حدیث نمبر188

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن زبیر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز سے سلام پھیرتے ۱؎ تو بلند آواز سے کہتے کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی ساجھی نہیں اسی کا ملک ہے اسی کے لیے حمد اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اﷲ کے بغیر نہ طاقت ہے نہ قدرت اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہم اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے اسی کی نعمت ہے اسی کا فضل ۲؎ اسی کی اچھی تعریف ہے اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہم اس کے لیے خالص دین رکھتے ہیں اگرچہ کفار ناپسند کریں۳؎(مسلم)

شرح

۱؎ یعنی فرض نماز سے جماعت میں کیونکہ اشراق یا تہجد وغیرہ کے بعد اونچا ذکر سنت نہیں۔”اعلےٰ”سے معلوم ہوا کہ یہ ذکر بہت اونچی آواز سے ہوتا تھا جو محلے کے گھروں میں سنا جاتا تھا۔

۲؎ نعمت سے مراد دنیاوی نعمتیں مراد ہیں اورفضل سے مراد آخرت کی نعمتیں یا نعمت سے مراد عبادات کی توفیق ہے اور فضل سے مراد قبولیت یعنی ساری مخلوق کو بلاواسطہ یا بالواسطہ جو ملا رب سے ملا اور جسے اس نے دیا اپنے فضل سے دیا کسی کا اس پر ذاتی حق نہیں۔

۳؎ مخلصین میں منافقین یا ریا کاروں کی تردید ہے اگرچہ وہ عابد ہیں مگر اخلاص سے محروم۔