أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَثَلُ الۡجَـنَّةِ الَّتِىۡ وُعِدَ الۡمُتَّقُوۡنَ‌ ؕ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ‌ ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّظِلُّهَا‌ ؕ تِلۡكَ عُقۡبَى الَّذِيۡنَ اتَّقَوْا‌ ‌ۖ وَّعُقۡبَى الۡكٰفِرِيۡنَ النَّارُ‏ ۞

ترجمہ:

متقین سے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی صفت یہ ہے کہ اس کے نیچے سے دریا بہتے ہیں، اس کا پھل اور اس کا سایہ ہمیشہ رہے گا، یہ متقین کا انجام ہے اور کافروں کا انجام دوزخ ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : متقین سے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی صفت یہ ہے کہ اس کے نیچے سے دریا بہتے ہیں، اس کا پھل اور اس کا سایہ ہمیشہ رہے گا یہ متقین کا انجام اور کافروں کا انجام دوزخ ہے۔ (الرعد : 35) 

جنت کی صفات : 

قرآن مجید کا اسلوب یہ ہے کہ وہ کافروں کا انجام ذکر کرنے کے بعد مسلمانوں کے انجام کا ذکر فرماتا ہے کیونکہ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کے انجام کا ذکر فرمایا تھا، سو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اخروی انجام کا ذکر فرمایا ہے۔ 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جنت کی تین صفات بیان فرمائی ہیں

(1) جنت کے نیچے دریا بہتے ہیں

(2) جنت کے پھل دائمی ہیں، دنیا کے باغات کے پھل، پتے اور منافع عارضی ہوتے ہیں اور فنا ہوجاتے ہیں اور آخرت کے باغات کے پھل منافع نہیں ہوتے،

(3) جنت کا سایہ بھی دائمی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ جنت میں گرمی نہ سردی ہوگی، نہ وہاں سورج اور چاند ہوں گے اور نہ وہاں اندھیرا ہوگا 

متکئین فیھا علی الارائک لا یرون فیھا شمسا ولا زمھریرا۔ (الدھر : 13) وہ ان جنت میں اونچے تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہو گے، وہ جنت میں نہ دھوپ کی گرمی محسوس کریں گے نہ سردیوں کی ٹھنڈک۔ 

جنت نہ بنائے جانے کے متعلق معتزلہ کے دلائل اور ان کے جوابات : 

جنت کے متعلق معتزلہ کا مذہب یہ ہے کہ اس وقت تو آسمانوں میں بہت سی جنات ہیں، جن میں فرشتے رہتے ہیں اور جو انبیاء (علیہم السلام) ابھی تک زندہ ہیں جیسے حضرت عیسیٰ ، حضرت ادریس اور حضرت الیاس (علیہم السلام) وہ بھی ان جنتوں میں ہیں لیکن جو جنت اللہ تعالیٰ نے جزا اور سزا کے لیے بنائی ہے جس میں دوام اور خلود ہوگا وہ جنت ابھی نہیں بنائی گئی، وہ جنت اس وقت بنائی جائے گی جب اس کی ضرورت ہوگی اور وہ قیامت اور حشر اجساد کے بعد بنائی جائے گی۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اگر وہ جنت اس وقت موجود ہو تو قرآن مجید کی آیت میں تعارض لازم آئے گا کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جنت کے پھل اور اس کا سایہ دائمی ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ جنت فنا نہیں ہوگی حالانکہ قرآن مجید کی دوسری آیت کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز فنا ہوگی اور ہر چیز میں جنت بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلا وَجْهَهُ ( القصص : ٨٨) اس کی ذات کے سوا ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے۔ 

ان کی اس دلیل کے دو جواب ہیں : ایک جواب یہ ہے کہ ہر چیز کے عموم سے جنت مستثنی ہے یعنی جنت کے سوا ہر چیز ہلاک ہوجائے گی اور استثناء دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ متقین کے لیے بنائی جاچکی ہے : 

وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالأرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ ( آل عمران : ١٣٣) اور ایسی جنت جس کی پہنائی تمام آسمان اور زمین ہیں جو متقین کے لیے تیار کی گئی ہے۔ 

اورایسی بہت آیات ہیں۔ 

دوسراجواب یہ ہے کہ جنت کے پھل دائمی ہونے کا معنی یہ ہے کہ ہر شخص پھل دائمی ہ، کیونکہ جب جنتی ایک پھل توڑ کر کھالے گا تو وہ مشخص پھل باقی نہیں رہے گا، اس کی جگہ دوسرا پھل لگ جائے گا لہذا جنت کے پھلوں کے دوام کا معنی یہ ہے کہ ان پھلوں کی نوع دائمی رہے گی اور مشخص پھل فنا ہوتے رہے گے اور اب ان آیات میں تطبق واضع ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز ہلاک ہوگی اور ان مشخص پھلوں پر فنا اور ہلاکت طاری ہوگی اروان کی نوع کو دوام رہے گا، تیسرا جواب یہ ہے کہ ہلاکت اور فنا میں فرق ہے کسی چیز کی افادیت باقی نہ رہے تو کہا جاتا ہے کہ وہ ہر چیز ہلاک ہوگئی۔ ہلاکت کا معنی نہیں ہے کہ وہ چیز فنا ہوجائے یا معدوم ہوجائے اس لیے یہ ہوسکتا ہے کہ جنت فنا ہو اور وہ ہلاک ہوجائے اور اس کا چوتھا جواب یہ ہے کہ دوام کی دو قسمیں ہیں : دوام ثبات اور دوام تجددی۔ دوام ثبات کا معنی یہ ہے اس میں بالکل فنا نہ ہو اور ایک آن کے لیے بھی وہ منقطع نہ ہو اور اس طرح کا دوام صرف اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے لیے ہے، اور دوام تجددی یہ ہے کہ کسی چیز میں وقفہ وقفہ سے انقطاع آتا رہے لیکن وہ چیز دائمی ہو مثلاہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص ہمیشہ سچ بو لتا ہے یا ہمیشہ نماز پڑھتا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ ہر وقت نماز پڑھتا ہے نہ سچ بولتا ہے کیونکہ بعض اوقات تو وہ سویا ہوا ہوتا ہے، سو یہ دوام تجددی ہے اور وقفہ وقفہ سے انقطاع اس دوام کے منافی ہے، سو جب قیامت قائم ہوگی تو ایک آن کے لیے جنت فنا ہوجائے اور اللہ تعالیٰ اس کو پھر پیدا کر دے گا اور ایک آن کا انقطاع جنت کے دوام تجددی کے منا فی نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 35