أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَهُمۡ عَذَابٌ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا‌ وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَشَقُّ‌ ۚ وَمَا لَهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ وَّاقٍ‏ ۞

ترجمہ:

ان کے لیے دنیا کی زندگی میں عذاب ہے اور البتہ آخرت کا عذاب زیادہ دشوار ہے اور ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان کے لیے دنیا کی زندگی میں عذاب ہے اور البتہ آخرت کا عذاب زیادہ دشوار ہے، اور ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ (الرعد :34) 

کافروں کے مصائب اور مسلمانوں کے مصائب کا فرق : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے جرائم کو بیان فرمایا تھا اور اس آیت میں ان جرائم کی سزا کو بیان فرمایا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ ان کو دنیا میں عذاب اور آخرت میں بھی عذاب ہوگا۔ دیناوی ومتاع اور جنگی سازوسامان ضبط کرلیا جائے گا، بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ان پر دنیا میں جو مصائب آتے ہیں وہ بھی ان کی سزا ہے، اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ دنیا میں تو مسلمانوں پر بھی مصائب آتے ہیں، اس کو جواب یہ ہے کہ گناہ گاروں پر مصائب آتے ہیں وہ ان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہیں، اور نیکو کا روں پر جو مصائب آتے ہیں اور وہ ان پر صبر کرتے ہیں تو وہ ان کے درجات کی بلندی کا سبب ہوتے ہیں اور صبر کرنے کے وجہ سے ان کو بےحدوحساب اجر وثواب ملتا ہے، اس کے بر خلاف کفار پر جو مصائب آتے ہیں وہ ان کے حق میں سزا کے سوا اور کچھ نہیں، اور آخرت میں جو ان کو عذاب ہوگا وہ زیادہ سخت اور زیادہ دشوار ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 34