أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ مَّا نُرِيَـنَّكَ بَعۡضَ الَّذِىۡ نَعِدُهُمۡ اَوۡ نَـتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيۡكَ الۡبَلٰغُ وَعَلَيۡنَا الۡحِسَابُ ۞

ترجمہ:

اور اگر ہم ان سے کیے ہوئے کسی وعدہ کی تکمیل آپ کو دکھا دیں یا ( اس سے پہلے) آپ کا وفات دے دیں تو آپ کو ذمہ تو صرف پہنچانا ہے اور حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر ہم ان سے کیے ہوئے وعدہ کی تکمیل آپ کو دکھا دیں یا (اس سے پہلے) آپ وفات دے دیں تو آپ کے ذمہ تو صرف پہنچانا ہے اور حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ زمین کو اس کے اطراف سے کم کرتے جا رہے ہیں اور اللہ حکم فرماتا ہے اور کوئی اس کے حکم کر رد کرنے والا نہیں ہے۔ اور وہ بہت جلد حساب لینے و الا ہے۔ (الرعد : 41 ۔ 40) 

اطراف زمین کو کم کرنے کے محامل : 

پہلی آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر ہم کفار مکہ پر عذاب نازل کرنے سے پہلے آپ کی روح قبض کرلیں یا آپ کو ان کا کچھ عذاب دکھا دیں تو اس سے آپ کے مشن اور کا ز پر کیا فرق پڑے گا، آپ فریضہ تو قرآن مجید کا پہنچانا اور احکام شرعیہ کی تبلیغ کرنا اور رہا کافروں سے حساب لینا تو یہ ہمارا کام ہے۔ 

پھر دوسری آیت میں یہ فرمایا کہ کفار پر عذاب نازل ہونے کی چند علامتیں تو ظاہر ہوچکی ہیں، اور وہ یہ ہیں کہ جن علاقوں ر کفار کا قبضہ اور اقتدار تھا وہ کم ہو کر سمٹتے جا رہے ہیں اور مسلمان ان علاقوں کو فتح کر کے ان پر قبضہ کرتے جارہے ہیں۔ 

اس دوسری آیت کی یہ تقریری بھی کی گئی ہے کہ کفار یہ نہیں دیکھتے کہ دنیا میں تخریب اور تعمیر کا عمل مسلسل جاری ہے، موت کے بعد حیات ہے اور ذلت کے بعد عزت ہے اور نقص کے بعد کمال ہے اور بیمار کے بعدصحت ہے غرض دنیا میں تغیرات اور حوادث مسلسل روبعمل رہتے ہیں تو کفار کو یہ خوف اور خطرہ کیوں نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ان کافروں کے احوال پلٹ دے گا اور ان کو عزت کے بعد ذلت میں مبتلا کر دے گا۔ 

زمین کی اطراف میں کمی کی ایک یہ تقریر بھی کی گئی ہے کہ زمین میں مقتدر، معزز اور متکبر لوگ تھے وہ مرتے رہے اور زمین ان سے خالی ہوتی رہی ہے تو اس وقت جو کافر متکبر مغرور ہیں وہ کسی وجہ سے مطمئن اور بےخوف ہیں جیسے پچھلی امتوں کے جابر اور متکبر لوگ مثلا فرعون، ہامان اور نمرود وغیرہ زمین کو خالی کر جائیں گے۔ 

اللہ تعالیٰ اپنے احکام کو نافذ فرماتا ہے، اور اس کے احکام سے معارضہ کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اور وہ جلد حساب لے گا اور کافروں کو ان کے جرائم کی قرارواقعی سزادے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 40