أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّذِيۡنَ اٰتَيۡنٰهُمُ الۡكِتٰبَ يَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ‌ وَمِنَ الۡاَحۡزَابِ مَنۡ يُّـنۡكِرُ بَعۡضَهٗ‌ؕ قُلۡ اِنَّمَاۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰهَ وَلَاۤ اُشۡرِكَ بِهٖؕ اِلَيۡهِ اَدۡعُوۡا وَاِلَيۡهِ مَاٰبِ ۞

ترجمہ:

اور وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی وہ اس سے خوش ہوتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے اور ان گروہوں میں سے بعض وہ ہیں جو اس (نازل شدہ) کے بعض کا انکار کرتے ہیں، آپ کہے کہ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کروں میں اسی کر طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے لوٹنا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی وہ اس سے خوش ہوتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے، اور ان گروہوں میں سے بعض ہو ہیں جو اس (نازل شدہ) کے بعض کا انکار کرتے ہیں، آپ کہئے کہ مجھے صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کروں، میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے لا ٹنا ہے (الرعد : 36) 

مسلمانوں اور یہودونصاری کا نزول قرآن سے خوش ہونا : 

اس آیت میں جو فرمایا ہے کہ : اور وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی ہے۔ اس آیت میں کتاب کی دو تفسیریں ہیں : ایک یہ ہے کہ اس سے مراد قرآن مجید ہے، دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس کتاب سے مراد تورات اور انجیل ہے۔ 

اگر اس سے مراد مسلمان ہو تو وہ سید محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل ہونے سے خوش ہوتے ہیں کیونکہ توحید، رسالت، قصص، احکام، تقدیر، قیامت اور جزا اور سزا سے متعلق جو آیات نازل ہوتی ہیں وہ ان پر ایمان لاتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ احکام پر عمل کر کے نیکیاں کماتے ہیں۔ (جامع البیان جز 13 ص 214، رقم الحدیث :15517) 

اور اگر اس سے مراد تورات اور انجیل ہو تو اس آیت کی تفسیر میں دو قول ہیں : 

حضرت عباس (رض) فرمایا اس مراد وہ اہل کتاب ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے مثلا : حضرت عبداللہ بن سلام اور حضرت سلمان (رض) اور وہ لوگ مراد ہیں جو نصارا میں سے مسلمان ہوگئے اور وہ اسی (80) کچھ زئد افراد تھے، چالیس (40) شخص نجران کے تھے، آ ٹھ (8) یمن کے اور بتیس (32) حبشہ کے تھے یہ لوگ قرآن مجید سے خوش ہوئے، کیونکہ یہ لوگ قرآن مجید پر ایمان لائے تھے اور انہوں نے قرآن مجید کی تصدیق کی تھی، اور یہ جو فرمایا ہے اور ان گروہوں میں سے بعض ہو ہیں جو اس (نازل شدہ) کے بعض کا انکار کرتے ہیں، اس سے مراد مشرکین ہیں۔ 

اور دوسرا قول یہ ہے کہ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی اس سے مراد یہود ہیں جن کو تورات دی گئی اور نصاری ہیں جن کو انجیل دی گئی، اس قرآن میں جو آیات نازل کی گئی ہیں اس وہ خوش ہوتے ہیں کیونکہ یہ قرآن تورات اور انجیل کا مصدق ہے، اور گروہوں سے مراد باقی کفار ہیں جو قرآن مجید کی بعض آیات کا انکار کرتے ہیں۔ 

انبیاء (علیہم السلام) کا امر اور نہی سے مکاف ہونا اور عصمت کی تعریف : 

نیز فرمایا : آپ کہئے کہ مجھے حکم دیا گیا میں اللہ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کروں۔ 

اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید میں جو احکام دئیے گے ہیں اور ان چیزوں سے منع کیا گیا ہے، ان تمام اوامرونو اہی کو بجا لانا اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے اور عبادت انتہائی تعظیم کا نام ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ بندہ صرف اللہ تعالیٰ کی انتہائی تعظیم کرنے کا مکاف ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اسی وقت شرح صدر سے ہوسکتی ہے جن انسان کو اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو، اور معرفت اس وقت ہوسکتی ہے جب بندہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کو دلائل سے جانے، اس سے معلوم ہوا کہ بندہ اس کا مکاف ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات اوصفات کا علم دلائل سے حاصل کرے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا مکاف ہے، اس آیت میں چونکہ خصوصیت سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ فرمایا ہے کہ آپ کہئے کہ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں صرف اللہ کی عبادت کروں اس لیے آپ اللہ کے اوامر اور نواہی مکاف ہیں اور بعض سفہاء نے یہ لکھا ہے کہ انبیاء کرام وملائ کہ کسی گناہ پر قادر نہیں اسی لیے یہ حضرات بابر کات نہی میں مکاف نہیں اور کسی نہی کے خطاب میں دخل نہیں، ہاں البتہ امر میں مکاف ہیں یعنی ان پاک و منزہ ہستیوں سے یہ کہا جاتا ہے کہ یہ کرو، یہ نہیں کہا جاتا کہ یہ مت کرو۔ (العطایا الاحمدیہ فی فتاوی خیمیہ ص 363) 

اس سفیہ نے انبیاء السلام کو نہی کا مکاف اس لیے نہیں مانا کہ تکلیف میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے انبیاء (علیہم السلام) کو گناہوں سے منع کیا گیا ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ گناہ مت کرو تو ان کے لیے گناہ کرنا ممکن ہوگا اور اس کے نزدیک انبیاء کا گناہ کرنا ممکن ہی نہیں ورنہ وہ معصوم نہیں رہیں گے اس لیے اس نے کہا انبیاء (علیہ السلام) نہی کے مکاف نہیں ہیں امر کے مکاف ہیں، مگر اس سفیہ نے اس پر غور نہیں کیا کہ جب اس نے انبیاء (علیہم السلام) کو امر کا مکاف مابن لیا تو اس پر لازم آئے گا کہ انہیں اس امر پر عمل کرنے کا اختیار ہے، امر پر عمل کریں یا نہ کریں اور امر پر عمل نہ کرنا گناہ ہے اور امر پر رمل نہ کرنے کی قدرت گناہ پر قدرت ہے تو اس کے زعم کے مطابق انبیاء (علیہم السلام) کا امر کا مکاف ماننے سے بھی وہ معصوم نہیں رہتے اور یہ خرابی اس لیے لازم آئی کہ اس نے یہ سمجھا ہے کہ عصمت کا معنی ہے گناہ پر قدرت نہ ہونا، حا لان کہ عصمت کا معنی یہ ہے : 

علامہ سعد الدین بن عمر تفتازانی متوفی 791 ھ لکھتے ہیں : 

عصمت کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندہ کی گناہ پر قدرت اور اس کے اختیار کے باوجود اس میں گناہ پیدا نہ کرے اور متکلمین کے اس قول کا بھی یہی معنی ہے۔ عصمت اللہ تعالیٰ کا لطف ہے جو بندہ کو نیک کام پر ابھار تا ہے اور برے کام سے روکتا ہے، باوجود اختیار کی بقاء کے تاکہ مکاف ہونے کا معنی پایا جائے، اس لیے شیخ ابو منصور ماتریدی نے کہا عصمت مکاف ہونے کو زائل نہیں کرتی، اور اس تحقیقی سے ان لوگوں کے قول کا فساد ظاہر ہوگیا جنہوں نے نے کہا عصمت شخص کے نفس میں یا اس کے بدن میں ایسی خاصیت ہے جس کے سبب سے اس سے گناہ کا صدور محال ہوجاتا ہے اور یہ قول کیوں نہ فاسد ہوگا، کیونکہ اگر بندہ سے گناہ کا صدور ممتنع ہو تو اس کو گناہ کے ترک کا مکاف کرنا صحیح نہ ہوگا اور نہ اس کو گناہ کے ترک پر ثواب ہوگا۔ (شرح عقائد ضفی 113، مطبع عہ کراچی)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 36