أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَسۡتَ مُرۡسَلًا‌ ؕ قُلۡ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًۢا بَيۡنِىۡ وَبَيۡنَكُمۡۙ وَمَنۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ الۡكِتٰبِ۞

ترجمہ:

اور کفار یہ کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے بھیجے ہوئے نہیں ہیں، آپ کہیے میرے اور تمہارے درمیان اللہ بہ طور کافی ہے، اور وہ جس کے پاس (اسمانی) کتاب کا علم ہے (وہ بھی بطور گواہ کافی ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کفار یہ کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے بھیجے ہوئے نہیں ہیں، آپ کہئے میرے اور تمہارے درمیان اللہ بطور گواہ کا فی ہے اور وہ جس کے پاس (آسمانی) کتاب کا علم ہے (وہ بھی بطور گواہ کافی ہے) (الرعد :43) 

(آسمانی) کتاب کے عالم کے مصداق میں متعدد اقوال : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ مشریکن مکہ اس بات کا انکار کرتے تھے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے رسول ہونے پر دو دلیلیں پیش فرمائی ہیں، ایک دلیل یہ ہے کہ آپ رسول اللہ ہونے پر اللہ تعالیٰ گواہ ہے، اور اللہ تعالیٰ کی گواہی اس سے معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی رسالت کے ثبوت میں معجزات نازل فرمائے اور معجزہ وہ فعل ہے جو اللہ تعالیٰ کی عادت جاریہ مستمرہ کے خلاف واقع ہو جیسے پتھروں کا سلام او کلام کرنا، درخت کا اور اس کے خوشہ کا جل کر آنا اور پھر واپس چلے جانا کھجور کے نتے کا چلاکر رونا وغیرہ۔ اس قسم کے امور قطعی طور پر یہ دلالت کرتے ہیں اور اللہ کی طرف سے شہادت ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ 

اور اس آیت میں دوسری دلیل یہ ہے کہ جس کے پاس آسمانی کتاب کا علم ہے وہ بھی آپ کی رسالت پر گواہ ہے اس سلسلہ میں متعد اقوال ہیں کہ جس کے پاس آسمانی کتاب کا علم ہے اس کا مقصد اق کون ہے اس کی تفصیل حسب ذیل ہے : 

(1) ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت عبداللہ بن سلام (رض) ہیں اور اس کی دلیل یہ حدیث ہے : 

امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی 279 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

عبدالملک بن عمیر، حضرت عبداللہ بن سلام (رض) روایت کرتے ہیں جب باغیوں نے حضرت عثمان (رض) کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تو ان کے پاس حضرت عبدللہ بن سلام (رض) گئے۔ حضرت عثمان نے پوچھا تم کس کے لیے آئے ہو ؟ انہوں نے کہا میں آپ کی مدد کے لیے آیا ہوں۔ حضرت عثمان نے فرمایا تو پھر باغیوں کے پاس جاؤ اور انہیں میرے پاس سے بھگاؤ، میرے لیے رتمہارا یہاں سے باہر جانا تمہارے اندر رہنے سے بہتر ہے ! حضرت عبداللہ بن سلام لوگوں کے پاس گئے اور ان سے کہا اے لوگوں ! زمانہ جاہلیت میں میرا نام فلاں تھا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا نام عبداللہ رکھ دیا، میرے متعلق کتاب اللہ میں یہ آیات نازل ہوئیں : 

وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (الاحقاف : ١٠) اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اس قرآن پر گواہی دے چکا ہے سو وہ ایمان لے آیا اور تم نے تکبر کیا، بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ 

قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ (الرعد : 43) آپ کہئے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ بطور گواہ کافی ہے اور وہ جس کے پاس (اسمانی) کتاب کا علم ہے۔ 

بے شک اللہ نے تم سے تلوار کو میان میں رکھا ہوا ہے اور تمہارے اس شہر میں فرشتے تمہارے پڑوسی ہیں، یہ وہ شہر ہے جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تھے، پس تم اس شخص کو قتل کرنے کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو، پس اللہ کی قسم اگر تم نے اس شخص کو قتل کردیا تو تمہارے پڑوسی فرشتے تم پر لعنت کریں گے اور اللہ کی جو تلوار میان میں تھی وہ باہر نکل آئے گی پھر قیامت تک وہ تلوار میان میں نہیں جائے گی (یعنی قیامت تک مسلمانوں میں تلواریں چلتی رہیں گی) باغیوں نے کہا اس یہودی کو قتل کردو اور عثمان کو بھی قتل کردو۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :3803، 3256، مسند ابو یعلی رقم الحدیث :4133 حلیتہ الاولیاء ج 3 ص 53، تاریخ بغداد ج 11 ص 212) 

اس قول پر یہ اعتراض ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام (رض) مدینہ منورہ میں اسلام لائے تھے اور یہ سورت مکہ ہے اس لیے اس سورت کی تفسیر میں آسمانی کتاب کے عالم سے حضرت عبداللہ بن سلام کر مراد لینا درست نہیں ہے۔ امام رازی نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ پوری سورت رعد مکہ ہو اور اس کی آیت مدنی ہو پھر امام رازی نے اس تفسیر پر یہ اعتراض کیا ہے کہ ایک آدمی کو گواہی قطعی نہیں ہوتی اس لیے ایک آدمی کو گواہی سے نبوت کو ثابت کرنا جا ئز نہیں ہے لیکن اس اعتراض کا یہ جواب ی ہوسکتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس گواہ کی گواہی کی معتبر قرار دیا ہے ت تو اس کی گواہی سے نبوت کا اثبات درست ہوگا جیسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) کی گواہی کو دو گواہوں کے برابر قرار دیا تو صرف ان کی گواہی سے سورة توبہ کی آخردو آیتیں سورة تو بہ میں شامل کی گئیں۔ 

(2) قتادہ نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد اہل کتاب کے وہ علماء ہیں جو حق کی شہادت دیتے تھے ان میں حضرت عبداللہ بن سلام۔ حضرت سلمان فارسی اور حضرت تمیم داری وغیرہ شامل ہیں۔ 

(3) حضرت ابن عباس نے کہا اس سے مراد یہود اور نصاری کے علماء ہیں یعنی جو لوگ بھی تورات اور انجیل کے عالم ہیں ان کو یہ علم ہے کہ ان کتابوں میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کی بشارت ہے سو جب وہ عالم انصاف کرے گا اور جھوٹ نہیں بو لے گا تو وہ اس بات کی گواہی دے گا کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں۔ 

(4) سعید بن جبیر نے کہا اس سے مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں۔ 

(5) محمد بن حنفیہ نے کہا اس سے مراد حضرت علی بن ابی طالب (رض) ہیں۔ 

امام ابن الجوزی متوفی 597 اور امام رازی متوفی 606 ھ اور بھی کئی اقوال ذکر کیے ہیں لیکن وہ سیاق وسباق کے اعتبار سے مناسب نہیں ہیں۔ 

اختتام سورت اور دعا : 

آج بروز اتوار 19 محرم 1421 ھ /125 اپریل 2000 ء، سورت الرعد کی تفسیر مکمل ہوگئی۔ فالحمدللہ رب العلمین علی ذالک الا العالمین ! جس طرح آپ نے اس سورت کی تفسیر مکمل کرادیا ہے، قرآن مجید کی بقیہ سورتوں کو تفسیر بھی مکمل کرادیں اور موافقین کے لیے اس تفسیر کو موجب استقامت اور مخالفین کے لیے موجب ہدایت بان دیں اور اس تفسیر کو قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے نفع آور اور فیض آفریں کردیں اس کے مصنف، اس کے ناشر اور اس کے قارئین کو دنیا اور آخرت کی ہر بل اور عذاب سے محفوظ رکھیں اور دنیا اور آخرت کی ہر نعمت ہر سعادت عطا فرمائیں۔ وآخردعوانا ان الحمدللہ رب العلمین

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 43