(1) عن جرير بن عبدالله قال كنا جلوسا عند رسول الله فنظر الى القمر ليلة البدر فقال : “انكم ستعرضون علی ربكم فترونه كما ترون هذا القمر :. قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح (ترمذی صفت الجنتہ رقم  2551 ص 1907 , بخاری مواقیت الصلات رقم 554 ص 45 مسلم المساجد، رقم 1434 ص 239 مسند احمد 19211، 19226)*

ترجمہ: حضرت جريربن عبداللہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں تھے کہ رات کے وقت آپ نے چاند کی طرف دیکھ کر فرمایا: عنقریب تم اپنے رب کے حضور پیش کیے جائوگےتم اس کو دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ ر ہے ہو ۔

 

مسا ئل و نصائح :

☆ رویت باری تعالی ممکن ہے۔

☆اہل جنت اللہ تعالی کا جنت میں دیدار کریں گے۔

☆دیدار الہی نعمت عظمی ہے۔(عمدة القاری شرح صحیح البخاری، ج4 ص 63)

☆مومنوں کواللہ تعالی کا دیدار بغیر کسی پردے کے ہوگا جیساکہ چاند سورج کو بغیر پردہ کے دیکھا جاتا ہے(نزھتہ القاری شرح صحیح البخاری ج ۲ ص ۲۳۰)

☆جو اللہ تعالی کے دیدار کا مشتاق ہو وہ نمازوں کی پابندی کرے۔(فتح الباری شرح صحیح البخاری ج۲ ص ۳۴ ) ۔۔

☆اژدہام ناظرین کیوجہ سے کوئی شخص رویت باری تعالی سے محروم نہیں ہوگا۔ (انوارالباری شرح صحیح البخاری ج۱۴ص ۱۴۴فیوض الباری شرح صحیح البخاری،ج ۳ص ۲۴۸) –

☆روز قیامت دیدار الہی  میں کوئی مشقت، تکلیف اور دشواری نہیں ہوگی اور ہر مسلمان آسانی کے ساتھ دیدارالہی کر سکے گا۔ اور جب دیدارالہی ہوگا تو کسی کو اس میں شک وشبہ نہیں ہوگا۔ (مسلم، الفضائل رقم 2123 ص 995)