أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَذٰلِكَ اَرۡسَلۡنٰكَ فِىۡۤ اُمَّةٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهَاۤ اُمَمٌ لِّـتَتۡلُوَا۟ عَلَيۡهِمُ الَّذِىۡۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ وَ هُمۡ يَكۡفُرُوۡنَ بِالرَّحۡمٰنِ‌ؕ قُلۡ هُوَ رَبِّىۡ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ وَاِلَيۡهِ مَتَابِ‏ ۞

ترجمہ:

جس طرح ہم نے پہلی امتوں میں رسول بھیجے تھے) اسی طرح ہم نے آپ کو ایک امت میں بھیجا ہے اس امت سے پہلے کئی امتیں گزر چکی ہیں تاکہ آپ ان پر اس کتاب کی آیتیں تلاوت کریں جس کی ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے اور وہ رحمن کا انکار کرتے ہیں، آپ کہیے وہ میرا رب ہے اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے میں اسی پر توکل کیا ہے اور اسی کی طرف میرا لوٹنا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ( جس طرح ہم نے پہلی امتوں میں رسول بھیجے تھے) اسی طرح ہم نے آپ کو ایک امت میں بھیجا ہے، اس امت سے پہلے کئی امتیں گزر چکی ہیں تاکہ آپ ان پر اس کتاب آیتیں تلاوت کریں جس کی ہم نے آپ کی طرف و حی کی ہے اور وہ رحمن کا انکار کرتے ہیں، آپ کہئے وہ میر ارب ہے اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے میں نے اسی پر توکل کیا ہے اور اسی کی طرف میرا لوٹنا ہے (الرعد : 30) 

رحمن کے انکار کا شان نزول : 

اس آیت میں فرمایا ہے : اور وہ رحمن کا انکار کرتے ہیں، اس کے شان نزول میں متعدد روایات ہیں : 

امام ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ مجاہد سے روایت کیا ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکھا توقریش نے کہا الرحمن نہ لکھو، ہم نہیں جانتے کہ رحمن کیا چیز ہے اور ہم صرف باسمک اللھم لکھتے ہیں، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور وہ رحمن کا انکار کرتے ہیں آپ کہئے وہ میرا رب ہے اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے میں نے اسی پر توکل کیا ہے اور اسی کی طرف میرا لوٹنا ہے۔ (جامع البیان رقم الحدیث :15479، معالم التنزیل ج 3، ص 14) 

معروف یہ ہے کہ یہ آیت مکی ہے اور اس کے نزول کا سبب یہ کہ ابوجہل نے سنا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غار میں پکار ہے تھے یا اللہ یا رحمن، وہ مشرکین کے پاس گیا اور اس نے کہا کہ (سید نا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو خداؤں کے پکار نے سے منع کرتے ہیں اور وہ خود دو خداؤں کو پکار رہے ہیں، ایک اللہ اور ایک رحمن ہم یمامہ کے سوا اور کسی رحمن کو نہیں جانتے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی : قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنَ أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الأسْمَاءُ الْحُسْنَى ( الاسراء : ١١٠) آپ کہئے کہ اللہ کہہ کر پکارویا رحمن کہہ کر پکارو، جس نام سے بھی پکاروسب سی کے نام ہیں۔ 

اور ضحاک نے حضرت ابن عباس (رض) عنما سے روایت کیا ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار قریش سے کہا اسجدوا للرحمن رحمن کو سجدہ کروتو انہوں نے کہا رحمن کی چیز ہے ؟ تب یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ کہئے کہ وہ میرا رب ہے اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے میں نے اسی پر توکل کیا ہے اور اسی کی طرف میرالو ٹنا ہے۔ (معالم التنزیل ج 3 ص 14، زادالمسیر ج 4 ص 329، تفسیر کبیر ج 7 ص 42، 41، الجامع لاحکام القرآن جز 9 ص 277، 278) 

واضع رہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہر اس نام سے پکار ناجائز ہے جو کسی بھی لغت میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے وضع کیا گیا ہو مثلاعربی میں اللہ، فارسی میں خدا اور ترکی میں تنکری، اور اس کی صفات پر صرف ان ہی اسماء کا اطلق جائز ہے جو اسما قرآن مجید اور احادیث میں آچکے۔ بعض لوگ اللہ میاں بولتے اور لکھتے ہیں، یہ جائز نہیں ہے کیونکہ میاں کا لفظ قرآن اور حدیث میں وارد نہیں ہے علاوہ ازیں اس میں تنقیص کا معنی بھی ہے۔ میاں شوہر کو اور بوڑھے آدمی کو کہتے ہیں ان کے علاوہ اس کے اور بھی کئی ایسے معنی ہیں جن میں نقص ہے اور ہر وہ لفظ جس میں نقص کا شائبہ ہو اس کا اللہ پر اطلاق جا ئز نہیں ہے اس کی مکمل تحقیقی ہم نے الاعراف : 180 اور شرح صحیح مسلم جلد سا بع میں کی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 30