پڑھاتا جا اور شرماتا جا

آئے روز اسلام کو کسی نا کسی نئے فتنے کا سامنا ہوتا ھے فی زمانہ مرزا علی پلمبر کا فتنہ عروج پر ھے ۔جسطرح مرزائیوں کے کفر پر تمام مسالک کا اتفاق ہے بعینہ اسی طرح تمام مسالک کا مرزا علی جہلمی پلمبر کی کم از کم گمراہی پر اتفاق ھے۔

مرزا جہلمی اور مولوی اسحاق کے کافی نظریات آپس میں ملتے ہیں ۔مرزا جہلمی کے پیروکار جسطرح پلمبر کا دفاع کرنے میں ایڑی چوٹی کا روز لگا دیتے ہیں بعینہ اسی طرح مولوی اسحاق کا دفاع بھی کرتے ہیں۔

اب اسکے پیروکار کتنے خر دماغ اور مخبوط الحواس ہیں ایک مثال سے واضح ہوجائے گا۔

مولوی اسحاق کو میں اتنا تو نہیں جانتا لیکن اچانک اسکا ایک بیان سامنے آیا اسکو سننے کے بعد اس بندے سے شدید نفرت ہوگئے کیونکہ اسکا وہ بیان بغض و تنقیص صحابہؓ سے لبریز تھا۔

مولوی صاحب چلے تھے امت کو متحد کرنے لیکن اپنا بیڑہ بھی غرق کر بیٹھے

یعنی کوا چلا ہنس کے چال تو اپنی چال بھی بھول گیا۔

اپنی مولوی صاحب بیان میں فرماتے ہیں کہ جو لوگ حضرت عمرؓ کو خلیفہ دوم تسلیم کرتے ہیں وہ بھی ٹھیک ہیں اور جو ان پر بی بی فاطمہؓ کا گھر جلانے والا الزام لگاتے ہیں وہ بھی ٹھیک کرتے ہیں 🤔

ان چند الفاظ سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مولوی اسحاق کس طرح کے اتحاد کے حامی تھے۔

اب ان دونوں کے پیروکار اتنے مخبوط الحواس ہیں کہ اتنی عجیب و غریب تاویل مرزائی مرزا قادیانی کے حالت دست میں مرنے کی نہیں کرتے جتنی عجیب تاویل مرزا پلمبر کے بڑے سرگرم رکن فرحان نامی شخص نے کی۔

جناب فرماتے ہیں کہ اگر مولوی اسحاق نے حضرت عمرؓ پر الزام لگانے والوں کو ٹھیک کہا تو ساتھ میں وہ حضرت عمر کے نام کے ساتھ رضی اللہ عنہ بھی تو لگا رہے ہیں۔😂

بس اس تاویل سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بیچارے کتنے مجبور ہیں۔

مرزا پلمبر ویسے تو بابوں کی مخالفت پر بڑی باتیں کرتا ھے لیکن اپنی مریدوں کو بابا پرستی بڑی شدت کے ساتھ سکھارہا ھے۔

ایک مرزا علی بابا اور دوسرا مولوی اسحاق بابا

اللہ ایسی بابا پرستی سے امت مسلمہ کو محفوظ رکھے آمین

 

احمدرضارضوی