أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ اٰيَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖؕ قُلۡ اِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِىۡۤ اِلَيۡهِ مَنۡ اَنَابَ ۞

ترجمہ:

اور کافریہ کہتے ہیں کہ ان کے اوپر ان کے اوپر ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں نازل کی گئی آپ کہیے بیشک اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اس کو ہدایت دیتا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یہ کافر یہ کہتے ہیں کہ ان کے اوپر ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں نازل کی گئی، آپ کہیے بیشک اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اس کو ہدایت دیتا ہے۔ (الرعد : 27) 

اللہ تعالیٰ کے گمراہ کرنے اور اس کے ہدایت کے محامل : 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کفار مکہ نے کہا : اے محمد ( (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) اگر آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں تو آپ ہمارے پاس کوئی زبر دست معجزہ لے کر آئیں جس کا اعجاز بالکل ظاہر اور بد یہی ہو، جیسے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کے معجزات تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس مطالبہ کا یہ جواب دیا کہ بیشک اللہ جس کو چاہتا ہے گمرال کرتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اس کو ہدایت دیتا ہے۔ اس جواب کی وضاحت حسب ذیل طریقوں سے ہے :

(1) جب اللہ تعالیٰ رسول کے صدق پر ایک معجزہ پیش کردیا تو اب اور معجزہ کو طلب کرنا جہل اور عناد ہے۔ 

(2) اللہ تعالیٰ نے سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دعوی رسالت کے صدق پر بکثرت معجزات پیش کیے، لیکن گمراہی اور ہدایت اللہ کی طرف سے ہوتی ہے ان معجزات کو دیکھنے کے باوجود بعض کفار گمراہی پر ڈٹے رہے اور ان ہی معجزات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بعض کافروں کو ہدایت دے دی، اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے بیشک اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اس کا یہ معنی ہے کہ کفار ضد اور عناد سے کام لیتے تھے ان کو اللہ تعالیٰ نے ان کی اختیار کردہ گمراہی پر بر قرار رکھا، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو لوگ ان معجزات اور آیات سے رہنمائی ہدایت حاصل کرنا چاہتے تھے ان کو اللہ تعالیٰ نے گمراہ کردیا بلکہ جو لوگ حقیقت کی تلاش اور طلب ہدایت کے لیے ان معجزات میں غورو فکر کرتے تھے اللہ تعالیٰ ان میں ہدایت پیدا کردیتا تھا اور یہی اس آیت کا معنی ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اس کو ہدایت دیتا ہے۔ 

(3) جب کفار نے مزید آیت اور معجزہ کا مطالبہ کیا تو گویا کہ ان سے کہا گیا کہ اور معجزات اور آیت کے نازل کرنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ گمراہی اور ہدایت تو اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اگر بہت زیادہ معجزات نازل کیے جائیں اور پھر بھی ہدایت حاصل نہ ہو تو اس سے کیا فائدہ ہوگا اور اگر ایک معجزہ سے ہی ہدایت حاصل ہوجائے تو فائدہ حاصل ہوجائے گا، اس لیے مزید آیات اور معجزات کے مطالبہ میں مشغول نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر اور خصوغ اور خشوع سے ہدایت کو طلب کرو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 27