از قلم مفتی علی اصغر

7 رمضان المبارک1441

بمطابق یکم مئی 2020

لاک ڈاؤن اور ملازمین کی سیلری

ویسے تو آج یوم مزدور ہے اور دنیا اس دن کو مزدوروں کے حقوق سے جانتی ہے لیکن انڈسٹری چلے تو مزدور کے گھر کا چولہا جلتا ہے انڈسٹری اگر کنگال یا دیوالیہ ہو جائے تو مزدور کو کہاں سے کھلائے گی

لاک ڈاؤن کے تناظر میں بڑے بڑے پروجیکٹ رک گئے ہیں فیکٹریاں بند ہیں آفیس بند ہیں کام نہیں ہو رہا اس لئے صرف مزدور ہی نہیں بلکہ کمپنی مالکان کے حقوق کو بھی دیکھنا ہوگا کہ وہ آج کے ماحول میں کیسے بڑے نقصان سے سے نکل سکتی ہے

مختلف لوگ جو اپنی چھوٹی سے لے کر بڑی کمپنی چلاتے ہیں کام نا ہونے کی وجہ سے ملازمین کی سیلری کے تعلق سے پریشان ہیں ملک و بیرون ملک سے لوگ اس بارے میں پوچھ بھی رہے ہیں

دینی نقطہ نگاہ سے کیا کچھ ہو سکتا ہے کچھ اہم دینی احکام عرض کرتا ہوں

1… معاہدہ پر نظر ثانی کے لئے یکم تاریخ بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہوتی ہے نئے ماہ کے لئے آپ شرعی اجازت کے پائے جانے پر نیا معاہدہ کر سکتے ہیں اگرچہ دوران ماہ بھی فریقین دو طرفہ رضا مندی سے نیا معاہدہ کر سکتے ہیں لیکن یکم سے نئے معاہدے میں جو اختیارات ہوتے ہیں وہ کافی وسیع ہوتے ہیں. مثلا کسی نے ملازم کو سیلری پر رکھا ہوا تھا نیا مہینہ شروع ہو گیا تو آپ یک طرفہ تبدیلی نہیں کر سکتے سابقہ مراعات پر ہی اس مہینہ کو پورا کیا جائے گا اور جن سے سالانہ بنیاد پر معاہدے ہوتے ہیں پورے سال کے کئے ان میں یک طرفہ تبدیلی نہیں ہو سکتی البتہ خصوصی حالات مثلا کام ختم ہو جانے وغیرہ پر نئے ماہ کے لئے آپ نئی پالیسی جاری کر سکتے ہیں

.. 2 جب کام کی چال ہی نا رہے آئندہ ماہ سے ملازم کو بغیر سیلری کے چھٹی پر بھیجا جا سکتا ہے

… 3 خصوصی حالات پیدا ہونے پر سیلری میں کمی بیشی کی جا سکتی ہے دبئی سے ایک صاحب نے کچھ سوالات پوچھے انہوں نے بتایاکہ حکومت نے خود لاک ڈاؤن کے تناظر میں یہ آپشن بیان کیا ہے کہ آپ ملازمین کو بغیر تنخواہ کے چھٹی دے سکتے ہیں یا سیلری کم کر سکتے ہیں

… 4کام کبھی ہوتا ہے کبھی نہیں تو سیلری پرسن سے خاص کر لیبر کیٹگری سے یہ معاہدہ ہو سکتا ہے کہ اب کام دھاڑی یعنی یومیہ اجرت کی بنیاد پر ہوگا جتنے دن کام ہوگا اتنے دن کے فی یوم کے حساب سے اتنے پیسے ملیں گے

5….کمپنی بالکل ہی بند ہونے پر آجائے یا افراد کی گنجائش مستقل طور پر کم ہو جائے تو ملازمین کو طے شدہ مراعات دیتے ہوئے نوٹس پیریڈ کا خیال رکھتے ہوئے نوکری سے فارغ بھی کیا جا سکتا ہے

6…بونس اکثر اداروں میں سیلری پیکج میں مشروط ہوتا ہے لھذا ایک دو ماہ کے لاک ڈاؤن میں یہ ممکن نہیں کہ آپ پورا بونس ہی روک ہیں

7…سیلری میں کٹ لگانا ویسے تو میڈیا ورکرز کی فلیڈ میں یہ لفظ زیادہ بولا جاتا ہے لیکن کسی بھی ملازم کی سیلری میں خصوصی حالات پیدا ہوئے بغیر یکم طرفہ کمی دوران معاہدہ نہیں ہو سکتی اگر سال کی بنیاد پر معاہدہ ہوتا ہے تو پورا سال اس کو لے کر چلنا ضروری ہے خصوصی حالات سے مراد یہ ہے کہ جب کمپنی میں کام ہی کم ہو جائے یا ختم ہو جائے وغیرہ ذالک تو ملازم سے معاہدہ رینیو کرنے کی گنجائش بنتی ہے

8..بہت سارے لوگ یہ سوال پوچھ رہیں کہ ملازمین یا لیبر بہت غریب ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ان کی سیلری بند نا ہو تو کیا ہم زکوۃ کی مد سے ان کو پیسے دے سکتے ہیں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ سیلری خود ایک معاوضہ ہے اور کمپنی یا سیٹھ پر لازمی چیز ہے. اور زکوہ دینا ایک احسان ہے لھذا دونوں الگ الگ چیز ہیں تنخواہ کی جگہ پر زکوۃ نہیں دی جا سکتی نہ ہی پیکج میں مشروط بونس کو زکوہ سے دینا جائز ہے.

البتہ کسی نے اوپر بیان کردہ شرائط و تفصیل کے تحت اپنے ملازم کو بغیر سیلری کے چھٹی دے دی ہے اور وہ مستحق زکوہ بھی ہے تو ایسے شخص کو زکوہ کی مد میں رقم یا راشن دیاجا سکتا ہے

یا پھر یہ کہ جس کو تنخواہ دی جا رہی ہے اور وہ مستحق زکوہ بھی ہے تو تنخواہ پلس زکوہ اس کو دے سکتے ہیں

9.. عام طور سے دکانوں پر کام کرنے والےملازمین کے ساتھ کوئی تحریری معاہدہ نہیں کیا جاتا لیکن ان کے بھی حقوق ہیں وقت کی حد بندی ہے لھذا ایسے ملازمین کو بھی وقت دینا ضروری ہوتا ہے کہ اس وقت کام پر آنا ہے اور اس وقت چھٹی ہوگی وقت سے زیادہ بغیر اور ٹائم کے آپ نہیں روک سکتے.

10… یاد رکھیے بندہ جب اللہ کی نافرمانی کرتا ہے تو اس پر معیشت تنگ بھی کر دی جاتی ہے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى(۱۲۴)سورہ طحہ

( نوٹ یونیکوڈ میں موبائل پر اعراب ایک جیسے نظر نہیں آتے آیت کو پڑھتے وقت مصحف شریف دیکھ لینا چاہیے )

ترجمہ اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا تو بیشک اس کے لیے تنگ زندگانی ہے

لھذا تجار اور کاروباری طبقہ غور کرے کہ کہیں سود کو نا چھوڑنا، ملاوٹ، دھوکہ کاروباری معاہدوں کی خلاف ورزی اور دیگر گناہ تو اس کی مشکلات کی وجہ نہیں صدق دل سے توبہ و استغفار کریں استغفار تو اللہ سے معافی کے لئے ہوتا ہے لیکن قرآن پاک کی ایک آیت مبارکہ میں اشارہ موجود ہے کہ توبہ کرنے والے کے مال میں برکت عطا کی جاتی ہے

نوٹ: ہر اتوار کو علاوہ رمضان بعد نماز مغرب مدنی چینل پر احکام تجارت پیش کیا جاتا ہے ان پروگراموں کو دیکھنے کے لئے میرے آفیشل یوٹیوب چینل Mufti AliAsghar کا وزٹ کر سکتے ہیں اور مختلف موضوعات پر شارٹ کلپ اور اہم دینی مواد کے لئے واٹس اپ گروپ سروس جوائن کر سکتے ہیں واٹس آپ گروپ کے لنک میرے فیس بک پیجپر شئیر کر دئیے گئے ہیں