أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلًا مِّنۡ قَبۡلِكَ وَ جَعَلۡنَا لَهُمۡ اَزۡوَاجًا وَّذُرِّيَّةً ‌ ؕ وَمَا كَانَ لِرَسُوۡلٍ اَنۡ يَّاۡتِىَ بِاٰيَةٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰهِ‌ ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ ۞

ترجمہ:

اور بیشک ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے تھے اور ہم نے ان کے لیے بیویاں اور اولاد بھی بنائی، اور کسی رسول کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی معجزہ پیش کرے، ہر چیز کی مدت کتاب تقدیر میں لکھی ہوئی ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور نے شک ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے تھے، اور ہم ان کے لیے بیویاں اور اولاد بھی بنائی، اور کسی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی معجزہ پیش کرے، ہر چیز کی مدت، کتاب تقدیر میں لکھی ہوئی ہے (الرعد :38) 

قریش کا یہ اعتراض کہ اگر آپ نبی ہیں تو پھر آپ نے شادیاں کیوں کیں ؟ 

مشرکین مکہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت میں طرح طرح کے شہبات پیش کیا کرتے تھے، کبھی یہ کہتے تھے اگر یہ واقعی نبی ہوتے تو یہ بھی کسی پہاڑ سے اونٹنی نکال کر دکھا تے، یالاٹھی کو سانپ بن کردکھاتے، یامردوں کو زندہ کر کے ان سے باتیں کرتے اور کبھی کہتے تھے : 

وَقَالُوا مَالِ هَذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الأسْوَاقِ لَوْلا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا (الفرقان :7) اور انہوں نے کہ اس رسوکو کیا ہوا ہے یہ کھا ناکھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے، اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہیں نازل کیا گیا جو اس کے ساتھ (لوگوں کو عذاب سے) ڈراتا۔ 

کبھی یہ اعتراض کرتے تھے :

لَوْ مَا تَأْتِينَا بِالْمَلائِكَةِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ (الحجر :7) اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لاتے۔ 

ان کے خیال میں نبی کو فرشتہ ہونا چاہیے تھا اس لیے وہ سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کھانے پینے پر بھی اعتراض کرتے تھے اور آپ کی ازواج اور اولاد پر بھی اعتراض کرتے تھے اللہ تعالیٰ ان کے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا بیشک ہم نے آپ سے پہلے بھی رسول بھیجے تھے اور ان کے لیے بیویاں اور اوالاد بھی بنائی تھی، سو جب ان گزشتہ رسولوں کے حق میں تعداد ازواج اور اولاد کی ان رسالت کے منافی نہیں تھی تو سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حق میں دتعداد ازواج اور ان کی رسالت کے منافی کیوں ہوگی ! 

اس اعتراض کا یہ جواب کہ انبیاء سابقیین نے تو بہت شادیاں کی تھیں !

حضرت داؤد (علیہ السلام) کی سو بیویاں تھیں، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سات سو بیویاں اور تین سو باندیاں تھیں۔

حضرت ابو لقاسم علی بن الحسن ابن عساکر متوفی 571 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت داؤد (علیہ السلام) کی سو بیویاں تھیں، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سات سو بیویاں اور تین سو باندیاں تھیں۔ (مختصر تاریخ دمشق جز 8 ص 129، مطبو عہ دارالفکر بیروت، 1405، البدیہ والنہایہ ج 1 ص 462، 463، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1418 ھ) 

اور اس حدیث کی تصدیق موجودہ تورات میں بھی ہے :

اور سلیمان بادشاہ فرعون کی بیٹی کی علاوہ بہت سے اجنبی عورتوں سے یعنی موآبی عمونی، ادومی، صیدانی اور حتی عورتوں محبت کرنے لگا۔ وہ ان قوموں کی تھیں جن کا بابت خداوند نے بنی اسرائیل سے کہا تھا کہ تم ان کے بیچ نہ جانا اور نہ وہ تمہارے بیچ آئیں کیونکہ وہ وضرور تمہارے دلوں کو اپنے دیوتاؤں کی طرف مائل کرلیں گی۔ سلیمان ان ہی کے عشق کا دم بھر نے لگا۔ اور اس کے پاس سات سو شاہزادیاں اس کی بیویاں اور تین سو حر میں تھیں اور اس کی بیویوں نے اس کے دل کے پھیر دیا۔ (کتاب مقدس، پر اباعہد نامہ، ص 340، سلاطین باب : 11 آیت : 4 ۔ 1، مبطوعہ سو سائٹی لاہور) 

مشرکین مکہ اور ان کے اعتراض کا دور نو گزر گیا، اب مستشر قین کی دیدہ عبرت سے تورات کی ان آیات کو پڑھنا چاہیے، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سات سو بیویوں اور تین سو باندیاں تھیں جو ان کے حرم میں داخل تھیں یہ تعداد حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے قابل اعتراض نہیں ہے تو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گیارہ عورتوں سے نکاح کرنا آپ کی نبوت کے لیے کیسے قابل اعتراض ہوگا۔ 

مستشرقین کے اس اعتراض کا جواب کہ آپ نے بہت شادیاں کی تھیں : 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکاح میں گیارہ ازواج مطہرات مجمتع ہوئیں اور جس وقت آپ کی وفات ہوئی اس وقت نو ازواج مطہرات تھیں۔ 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دن اور رات کی ایک ساعت میں تمام ازواج کو مشرف فرماتے تھے، اور وہ گیارہ ازواج تھیں۔ قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس سے پوچھا کی آپ اس کی طاقت رکھتے تھے۔ حضرت انس کہا ہم یہ باتیں کرتے تھے کہ آپ کو تیس مردوں کی طاقت دی گئی تھی۔ (صحیح رقم الحدیث :268 صحیح مسلم رقم الحدیث :390) 

حافظ شہاب الدین احمد بن علی حجر عسقلانی متوفی 852 ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے : 

حضرت انس (رض) سے ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پندرہ عورتوں سے نکاح کیا اور گیارہ عورتوں سے رخصتی ہوئی اور جس وقت آپ کی وفات ہوئی تو نو ازواج مطہرات تھیں۔ اسماعیل کی روایت میں ہے کہ آپ چالیس مردوں کی طاقت رکھتے تھے اور حلیہ میں ہے کہ آپ کو چالیس جنتی مردوں کی طاقت تھی، اسماعیلی کی روایت میں ہے نسائی اور امام حاکم نے سند صحیح کے ساتھ حضرت زید بن ارقم سے مرفوعا روایت کیا ہے کہ ایک جنتی مرد کھانے پینے، جماع کرنے کی اور شہوت میں ایک سو دنیاوی مردوں کی طاقت رکھتا ہے۔ اس سے حساب سے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چار ہزار مردوں کی طاقت رکھتے تھے۔ (فتح الباری ج 1 ص 378 مطبو عہ لاہورر، 1401 ھ) 

ایک دنیاوی مرد چار عورتوں سے نکاح کی طاقت رکھتا ہے اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں چار ہزار مردوں کی طاقت تھی اس حساب سے آپ سولہ ہزار عورتوں سے نکاح کی طاقت رکھتے تھے لیکن آپ نے اپنے حرم میں صرف گیارہ ازواج مطہرات کی داخل کی سو ان مستشر قین اور دیگر معترضین کو سوچنا چاہیے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صرف گیارہ ازواج کو رکھنا آپ کی شہوت کی بہتات تھی یا آپ کا اپنے نفس پر کمال ضبط تھا۔ 

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کی تفصیل : 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گیارہ ازواج مطہرات کو اپنے حرم میں داخل کیا، چار یا پانچ وہ خواتین ہیں جن سے آپ نے نکاح کیا اور رخصتی کا شرف نہیں بخشا اور چار آپ کی باندیاں تھیں۔ علامہ شمس الدین محمد بن ابی بکر ابن القیم جو زیہ متوفی 751 ھ نے ان کی تفصیل اس طرح بیان کی ہے۔ 

وہ ازواج مطہرات جن کو آپ نے حرم میں داخل کیا ان کی تفصیل یہ ہے :

(1) آپ کی سب سے پہلی زوجہ حضرت خدیجہ بنت خویلد القر شیہ الا سد یہ ہیں۔ آپ نے اعلان نبوت سے پہلے ان سے عقد کیا تھا، اور حضرت کی عمر چالیس سال تھی (وہ بیوہ خاتوں تھیں) آپ نے ان کی موجودگی میں دوسر شادی نہیں کہ حتی کہ ان کی وفات ہوگئی۔ حضرت ابراہیم کے علاوہ آپ کی تمام اولاد ان ہی سے ہوئی۔ ہجرت سے تین سال پہلے ان کا انتقال ہو اتھا، وہ سب سے پہلے اسلام لائیں اور فرائض نبوت میں انہوں نے آپ کی بہت مدد کی اور اسلام کے لیے اپنا مال خرچ کیا۔ 

(2) ان کی وفات کے چند ایام بعد آپ نے حضرت سودہ بنت زمعہ القرشیہ سے نکاح کی، انہوں نے اپنی باری حضرت عائشہ (رض) کے لیے بخش دی تھی۔ حضرت سودہ نے حضرت عمر کی خلافت کے آخری ایام میں وفات پائی۔ (الا ستیعاب رقم : 3428) 

(3) اس کے بعد آپ نے حضرت ام المو منین عائشہ بنت الصدیق سے نکاح کیا، ان سے جب نکاح ہوا تو ان کی عمر چھ سال تھی، اور ہجرت کے پہلے سال ان کی رخصتی ہوئی، اس وقت ان کی عمر نو سال تھی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :3894، صحیح مسلم رقم الحدیث 1422) حضرت عائشہ (رض) کے علاوہ آپ کسی کنواری عورت سے نکاح نہیں ہوا اور تمام ازواج میں سے صرف حضرت عائشہ کو شرف حاصل ہے کہ ان کے بستر پر وحی نازہ ہوئی اور آپ کی برات میں سورة نور کی دس آیتیں) 11 ۔ 20) نازل ہوئیں۔ آپ بہت فقیہ اور عالمہ تھیں اور اکابر صحابہ آپ سے مسائل دریافت کرتے تھے۔ آپ نے سترہ رمضان 58 ھ میں منگل کی شب وفات پائی۔ حضرت ابوہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور اسی رات بقیع میں دفن کردی گئیں۔ (الاستیعاب رقم : 3463) 

(4) اس کے بعد آپ نے حضرت حفصہ بنت عمر الخطاب (رض) سے عقد کیا، ان کو آپ نے طلاق دی تھی پھر رجوع فرما لیا تھا۔ (سنن اوبو داؤد رقم الحدیث :2283، سنن النسائی رقم الحدیث : 3562) تین ہجری میں آپ سے نکاح ہو اتھا اور اکتالیس یا پنتالیس ہجری میں آپ کی وفات ہوئی (الاصانہ : 11053) 

(5) اس کے بعد آپ نے حضرت زینب خزیمہ بن الحارث نے نکاح کیا۔ یہ رخصتی کے دو ماہ بعد فوت ہوگئیں تھیں۔ 

(6) پھر آپ نے حضرت ام سلمہ ہند بنت امیہ القرشیہ المخزو میہ س نکاح کیا۔ یہ آپ کی ازواج میں سب سے آخر میں فوت ہوئیں تھیں اور ایک قول یہ ہے کہ حضرت صفیہ سب سے آخر میں فوت ہوئی تھیں۔ حافظ اب حجر عسقلانی کی تحقیق یہ ہے کہ آپ 63 ھ میں فوت ہوئیں۔ (الاصابہ : رقم : 12065) 

(7) پھر آپ نے حضرت زنیب بن جحش سے نکاح کیا۔ یہ بنو اسد سے تھیں۔ یہ آپ کی پھوپھی امیمہ کی بیٹی تھیں۔ ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی تھی :

فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا (الاحزاب :37) پھر جب زید نے (اس کو طلاق دے کر) اس سے اپنی غرض پوری کرلی تو ہم نے (عدت کے بعد) آپ کا اس سے نکاح کردیا۔ 

اس وجہ سے حضرت زینب بنت جحش باقی ازواج پر فخر کرتی تھیں تمہارا نکاح تمہارے گھر والوں نے کیا اور میرا نکاح سات آسمانوں کے اوپر اللہ تعالیٰ نے کیا۔ آپ حضرت عمر فاروق کی خلافت کے ابتدائی دور میں فوت ہوگئی تھیں۔ واقدی نے کہا ہے کہ نکاح کے وقت ان کی عمر 35 سال تھی، آپ بیس ہجری میں فوت ہوئیں اور انہوں نے 50 یا 53 سال عمر پائی۔ (الاصابہ رقم 11227) 

(8) پھر حضرت جو یرہ بنت الحارث سے آپ نے نکاح کیا کیا تھا، یہ بنو المصطلق کے قیدوں میں آئی تھیں۔ انہوں نے آپ سے مکاتب کی رقم کی ادائیگی میں مدد کی درخواست کی تھی۔ آپ نے ان کی طرف سے رقم ادا کی پھر ان سے نکاح کرلیا۔ آپ ان سے پانچ یا چھ ہجری میں نکاح کیا تھا، اور آپ ربیع الاول 56 ھ میں فوت ہوگئیں۔ ( الا ستیعاب رقم : 3318) 

(9) پھر آپ نے حضرت ام حبیبہ سے نکاح کیا، ان کا نام رعلہ بنت ابی سفیان ہے۔ یہ حبشہ کے ملک میں ہجرت کر کے گئی تھیں۔ نجا شی نے آپ کر طرف سے وکیل ہو کر ان سے آپ کا نکاح کی اور چارسو دینار مہر رکھا، پھر آپ کے پاس بھجوادیا۔ یہ اپنے بھائی حضرت معاویہ کے ایام میں وفات پائی تھیں۔ چھ یا سات ہجری میں ان سے نکاح ہوا تھا اور یہ 44 ھ میں مدینہ منورہ میں فوت ہوئی تھیں۔ 

(10) پھر آپ نے حضرت صفیہ بنت حیی بن اخطب سے نکاح کیا جو بنو نضیر کے سردار تھے۔ یہ حضرت ہارون بن عمران کے نسب سے تھیں۔ یہ نبی کی بیٹی اور نبی کی زوجہ تھیں اور دنیا کی تمام عورتوں میں سب سے زیادہ حسین تھیں۔ یہ بھی قید ہو کر آئی تھیں، آپ نے ان کے آزاد کر کے ان سے نکاح کرلیا۔ 7 ہجری میں ان سے نکاح ہوا تھا اور واقدی کی تحقیقی کے مطابق 56 ھ میں ان کی وفات ہوئی ۔ (الا صابہ رقم : 11407) 

(11) پھر آپ نے حضرت میمونہ بنت الحارث سے نکاح کیا، سب سے آخر میں ان سے نکاح کیا۔ جب آپ عمرت القضاء کرنے گئے تھے تو آپ نے مکہ میں ان سے نکاح کیا۔ یہ حضرت معاویہ کے ایام حکومت میں فوت ہوئیں، ان کی قبر مقام سرف میں ہے۔ آپ نے سات ہجری میں ان سے نکاح کیا تھا اور یہ 61 یا 63 ھ میں فوت ہوگئی تھیں۔ حضرت ابن عباس (رض) نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ (اسد الغابہ رقم : 7305) 

نیز علامہ ابن قیم جو زیہ متوفی 761 ھ میں لکھتے ہیں : 

جن خواتین کو آپ نے نکاح کا پیغام دیا اور ان سے نکاح کیا، اور جن خواتین نے اپنے آپ کے لیے ہبہ کیا اور آپ نے ان سے نکاح نہیں کیا ان کی تعداد چار یا پانچ ہے۔ بعض علماء نے کہا کہ ان کی تعداد تیس ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت اور آپ کے احوال جاننے والوں کے نزدیک یہ تعداد معروف نہیں بلکہ وہ اس انکار کرتے ہیں اور ان کے نزدیک معروف یہ ہے کہ آپ نے الجونیہ کا نکاح کا پیغام بھیجا اور جب شب زفاف کے لیے اس کے پاس گئے۔ اس نے کہا میں آپ سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ آپ نے اس کو پناہ دے دی اور اس سے نکاح نہیں کیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث (5254) ا سی طرح آپ نے الکیہ کو نکاح کا پیغام دیا اور اس سے نکاح نہیں کیا، اور بنو غفار کی ایک عورت سے نکاح کیا، اس کے پہلو میں سفیدی تھی، آپ نے اس کو اس کے اہل کی طرف واپس بھیج دیا۔ (المستدرک) یہ تفصیل مصدقہ اور مستند ہے۔ 

اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ جب آپ کا وصال ہوا اس وقت آپ کی نو ازواج حیات تھیں۔ حضرت عائشہ (رض) ، حضرت حفصہ، حضرت زینب بنت جحش، حضرت صفیہ، حضرت ام حبیبہ، حضرت میمونہ، حضرت سودہ اور حضرت جو یرہ (رض) آپ کی بعد جن کی سب سے پہلے وفات ہوئی وہ حضرت زینب بنت جحش (رض) ہیں۔ یہ 20 ھ میں فوت ہوئیں اور سب سے آخر میں حضرت ام سلمہ (رض) کی یزید بن معاویہ کے دور حکومت میں 62 ھ میں وفات ہوئی۔ ( حافظ ابن حجر کی تحقیق یہ ہے کہ 63 ھ میں فوت ہوئیں (زادلمعاد ج 1 ص 66 ۔ 58، ملخصا، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1419 ھ) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تعداد ازواج پر اعتراض کے جوابات : 

بعض عیسائی اور سوشلسٹ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عام مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ چار شادیاں کرنے کا حکم دیا ہے اور خود آپ نے ایک وقت میں نو ازواج سے شادیاں کی ہیں، کیا آپ کے پاس اشتہاء زیادہ تھی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پچیس سال تک زندگی تجرد میں گزاری، حالانکہ شباب کی امنگوں کا اصل زمانہ یہی ایام ہوتے ہیں۔ پھر اقرباء کے کے اصرار اور دو سری جانب سے درخواست پر حضرت خدیجہ (رض) سے عقد کیا، جن کی عمر ڈھل چکی تھی اور دو مرتبہ بیوہ ہوچکی تھیں۔ پچاس سال کی عمر تک پورے سکون اور کامل اطمینان کے ساتھ اسی پاک باز رفیقہ حیات کے ساتھ زندگی بسر کی۔ یہ وہی زمانہ تھا جب آپ دنیاوی مشاغل کو ترک کر کے غاروں اور پہاڑوں میں جا کر مسلسل کئی کئی دن تک خدائے واحد کی عبادت کرتے تھے اور اللہ کی یہ نیک بندی آپ کے لیے تو شہ تیار کرتیں اور آپ عبادت میں امداد اور معاونت کرتی تھیں۔ زندفی کا یہ دور عموما نفسانی خواہشوں اوار شہوانی جذبات کی ہنگا مہ خیزیوں کا زمانہ ہوتا ہے لیکن بڑے سے بڑا معاند اور کڑ سے کٹر مخالف اور متعصب بھی آپ کی زندگی کے اس حصہ میں آپ کی عفت اور پاکبازی کا خلاف ایک حرف بھی نقل نہیں کرسکتا، اور یہ ان کی سیرت کا ذکر ہے جن کی جسمانی قوت چالیس جنتی مردوں کے برابر ہے۔ (صحیح بخاری ج 1 ص 41، مطبو عہ اصح المظابع) اور ایک جنتی مرد کی طاقت چار ہزار مردوں کے برابر تھی، اس حساب سے چاہیے تھا کہ چار ہزار بلکہ سولہ ہزار بیویاں آپ کے نکاح میں ہوتیں ! پھر آپ کی شدید ریاضت اور ضبط نفس کا کیا ٹھکانا ہے کہ پچاس سال کی عمر تک ایک بیوہ کے ساتھ شادی کر کے زند گی گزاری۔ 

حضرت خدیجہ کے انتقال کے بعد آپ نے حضرت سودہ اور پھر عائشہ سے عقد کیا جو آپ کی ازواج میں تنہا کنواری خاتوں تھیں، ان کے علاوہ جس قدر ازواج آپ کے نکاح میں آئیں وہ سب بیوہ تھیں، وصال کے وقت آپ کی نو ازواج تھیں : حضرت عائشہ (رض) ، حضرت حفصہ، حضرت زینب بنت جحش، حضرت صفیہ، حضرت ام حبیبہ، حضرت میمونہ، حضرت سودہ اور حضرت جو یرہ (رض) وارضا ہن، دنیا کا سب سے بےمثال انسان جو چار ہزار ازواج کا مستحق ہو، اس کے عقد میں صرف نو ازواج دیکھ کر کوئی انصاف پسند اس پر کثرت ازواج کا الزام لگا سکتا ہے ! 

رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر ترپن سال سے متجاوز ہوچکی ہے۔ غظیم الشان فتو حات کا تانتا بندھا ہوا ہے، اموال غنیمت کی ریل پیل ہے، اس کے باوجود آپ کسی ایک دن میں بھی پیٹ بھر کر کھانا کھاتے، کبھی ایسے مسلسل دو دن نہیں آئے جب دونوں دن آپ کے گھر میں چولہا جلاہو، جو کچھ آتا اللہ کے راستہ میں دے دیتے۔ اختیاری فقروفاقہ سے پیٹ پر پتھر باندھتے، مہینوں ازواج مطہرات کے حجروں سے دھو اں نہ اٹھتا صرف پانی اور کھجور پر گزارا چلتا، روزے پر روزہ رکھتے، کئی کئی دن افطار نہ کرتے رات بھر قیام کی وجہ سے پاؤں پر ورم آجاتا۔ عیش و عشرت کا سامان تو کجا ازواج سے صاف کہہ دیا تھا کہ جسے آخرت کی زندگی پسند ہو وہ ہمارے ساتھ رہے اور جسے دنیا کا عیش عزیز ہو وہ چلی جائے، ان تمام حالات کے باوجود تمام ازواج کے حقوق ایسے احسن طریقے سے ادا کیے جن کا کوئی شخص تصور بھی نہیں کرسکتا۔ میدان جنگ میں جب کفار کے لشکر کے مقابلہ میں بڑے بڑے بہادر اور قوی جوان حوصلہ ہار جاتے تو آپ چٹان کی طرح ڈٹے رہتے ازواج سے تعلق خاطر عبادات اور فرائض رسالت میں کبھی حائل نہیں ہوا یہی وجہ تھی کہ کفار ارمشرکین کو آپ کے دعوی نبوت ہونے اور ڈوبے ہوئے سورج کے لوٹ آنے سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ آپ نے خاک اڑانے اور گالیاں دینے والوں سے اچھا سلوک کیا، پتھروں سے گھا ئل کرنے والوں کو دعائیں دیں۔ ابن ابی کی نماز جنازہ بڑھائی اور فتح مکہ کے بعد غلبہ پاکر تمام دشمنوں کو معاف کردیا۔ ایسی بےنظیر سیرت اور کردار کے مالک شخص کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ انہوں نے نفسانی خواہش کی وجہ سے متعدد شادیاں کیں، عدل و انصاف سے کس قدر بعید ہے ! 

جب یہ بات واضع ہوگئی کہ متعدد شادیوں کی وجہ نفسانی خواہش نہیں تھی تو پھر یہ سوال پیدا ہوگا کہ آخر اس کی حکمت کیا تھی سو ہم اس کی حکمتیں بیان کر رہے ہیں : 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تعدد ازواج کی حکمتیں : 

(1) سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تعدد ازواج کی سب سے بڑی حکمت اسلام کی تبلیغ تھی۔ بنو مصطلق کا قبیلا اسلام دشمنی میں بہت مشہور تھا۔ غزوہ بنو مصطلق میں اس کو شکست ہوئی اور اس قبیلہ کے بہت سے افراد مسلمانوں کے قیدی بن گئے۔ ان قید یوں میں بنو مصطلق کے سردار کی بیٹی جو یرہ بنت حارث بھی تھیں وہ حضرت ثابت بن قیس کے حصہ میں آئی تھیں۔ انہوں نے حضرت ثابت بن قیس سے بدل مکاتبت کا معاہدہ کی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زرمکاتبت میں مدد کرنے کی درخواست کی۔ آپ نے ان کو یہ پیشکش کی کہ اگر وہ چاہیں تو آپ ان کی مکا تبت کی رقم ادا کردیں اور اس کے عوض آپ سے نکاح کرلیں۔ انہوں نے اس کو منظور کرلیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ذمہ کی رقم ادا کر کے ان سے نکاح کرلیا، جب مسلمانوں کو یہ معلوم ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جویرہ سے نکاح کرلیا ہے تو انہوں نے ببو مصطلق کے تمام قیدیوں کو یہ کہہ کر آزار کرایا کہ یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سسرالی رشتہ دار ہیں۔

امام ابو داؤد سلیمان بن اثعت متوفی 675 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ حضرت جو یرہ بنت الحارث بن المصطلق، حضرت ثابت بن قیس یا ان کے عم زاد کے حصہ میں آئی تھیں۔ انہوں نے آپنے مکا تبہ کرلیا۔ وہ ملیح عورت تھیں۔ انہوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بدل کتابت میں مدد کی درخواست کی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا میں تم کو اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں ! انہوں نے پوچھا وہ کیا ہے یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا میں تمہارا بدل کتابت ادا کر دوں اور تم سے نکاح کرلوں۔ حضرت جو یرہ نے کہا میں نے اس کو منظور کرلیا۔ جب مسلمانوں سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جو یوہ سے نکاح کرلیا ہے تو ان کی ملکیت میں جتنے قیدی تھے انہوں نے ان کو آزاد کرد یا، انہوں نے کہا یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سسرالی رشتہ دار ہیں اور ہم نے حضرت جو یرہ کے سوا کوئی ایسی عورت نہیں دیکھی جو اپنی قوم کو حق میں اس قدر بابرکت ثابت ہوئی ہو، کیونکہ مسلمانوں نے بنو المصطلق کے سو گھرانوں کو آزاد کردیا تھا۔ (سنن ابو داؤد رقم الحدیث :3931، مسند احمد ج 6 ص 277 قدیم، مسند احمد رقم الحدیث 26897، عالم الکتب، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :4055، 4054 ۔ المعجم الکبیر ج 24 رقم الحدیث :159، المستدرک ج 4 ص 26، سنن کبری للبیہقی ج 9 ص 75 ۔ 74، الطباق الکبری ج 8 ص 92، رقم : 4134، دارالکتب العلمیہ، البدایہ والنہایہ ج 3 ص 322، سبل الہدی والر شادج 4 ص 347 ۔ 346) 

اور اس حسن سلوک کی وجہ سے یہ تمام مسلمان ہوگئے۔ 

ابو سفیان بھی اسلام کے زبر دست مخالف تھے، لیکن جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی بیٹی حضرت ام حبیبہ رملہ بنت ابی سفیان سے نکاح کرلیا تو پھر ابو سفیان کی دشمنی کا زور ٹوٹ گیا اور وہ بہت جلد مسلمان ہوگئے پھر وہی ابو سفیان جو اسلام کے خلاف لشکر کشی کرتے تھے، اب اسلام کی تبلیغ کے لیے سرد دھڑ کی بازی لگانے لگے۔ 7 ہجری میں یہ نکاح ہو اتھا اور 8 ہجری میں ابو سفیان مسلمان ہوگئے۔ 

(٢) بعض شادیاں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تشریعی مقاصد کے لیے کیں، اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ عربوں میں یہ دستور تھا کہ وہ کسی شخص کو اپبا بیٹ بنا لیت تھے اور اس کو حقیقی بیٹا نہیں ہوجا تا اور اس کی مطلقہ بیوی سے وہ شخص نکاح کرسکتا ہے۔ آپ نے حضرت زید بن حارثہ کو منہ بولا بیٹا بنایا تھا اور ان کی شادی اپنی پھو پھو زاد بہن حضرت زینب بنت جحش (رض) سے کردی اور جب ان میں باہمی نا اتفاقی کی بناء پر حضرت زید نے ان کو طالق دے دی تو عدت گزرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے خود حضرت زینب کا نکاح آپ سے کردیا تاکہ مسلمانوں کے لیے آپ کی زندگی میں یہ نمونہ ہو کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح کرنا جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ قرآن مجید میں اس نکاح کا ذکر ہے : 

فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولا ( الا حزاب : ٣٧) جب زین نے ( اس کو طلاق دے کر) اپنی غرض پوری کرلی تو ہم نے (عدت کے بعد) آپ کا نکاح اس سے کردیا تاکہ ایمان والوں کے لیے اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیو یوں سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہ رہے جب وہ ان سے اپنی غرض پوری کرچکے ہوں، اور اللہ کا حکم ضرور ہو کر رہتا ہے۔ 

حضرت ام حبیبہ سے نکاح کرنے بھی ایک تشریعی مقصد کو پورا کرنا تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں اور حضرت ام حبیبہ حبشہ میں تھیں۔ نجا شی نے 400 دینار کے عوض حضرت ام حبیبہ کا نکاح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کردیا۔ (المبوط ج 5 ص 101) اس سے معلوم ہوا کہ لڑکی مثلا پاکستان میں ہو اور لڑکا امریکہ میں ہو اور لڑکا پاکستان میں کسی شخص کو خط یا ٹیلی فون کے ذریعے اپنا ولی یا وکیل بنا دے تو وہ ولی اس لڑکے کا اس لڑکی سے نکاح کرسکتا ہے اور یہ نکاح اسی طرح ہوجائے گا جس طرح حضرت ام حبیبہ کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نکاح ہو تھا۔ 

(3) آپ کی متعدد شادیوں کی تیسری حکمت مسائل دینیہ کی تعلیم ہے، عورتو کے بعض مخصوص مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کو مرد عورتوں کے سامنے بیان کرنے میں حجاب محسوس کرتے ہیں مثلا حیض، جنابت اور عمل اور ازواج سے متعلق مسائل، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ مسائل اپنی اوزاج مطہرات سے بیان کرتے ہیں اور وہ دوسری عورتوں کو بیان کرتیں۔ 

(4) چوتھی وجہ احادیث کی اشاعت اودین کی تبلیغ ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کا ایک حصہ وہ تھا جو آپ گھر سے باہر مردوں میں گزارتے تھے اور ایک حصہ وہ تھا جو آپ گھر میں ازواج مطہرات کے ساتھ گزار تے تھے۔ جس طرح گھر میں بھی آپ کے ارشادات کو سننے والی اور آپ کے افعال کو دیکھنے والی عورتیں ہونی چاہیں تاکہ آپ کی خارجی اور داخلی زندگی کے تمام پہلو امت کے سامنے آجائیں اور جس طرح مسلمانوں کے لیے آپ کی زندگی میں نمونہ ہے اسی طرح مسلمانوں کو آپ کی گھریلوں اور نجی زندگی سے بھی اپنی خانگی اور عائلی زندگی گزارنے کے لیے نمونہ حاصل ہوجائے۔ ازواج مطہرات سے بہت احادیث راوایت کی گئی ہیں۔ 

مسند احمد میں نمبر 24511 سے لے کر 26944 تک حضرت عائشہ (رض) کی رعایت کی ہوئی احادیث ہیں، ان کی کل تعداد 2433 ہے۔ حضرت حفصہ (رض) کی 148 احادیث ہیں۔ حضرت ام سلمہ (رض) کی 1282 احادیث ہیں۔ حضرت زینب بنت جحش کی چار روایت ہیں۔ حضرت جو یرہ بنت الحارث کی بھی چار روایات ہیں۔ حضرت ام حبیبہ کی 26 روایت ہیں اور یہ کل 2864 روایات ہیں غور فرمائیے تقریبا تین ہزار روایات ازواج مطہرات سے مروی ہے، اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت خدیجہ یا پھر حضرت سودہ کے بعد اور شادی نہ کی ہوتے تو دین کا کتنا بڑا حصہ مسلمانوں تک پہچنے سے رہ گیا ہوتا !

(5) بعض ازواج سے آپ نے صحابہہ کی دل جوئی کے لیے نکاح کیا، حضرت حفصہ (رض) پہلے حضرت خنیس بن حذافہ کے نکاح میں تھیں یہ بد ری صحابی تھے اور مدینہ منورہ میں فوت ہوگئے اور حضرت عمر (رض) ان کے رشتہ کے لیے بہت پریشان تھے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے دل جوئی اور ان کی محبت اور خدمات کا صلہ عطا کرنے کے لیے ان سے نکاح کیا۔ 

امام محمد بن سعد متوفی 230 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت خنیس بن حذفہ سہمی کے فوت ہوجانے سے حضرت حفصہ بیوہ ہوگئیں تو حضرت عثمان بن عفان (رض) کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ وہ ان کی بیٹی حضرت حفصہ نکاح کرلیں، حضرت عثمان نے کہا میں اس مسئلہ پر غور کروں گا۔ پھر چند دن کے بعد ان کی پھر حضرت عثمان سے ملا قات ہوئی حضرت عمر نے دوبارہ ان سے کہا۔ حضرت عثمان نے کہا میری رائے یہ ہوئی کہ میں ابھی نکاح نہ کروں۔ حضرت عمر نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے ملا قات کی اور ان سے کہا کہ وہ حضرت حفصہ سے نکاح کرلیں۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر خاموش ہوگئے اور انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ حضرت عمر کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر کی خاموشی سے مجھے حضرت عثمان کے انکار سے بھی زیادہ رنج ہوا، میں چند دن ٹھرا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ (رض) سے نکاح کا پیغام دیا، تو حضرت عمر نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ساتھ حضرت حفصہ کا نکاح کردیا، اس کے بعد حضرت ابوبکر نے حضرت عمر سے کہا شاید میری خامو شی سے تمہیں رنج ہوا ہوگا۔ حضرت عمر نے کہا ہاں ! حضرت ابوبکر نے کہا جب تم مجھے رشتہ کی پیشکش کی تھی تو مجھے اس رشتہ کو قبول کرنے سے اس کے سوا اور کوئی چیز مانع نہیں تھی کہ مجھے علم تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ کا ذکر کیا تھا اور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا راز فشاء نہیں کرنا چاہتا تھا، اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس رشتہ کو ترک کردیتے تو میں اس رشتہ کو ضرورقبول کرلیتا۔ امام محمد بن سعد نے ایک اور سند سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت عثمان نے اس رشتہ سے انکار کردیا تو حضرت عمر نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حضرت عثمان کی شکایت کی، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا میں تم کو عثمان سے بہتر داماد کی طرف رہنمائی نہ کروں اور عثمان کو تم سے بہتر سسر کی طرف رہنمائی نہ کروں۔ میں نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ سے نکاح کرلیا، اور حضرت عثمان کا نکاح اپنی صا حب زادی حضرت ام کلثوم سے کردیا، اس سے پہلے حضرت رقیہ فوت ہوچکی تھیں۔ (اطبقات الکبری ج 8 ص 66 ۔ 65، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1418 ھ، الا صانہ ج 8 ص 85، مطبو عہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1415 ھ) 

حضرت حفصہ سے پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکاح میں حضرت عائشہ (رض) موجود تھیں جن سے آپ کو بہت محبت تھی، تو حضرت حفصہ (رض) سے نکاح کرنے کا داعیہ اس کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ آپ اپنے محب صادق اور اسلام کے بطل جلیل اور عظیم صحابی کی دل جوئی اوعران کی رفاقت کا حق ادا کرنا چاہتے تھے۔ 

(6) سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہر شبعہ میں قول سے زیادہ ہوتا ہے، آپ نے مسلمانوں کو پانچ فرض نمازیں پڑ ھنے کا حکم دیا اور آپ خود ان فرائض کے علاہ تہجد بھی باقاعد گی دے پڑھا کر اتے تھے۔ آپ نے مسلمانوں کو طلوع فجر سے غروب آفتاب تک روزہ رکھنے کا حکم دیا اور خود آپ نے وصال کے روزے بھی رکھے جن میں افطاری تھی نہ سحری، آپ نے مسلمانوں کو چالیسواں حصہ زکوہ ادا کرنے کا حکم دیا اور آپ اپنے پاس بالکل مال نہیں رکھتے تھے، آپ کے پاس جو کچھ آتا آپ اس کو تقسیم فرمادیتے۔ مسلمان فوت ہوجائیں تو ان کا ترکہ ان کے وارثوں کو ملتا ہے، آپ نے فرمایا ہم کسی کو وارث نہیں بنا تے ہم نے کچھ چھوڑا وہ صدقہ ہے، اسی طرح اپ نے مسلمانوں کو چار بیویوں کے درمیان عدل کرنے کا حکم دیا اور خود نو ازواج میں عدل کر کے دکھا یا۔ سلام ہو اس نبی امی پر جس کا عمل ہر شعبہ میں قول سے زیادہ ہے۔ 

ہم نے متعدد عقلی اور نقلی شواہد سے واضع کردیا ہے کہ ہمارے نبی سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام انبیاء سے زیادہ طاقت رکھتے تھے اور آپ کی ازواج سب سے کم تھیں۔ آپ نے گیارہ شادیاں کیں اور یہ محض جنسی تسکین کے لیے نہ تھیں بلکہ تبلیغ اسلام، احکام شریعت کے بیان، خواتین کو تعلیم، احادیث کی تبلیغ، اپنے رفقاء کی دل جوئی اور قوت عمل میں فراوانی کے لیے کیں۔ 

آپ نے کفار قریش کے مطلوبہ معجزات کیوں نہیں پیش کیے : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے دوسرے اس اعتراض کا جواب دیا ہے کہ وہ یہ کہتے تھے کہ اگر عیہ واقع اللہ کی طرف سے رسول ہوتے تو ہم ان سے جس معجزات کو بھی طلب کرتے یہ اس کو پیش کردیتے اور اس میں بالکل توقف نہی کرتے لیکن جب یہ ہمارے مطلوبہ معجزات نہ پیش کرد کے تو واضع ہوگیا کہ یہ اللہ کے رسول نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا کہ اور کسی کے لیے یہ جا ئز نہیں ہے کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی معجزہ پیش کرے اور اس جواب کی وضاحت اس طرح ہے کہ نبوت کی دلیل کے اظہار اور قوم کے اطمینان اور ان کی تسلی کے لیے ایک معجزہ کو پیش کرنا کافی ہے، اور اس سے زیادہ معجزات کو پیش کرنا اللہ تعالیٰ کی مثیت کی طرف مفوض ہے۔ وہ چاہے تو وہ معجزات دکھائے اور وہ چاہے تو نہ دکھائے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبوت پر قرآن مجید کو بطور معجزہ پیش کیا اور چیلنج کیا کہ کوئی اس کی نظیر لاسکتا ہو تو لے آئے یعنی قرآن حکیم کی طرح فصیح وبلیغ کلام ہو اور اس میں غیب کی خبریں ہوں اور مستقبل کی پیش گو ئیا ہوں جو عبد کے زمانوں میں صادق ہو رہی ہوں، اور آج تک کوئی اس کی نظیر نہیں لاسکا اور نہ قیامت تک لاسکے گا۔ حجرت صالح (علیہ السلام) کی انٹنی، حضرت موسیٰ علی السلام کا عصا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زندہ کیے ہوئے مردے، بلا شبہ بہت عظیم معجزات تھے، لیکن وہ معجزات ان نبیوں کے جانے کے ساتھ رخصت ہوگئے اور آج ان کے ماننے والوں کے پاس اپنے نبیوں کی نبوت ثابت کرنے کے لیے معجزہ دلیل نہیں ہے لیکن ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کع اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی صورت میں آپ کی نبوت پر ایسا معجزہ عطا فرمایا جو آپ کے زمانہ میں بھی آپ کی نبوت پر دلیل تھا، آج بھی ہے اور قیامت تک رہے گا ! یہ کفار کی کم عقلی اور خواہ مخواہ کی ضد تھی کہ ایسے عظیم معجزہ کے ہوتے ہوئے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اور معجزات طلب کرتے تھے۔ 

کفار کے مطالبے کی وجہ سے ان پر عذاب کیوں نہ نازل ہوا ؟ 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفار قریش کو اللہ کے عذاب سے ڈراتے تھے کہ اگر وہ اللہ کی توحید اور آپ کی رسالت پر ایمان نہ لائے تو ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ اپ کی اور آپ پر ایمان لانے والوں کی مدد فرمائے گا، پھر کفار نے جب یہ دیکھا کہ ان کے کفر پر اصرار کے باوجود ان پر عذاب نازل نہیں ہو رہا تو انہوں نے اس وجہ سے بھی آپ پر طعن اور اعتراض کیا اور کہا کہ اگر آپ سچے نبی ہوتے تو ہم پر عذاب آچکا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے اس اعتراض کا بھی جواب دیا اور فرمایا : ہر چیز کی مدت کتاب تقدیر میں لکھی ہوئی ہوت ہے یعنی کفار پر عذاب کا نزول اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے متبعین کے لیے فتح اور نصرت کا ظہور، اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک خاص وقت میں مقرر ہے اور ہر حادث اور رونما ہونے والی چیز کا وقت لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اور ہر چیز کا وقت آنے پر وہ ظاہر ہوجائے گی۔ 

حضرت عطا بن ابی رباح نے عبد الواحد بن سلیم سے کہا کی اتم مانتے ہو ام الکتاب کی چیز ہے ؟ انہوں نے کہا اللہ اوار اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ انہوں نو کہا یہ وہ کتاب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے سے پہلے لکھا، اس میں لکھا ہوا ہے کہ فرعون اہل ووزخ میں سے ہے، اور اس میں لکھا ہوا ہے کہ ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ خود ہلاک ہوگیا اور حضرت عبادہ بن الصامت نے کہہ مجھ سے رسول اللہ صلی للہ علی وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا کہ لکھوں، اس نے پوچھا کیا لکھو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کچ ہوچکا ہے وہ لکھنع اور اردب تک جو کچھ ہونے والا ہے وہ لکھوں۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :2155، سنن ابوداؤدد رقم الحدیث :4700، مسند احمد ج 5 ص 317)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 38