حدیث نمبر189

رو ایت ہے حضرت سعد سے کہ وہ اپنے بچوں کو یہ کلمات سکھاتے تھے ۱؎ اور کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کےبعد ان سے تعوذ کرتے تھے الٰہی میں بزدلی سے تیری پناہ لیتا ہوں اور کنجوسی سے تیری پناہ۲؎ اور ردی عمر سے تیری پناہ۳؎ اور دنیا کے فتنوں اور عذاب قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۴؎(بخاری)

شرح

۱؎ یعنی بالغ و نابالغ سارے بچوں کو۔اس سے معلوم ہوا کہ اولاد کو اچھی باتیں سکھانا ماں بآپ کا پہلا فرض ہے۔

۲؎ جبن کا مقابل شجاعت ہے،بخل کا مقابل سخا ہے اور شح کا مقابل جود۔بخیل وہ جو خود کھائے اوروں کو نہ کھلائے،شح وہ جو نہ کھائے نہ کھانے دے سب کچھ جمع کرکے چھوڑ جائے۔سخی وہ خود کھائے اوروں کو بھی کھلائے۔جواد وہ جو خود نہ کھائے اوروں کو کھلائے اسی لیے رب کو سخی نہیں کہتے جواد کہتے ہیں۔اﷲ کے حبیب لکھادھاری داتا کھاتے نہیں کھلاتے ہیں۔شعر

بوریا ممنوں خواب راحتش تاج کسریٰ زیر پائے آتش

یہ دعا ہماری تعلیم کے لیئے ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو پیدائشی کل کے راجہ ہیں جگ کے داتا ہیں۔

۳؎ یعنی بڑھاپے کی وہ حالت جب ہاتھ پاؤں جواب دے جائیں رب کی عبادت نہ کرسکے، دنیوی کام انجام نہ دے سکے، اس سے خدا کی پناہ۔

۴؎ ممکن ہے کہ یہ دعا حضور علیہ الصلوۃ والسلام ساری نمازوں خصوصًا تہجد کے بعد مانگتے ہوں،نماز پنج گانہ میں سنتوں سے فارغ ہوکر تاکہ یہ حدیث دیگراحادیث کے خلاف نہ ہو۔