہ:

اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کو کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کرتا ہے اور کافر دنیا کی زندگی سے پہت خوش ہیں اور دنیا کی زندگی آخرت کے نقابلہ میں محض معمولی فائدہ ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کو کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کرتا ہے اور کافر دنیا کی زندگی سے بہت خوش ہیں اور دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلہ میں محض معمولی فائدہ ہے۔ (الرعد :26) 

دنیا میں کافروں کی ترقی اور خوش حالی اور مسلمانوں کی پسماندگی اور تنگی کو وجوہ : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ کفار جو اللہ سے کیے ہوئے عہود کو توڑ تے ہیں اور زمین میں فساد کرتے ہیں ان کو آخرت میں عذاب دیا جائے گا اور وہ دنیا اور آخرت میں ملعون ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بالکلیہ دور ہیں، اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے اگر وہ اللہ کی رحمت سے دور ہیں تو پھر دنیا میں ان کو رزق کی تنگی اور سختیوں اور مصائب میں مبتلا ہونا چاہیے تھا حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ان پر رزق بہت کشادہ ہے اور وہ بہت عیش و آرام میں ہیں ان کو بہت زیادہ مادی ترقی حاصل ہے، امریکہ اور کینیڈا میں ان کی غذائی ضرورت سے کئی گنا زیادہ گندم پیدا ہوتی ہے جس کو وہ دوسرے ملکوں کو فروخت کرتے ہیں اور فالتو گندم سمندر میں پھنک دیتے ہیں ان کے ہاں ایٹمی بجلی گھر ہیں، وہ ہر قسم کا اسلحہ بناتے ہیں اور فروخت کرتے ہیں۔ میڈیکل سائنس میں بھی وہ بہت ترقی یافتہ ہیں اور مہلک اور پیچیدہ امراض کے علاج کے لیے لوگ ان کے ملکوں کے ہسپتالوں میں جاتے ہیں اس کے بر خلاف مسلمان ممالک کے پاس اپنی ضرورت کے مطابق غلہ پیدا نہیں ہوتا، وہ ان سے غلہ خرید نے پر مجبور ہیں۔ یہی حال اسلحہ کا ہے اور یہی حال علاج معالجہ کا ہے، تمام مسلم ممالک امریکہ، بر طانیہ، فرانس، روس اور چین کے دوست نگر اور محتاج ہیں۔ اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات ہیں : 

(1) آج اگر کافر ممالک زراعت، صنعت وحرفت، دفاعی سازوسامان، طب اور دیگر سائنسی علوم میں ترقی یافتہ ہیں اور مسلم ممالک پس ماندہ ہیں تو اس کی وجہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو عقل اور کام کرنے کی صلاحیت زیادہ دی ہے اور مسلمانوں کو عقل اور استعداد کم دی ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ کافروں نے محنت اور جفاکشی کی اور علم کے حصول میں اپنی پوری توانائی صرف کردی جبکہ مسلمان آرام طلب اور عیاش ہیں، اقبال نے بہت پہلے کہا تھا : 

تیرے صوفے ہیں افرنگی تیرے قالین ہیں ایرانی

لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی 

آج ہمارے نوجون دل لگا کر نہیں پڑھتے، نقل کر کے پاس ہوتے ہیں اور بعض اسلحہ کے زور پر نقل کرتے ہیں اور پاس ہوتے ہیں۔ وہ بھتے وصول کرتے ہیں اور ڈاکے ڈالتے ہیں۔ ان کا نصب العین سائنسی میدان میں قابلیت پیدا کرنا، کسی موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھنا نہیں ہے، وہ نت نئی رنگینیوں اور تیز نشے میں اپنے آپ کو ڈبو دینے کا حاصل حیات سمجھتے ہیں۔ مسلمان ملکوں میں زرخیز اور قابل کاشت زمینوں کی کمی نہیں ہے، ہماری زمینیں بانجھ نہیں ہیں، اگر ہم محنت اور جفا کشی سے کام لیں تو ہمارے ہاں اتنی گندم پیدا ہوسکتی ہے کہ ہے کہ ہم اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد فاضل گندم کو فروخت کرسکیں۔ کمی زمین کی نہیں ہے کمی جذ بہ اور لگن کی ہے محنت اور جفا کشی کی ہے اور تمام شعبہ ہائے حیات میں یہی حال ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : لَيْسَ لِلإنْسَانِ إِلا مَا سَعَى ( النجم : ٣٩) انسان کو وہی ثمر ملتا ہے جس کو وہ سعی اور جدجہد کرتا ہے۔ چین ہمارے بعد آزاد ہو اتھا اور آج وہ دنیا کی پانچویں ایٹمی طاقت ہے، بھارت ہمارے ساتھ آزاد ہو اتھا آج وہ کمپیوٹر ٹیکنالو جی میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے، 65 ء کی جنگ میں اسکے اپنے بنائے ہوئے جنگی طیاروں نے حصہ لیا تھا جن چیزوں کو بھارت بر آمد کرتا ہے ہم ان کو بمشکل درآمد کر پاتے ہیں، مادی ترقی میں وہی ملک آگے نکلے گا جو اس کے لیے لگن اور محنت سے کوشش کرے گا، سو کافروں نے اس میدان میں سنجیدہ کوشش کی وہ آگے نکل گئے اور مسلمانوں نے کوشش نہیں کہ وہ پیچھے رہ گئے۔ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ کافر اللہ کے نزدیک حق پر ہیں اور مسلمان باطل پر ہیں۔ 

(2) کافروں کی دنیاوی ترقی اور امسلمانوں کی دنیاوی پسماندگی حقیقی کامیابی اور حقیقی ناکامی کا نمو نہ اور معیار نہیں ہے، حقیقی کامیاب وہ لوگ ہیں جن کے عقائد صحیح ہوں اور ان کے اعمال نیک ہوں اور ان کے اخلاق عمدہ ہوں۔ سوال میں جن کافر ملکوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں امریکہ، برطانیہ، اور فرانس کے پاشندے عیسائی ہیں، چین اور روس کے باشندے دہرئیے اور بھارت کے باشندے بت پرست ہیں۔ جس طرح ان کے عقائد مشر کا نہ اور ملحد انہ ہیں اسی طرح ان کے اعمال اور اخلاق کا حال ہے، یہ ٹھیک ہے کہ وہ مادی طور پر بہت زیادہ ترقی یافتہ ہیں لیکن ان کی اخلاقی پستی کا یہ حال ہے کہ چرچ کے احتجاج کے باوجود ان کی پارلیمنٹ نے مردوں کی مردوں کے ساتھ اور عورتوں کی عورتوں کی ساتھ جنس پرستی کو قانونا جائز قرار دیا ہے اگر چند سال مرد اور عورت اکٹھے رہیں تو ان کو قانونا میاں بیوی قرار دیا جاتا ہے جس طرح ہمارے پاس شخص کثیر الاولاد ہوتا ہے اس طرح وہاں لوگ کثیر الولدیت ہوتے ہیں ان کے ہاں بس کے اڈوں، پارکوں اور سڑکوں پر سرعام مرد اور عورت بوس و کنارے میں مشغول ہوتے ہیں اور ساحلوں پر بےجھجک جنسی عمل میں مشغول ہوتے ہیں اور ناجائز بچوں کی پیدائش کا اوسط دن بدن ترقی پذیر رہتا ہے۔ 

(3) قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے متعدد جگہ بیان فرمایا ہے کہ ہم نے کافروں کو دنیاوی مال مسلمانوں سے بہت زیادہ دیا ہے تاکہ انہیں ڈھیل دی جائے اور کفر کے علاوہ اس نے تحاشہ مال ول دولت کا شکرادانہ کرنے اور اس کو ناجائز مصارف میں خرچ کرے کا انہیں مزید عذاب دیا جائے گا۔ 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ (٥٥) نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لا يَشْعُرُونَ ( المومنون : ٥٦) کیا وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم مال اور اولاد سے ان کی جو مدد کررہے ہیں۔ تو ہم ان کی نیکیوں میں جلد کر رہے ہیں ؟ بلکہ وہ شعور نہیں رکھتے۔ 

وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِنْ حَيْثُ لا يَعْلَمُونَ (١٨٢) وَأُمْلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ (الاعراف : 183) اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہم انہیں تدریجا ہلاکت کی طرف لے جارہے ہیں جس کا انہیں علم بھی نہ ہوگا۔ اور میں انہیں مہلت دیتا ہوں بیشک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے۔

اور اس آیت میں (الرعد :26) میں بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کو کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کرتا ہے اور کافر دنیا کی زندگی سے بہت خوش ہیں اور آخرت کے مقابلہ میں محض معمولی فائدہ ہے۔ 

(4) احادیث میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے اس کے ٹھا ٹھ باٹھ، ویب وزینت، اس کی شان و شوکت اور اس کے عیش و آرام کی خاطر اپنی جانوں کو گھلانا اور کھپانا نہیں چاہیے کہ کافروں ہی کا حصہ ہے کہو ن کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے، اور مسلمانوں کو چونکہ آخرت میں دائمی نعمتیں ملیں گی اس لیے ان کو دنیا کی عارضی نعمتوں کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہیے۔ 

امام بخاری نے حضرت عمر (رض) سے ایک طویل حدیث روایت کی ہے اس میں حضرت عمر (رض) رسول للہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملنے چو بارے (بالا خانہ) پر گئے۔ حضرت عمر فرماتے ہیں میں نے نظر اٹھا کر آپ کے گھر میں دیکھا پس اللہ کی قسم ! میں نے اس میں صرف تین کچی کھالیں پڑی ہوئی دیکھی، میں نے عرض کیا : کہ آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ اللہ آپ کی امت کو وسعت عطا کرے، کیونکہ فارس اور روم پر بہت وسعت کی گئی ہے اور ان کو دنیا کا بہت سازوسامان دیا گیا ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے آپ نے فرمایا اے ابن الخطاب ! کیا تم اپنے دین کے متعلق شک میں ہو ! یہ وہ قوم ہے جس کو اس کی پسندیدہ چیزیں دنیا کی زندگی میں دے دی گئیں ہیں۔ (صحیح البخا ری رقم الحدیث :2468) 

امام بخاری کی دوسری روایت میں ہے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بغیر کسی بستر پر لیٹے ہوئے تھے اور آپ کے سرہانے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جس میں خشک گھاس بھری ہوئی تھی اور آپ کے پیروں کے پاس درخت سلم کے پتوں کا ڈھیر تھا اور آپ کے سر کی جانب کچی کھالیں لٹکی ہوئی تھیں۔ (حضرت عمر فرماتے ہیں) میں نے دیکھا کہ چٹائی کے نشانات آپ کے پہلو میں نقش ہوگئے تھے۔ میں رونے لگا۔ آپ نے پو چھا کیوں روتے ہو ؟ میں نے کہا یا رسول اللہ ! کسری اور قیصر کس قدر عیش و آرام میں ہیں ! اور آپ اللہ کے رسول ہیں ! آپ نے فرمایا کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت ہو ! (صحیح البخاری رقم الحدیث :4913، صحیح مسلم رقم الحدیث :1479) 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول للہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے رب نے مجھی یہ پیشکش کی کہ میرے لیے مکہ کو وادیوں کو سونے کا بنادے۔ میں نے عرض کیا نہیں ! اے میرے رب ! لیکن میں ایک دن سیر ہو کر کھاؤں گا اور ایک دن بھوکا رہوں گا، جب میں بھوکا ہوں گا تو تجھ سے فریاد کروں گا اور تجھ کو یاد کروں گا، اور جب میں سیر ہوں گا تو تیرا شکر کروں گا اور تیری تعریف کروں گا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :2347) 

(5) کافر جو دنیا میں بہت عیش و آرام اور جبر اور تکبر سے رہتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں مسلمان بہت تنگی اور فقر اور عجز اور مسکینی سے رہتے ہیں، اس وجہ سے مسلمانوں کو مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ دنیا میں انہوں نے عیش و آرام اور جبرو تکبر سے وقت گزارا ہے، اس کے بدلے میں انہیں آخرت میں عذاب برداشت کرنا پڑے گا۔ قرآن مجید میں ہے :

وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِينَ كَفَرُوا عَلَى النَّارِ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا فَالْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ فِي الأرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُونَ (الاحقاف :20) جس دن کافروں کو آگ پر پیش کیا جائے گا (تو ان سے کہا جائے گا) تم اپنی دنیا کی زندگی میں اپنی پسندیدہ چیزوں کے مزے اٹھا چکے ہو اور ان کے فوائد حاصل کر چ کہ ہو سو آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا کیونکہ تم زمین میں ناحق تکبر کرتے تھے اور تم نافرمانی کرتے تھے۔ 

آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ کا جبر نے انتہا ہے، وہ نوورلڈآرڈر کے ذریعے تمام دنیا پر حکومت کرنا چاہ رہا ہے، اقوام متحدہ اس کی مرضی اور خواہش کے تابع ہے۔ بر طانیہ اور فرانس اس کے حلیف ہیں۔ اس نے ایک عرصہ تک لیبیا کی فضائی پروازوں پر پابندی لگائے رکھی، اب افغانستان کی فضائی پر وازوں پر پابندی لگادی ہے۔ عراقکا اپنا تیل ہے لیکن اس نے اس کے فروخت کرنے پر پابندی لگا دی۔ وہ پابندی لگا دیتا ہے کہ فلاں ملک فلا ‏ں چیز نہ فروخت کرے اور فلاں ملک فلاں چیز نہ خریدے۔ وہ زمین میں ناحق تکبر کر رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کر رہا ہے، اور اس کا خمیازہ وہ آخرت میں بھگتے گا، اور دنیا میں بھی ان شاء اللہ اس کے غرور کا سر نیچا ہوگا، کیونکہ ہر عروج کا ایک دن زوال ہوتا ہے۔ اب سے بیس سال پہلے روس بھی بدقسمت ہاتھی کی طرح تھا لیکن آج وہ معاشی طوپر منہدم ہو کر ٹوٹ پھوٹ چکا ہے۔ اس کے خزانے میں ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لیے پیسے ہیں نہیں ہیں۔ اس کے پاس اسلحہ کا ڈھیر ہے لیکن روٹیوں کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ سو میں اس وقت ہوں یا نہ ہوں لیکن انشاء اللہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ امر یکہ کا سر غرور جھک چکا ہوگا۔ 

(6) اس اشکال کے حل میں یہ حدیث بھی پیش نظر رکھی چاہیے : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا مومن کا قید خانہ ہے اور کافر کی جنت ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 2324، مسند احمد ج 2 صحیح مسلم رقم الحدیث : 2956 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4113، مسند ابو یعلی رقم الحدیث 6466، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :687، المعجم الاوسط رقم الحدیث :2803، حلیتہ الا ولیاء ج 6، ص 350، الکامل لابن عدی ج 3، ص 889، شرح السنہ رقم الحدیث :4104) 

مسلمان برحق ہونے کے باوجود کیوں مسکینی اور پستی کا شکار ہیں اور کفار بد عقیدہ ہونے کے باوجود کیوں شان و شوکت سے رہتے ہیں۔ یہ اشکال اکثر مسلمانوں کو پریشان کرتا ہے اس لیے میں نے عقل دلائل سے بھی اس الجھن کا حل پیش کیا ہے اور قرآن مجید اور احادیث صحیحہ بھی اس اشکال کو دور کیا ہے اللہ تعالیٰ میری اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 26