لاک ڈاؤن، یوم مزدور اور اسلام

تحریر: نعیم الدین برکاتی فیضی

اس وقت پوری دنیا کورونا کے دہشت کے سائے میں زندگی بسر کررہی ہے۔ہندوستان میں بھی یہ بیماری اپنے پیر پھیلائے جارہی ہے،جس کی سنگینی اور خطرناک نتائج کو دیکھتے ہوئے25مارچ سے ہی ملک گیر لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔سارے کام کاج بند ہیں۔ظاہر ہے کاروبار بند ہونے کی وجہ سے جہاں ملک کی معیشت خراب سے خراب تر ہو رہی ہے وہیں پر ملک کا محنت کش اور مزدور طبقہ فاقہ کشی کے ایام گزارنے پر مجبور ہے۔سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ سے یہ خبریں سننے اور دیکھنے میں آرہی ہیں کہ بہتیرے باہر کمانے والے مزدوراپنے گھر اور وطن کی طرف اس لیے پیدل چلنے کو مجبور ہیں کیوں انہیں اس لاک ڈاؤن میں دو وقت کا کھانا میسر نہیں ہو رہا ہے۔ایسے وقت میں ہم صرف لیبرڈے مناکر ان کی زندگی نہیں بچا سکتے بلکہ ہمیں عملی اقدامات کے ذریعہ میدان میں آنا ہوگااور اپنے گھر سے دور پھنسے یا چھپے (یہ میڈیا کا کام ہے)لوگوں تک ضروریات زندگی  اور دیگر انسانی سہولیات کو پہنچاکر ایک انسان ہونے کا ثبوت پیش کریں،کیوں کہ اس سال مزدوروں کی جان بچانا ہی لیبرڈے منانا ہے۔
ایک مئی کو ہر سال عالمی سطح پر ’یوم مزدور‘منایا جاتا ہے۔جس دن امریکا کے شہر شکاگو میں مزدوروں کے اوپر کیے گئے ظلم وستم اور استحصال کے خلاف وہاں کے محنت کشوں کی جد وجہد اور ان کے عظیم قربانیوں کو یاد کرنا ہوتا ہے،جس میں انہوں نے اپنے خونوں کا نذرانہ دے کر سرمایہ داروں اور ان کی طاقتوں کو سرنگوں کیاتھا۔دراصل مزدوروں کے ساتھ ہوتا یہ تھا کہ ان سے جانوروں کی طرح کام لیا جاتا تھا۔ان سے دن میں ۶۱،۶۱/گھنٹے مزدوری کرائی جاتی تھی۔تنخواہ بھی کوئی خاص نہیں تھی۔کام کے دوران اگر کسی کو چوٹ لگتی یا کوئی مر جاتاتو اس کے تمام اخراجات کو برداشت کرنا مزدور کی ذمہ داری ہوتی تھی۔مختصر یہ ہے مزدور کو ہر حقوق سے محروم کرکے ان کو غلامانہ زندگی جینے پر مجبور کردیا گیا تھا۔ان کو کسی بھی چیز کا اختیار نہیں تھا۔مالک جب چاہتا کام سے نکال دیتا،جتنا چاہتا مزدوری مقرر کرتا۔ایسے ماحول میں زندگی بسر کررہے چند مزدوروں کی غیرت جاگی اور دیکھتے ہی دیکھتے سرمایہ داروں سے جنگ جیت کر اپنی زندگی کو آزاد کرلیا۔اسی لیے اس دن کو یوم مزدور کے طور پر منایا جاتا ہے۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔اس میں زندگی کے ہر شعبہ کے متعلق رہنمائی اور ہدایت موجود ہے۔آج سے تقریبا جودہ سو سال قبل سے ہی مزدور وں کے حقوق کے بارے میں اتنی شاندار اور جامع ہدایات اور احکامات قرآن وحدیث میں مذکور ہیں،جو دوسری کتابوں اور مذاہب میں نظر نہیں آتیں۔اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ دنیا کی جدید وقدیم تہذیبوں میں کوئی بھی تحریک مزدوروں کو وہ تحفظ نہ دے سکی،جو اسلام اور پیغمبر اسلام نے اپنے ضابطہ حیات میں انہیں عطا کیا ہے۔
حدیث شریف میں ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدوروں سے اظہار ہمدردی فرماتے ہوئے ان کے حق کی پامالی کر نے والون کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا کہ مین روز قیامت تین لوگوں کا مخالف ہوں گا:
وہ آدمی جس نے میرے نام پر عہد لیا پھر اسے توڑ دیا۔
وہ شخص جس نے کسی کو غلام بناکر بیچا اور اس کی کھائی۔
وہ مرد جس نے اپنے ہاں کسی کو مزدوری پر رکھا،اس سے پورا کام لیا لیکن مزدوری نہیں دی۔(بخاری)
اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ مزدور کے بابت ہر انسان کو یہ چاہیے کہ ان حقوق کا خاص خیال رکھے اور پوری اجرت ادا کرے،تاکہ روز محشر کی ندامت وپشیمانی سے محفوظ رہے۔
اسی طرح اسلام نے مزدوروں کو سماجی ومعاشرتی حقوق عطا کرکے انہیں عزت واحترام سے نوازا۔اسی وجہ سے ان کے قوت برداشت سے زیادہ کام کروانے سے منع فرمایا۔نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
ملازمین کو ایسے کام کے کرنے پر نہ کیا جائے،جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے۔اگر کوئی ایسا کام لے جو اس کی طاقت سے باہر ہو،تو اس کام میں خود بھی اس کی مدد کرے۔(مشکوۃ)
اس حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رمضان المبارک میں مزدوروں سے زیادہ کام نہ لیے جائیں کہ وہ آسانی سے روزے بھی رکھ سکیں۔کسی بھی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے ملازمین کو ایسے حقوق اللہ سے روکے جن کی ادائیگی ہر انسان کے لیے ضروری ہے۔کیوں کہ اللہ کی نافرمانی پر کسی کی اطاعت نہیں۔
دنیا نے مزدوروں کو جو بھی حقوق دیئے ہیں وہ بوجہ مجبوری اور علم احتجاج بلند کرنے پر دیے ہیں۔سرمایہ دار طبقہ کا ذہن اب بھی وہی ہے جیسے زمانہ جاہلیت میں تھی کہ مزدور کو انسان نہیں سمجھا جاتا تھا۔کیوں کہ ان کی حیثیت ذاتی جاگیر اور پالتوجانور سے زیادہ نہ تھی۔وہ صرف اور صرف امیروں کی خدمت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔اسلام نے ہی  بتایا ہے کہ وہ بھی تمہاری طرح انسان اور تمہارے بھائی ہیں۔پیغمبر اسلام نے مزدوروں کے ساتھ بھائیوں جیسا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماتحتوں کا ہر طرح سے خیال رکھنے کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:اے ابوذر!جس کے ماتحت اس کا کوئی بھائی کام کررتا ہو،اسے چاہیے کہ جو خود کھائے وہی کھانا اسے بھی کھلائے،جیسا کپڑا خود پہنے،ویسا ہی اسے بھی پہنائے،ان سے ایسا کام نہ لو جو ان کی طاقت سے زیادہ ہو،اور اگر ایسا کام ان کے ذمہ داری میں سونپو،توخود بھی ان کی مدد کیا کرو۔(بخاری)
اسلام سے پہلے اجیر سے بغیر مزدوری طے کیے ہی اس سے کام لے لیا جاتا تھااور بعد میں اس کو کم مزدوری دے کریا کم ریٹ کی دہائی دے کر ان کا استحصال کیا جاتا تھا۔پیغمبر اسلام نے اس زیادتی کو بھی ختم کرکے مزدوروں کوتحفظ بخشا۔حدیث پاک میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مزدور سے ایسا اجارہ کرنا جائز نہیں،جس کی اجرت نامعلوم ہو۔(مسنداحمد)
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں آجر اور اجیر کے درمیان عدل کا وہ معیار قائم فرمایا جس کی نظیر بڑے بڑے معیشت دانوں کی موٹی موٹی کتا بوں میں نہیں ملتی۔اللہ کے رسول نے ایک مختصر سی حدیث میں بیان فرمایا:
مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کردو۔(ابن ماجہ)
اس حدیث شریف میں جہاں آجر اور اجیر کے حقوق کو بتایا گیا ہے وہیں پر وہیں اقتصادی عدل کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ساتھ ہی ساتھ  مالکان کو اس بات کا پابند بھی کیا کہ ہر گز کوئی مزدوروں کو کم تر نہ سمجھے،مالک کو حکم دیا گیا کہ مزدور کو اس کی مزدوری کام ختم ہوتے ہی ادا کردو،تو دوسری طرف مزدور کو بھی حکم دیا کہ اپنے کام کو محنت اور لگن کے ساتھ بر وقت مکمل کرو۔کیوں کہ جب مزدور دل لگا کر کام کرے گا تو مالک بر وقت اجرت دے کر خوشی محسوس کرے گا اور دونوں کے تعلقات نہایت خوش گوار ہوں گے اور دونوں ایک دوسرے سے مطمئن بھی ہوں گے۔کسی ماہر اقتصادیات کا قول ہے کہ:کسی بھی ملک کی معاشی بہتری تبھی ممکن ہے،جب وہاں کے مزدور مطمئن اور خاش حال ہوں۔
آج بھی اسلام کے ذریعہ متعین اور مقرر کیے ہوئے مزدوروں کے حقوق کی فراہمی کو یقینی بنالیا جائے اور سارے ممالک اسے لازم العمل قرار دے دیں، تو میرے خیال سے آج مزدوروں کو پھر سے ’لیبر ڈے‘منانے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوگی۔