بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴿﴾

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ف۱)

(ف1)

سورۂ ہود مکیّہ ہے ۔ حسن و عِکرمہ وغیرہم مفسِّرین نے فرمایا کہ آیت ” وَاَقِمِ الصّٰلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ” کے سوا باقی تمام سورت مکیّہ ہے ۔ مقاتل نے کہا کہ آیت ” فَلَعَلَّکَ تَارِکٌ ” اور ” اُولٰۤئِکَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ” اور ” اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذُھِبْنَ السَّیِّاٰتِ” کے علاوہ تمام سورت مکّی ہے ۔ اس میں دس رکوع اور ایک سو تئیس۱۲۳ آیتیں اور ایک ہزار چھ سو کلمے اور نو ہزار پانچ سو سرسٹھ حرف ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے صحابہ نے عرض کیا یارسولَ اللہ صلی اللہ علیک وسلم حضور پر پِیری کے آثار نمودار ہوگئے ، فرمایا مجھے سورۂ ہود ، سورۂ و اقعہ ، سور ۂ عَمَّ یَتَسَاءَلُونَ اور سورۂ اِذَالشَّمسُ کُوِّرَتْ نے بوڑھا کر دیا ۔ (ترمذی) غالباً یہ اس وجہ سے فرمایا کہ ان سورتوں میں قیامت و بَعث و حساب و جنّت و دوزخ کا ذکر ہے ۔

الٓرٰ- كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ(۱)

یہ ایک کتاب ہے جس کی آیتیں حکمت بھری ہیں (ف۲) پھر تفصیل کی گئیں (ف۳) حکمت والے خبردار کی طرف سے

(ف2)

جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد ہوا ” تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ” ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ” اُحکِمَتْ” کے معنی یہ ہیں کہ ان کی نظم مُحکَم و اُستُوار کی گئی اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ اس میں نَقص و خلل راہ نہیں پا سکتا وہ بِنائے مُحکَم ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ کوئی کتاب ان کی ناسخ نہیں جیسا کہ یہ دوسری کتابوں اور شریعتوں کی ناسخ ہیں ۔

(ف3)

اور سورت سورت اور آیت آیت جدا جدا ذکر کی گئیں یا علیٰحدہ علیٰحدہ نازِل ہوئیں یا عقائد و احکام و مواعظ و قَصَص اور غیبی خبریں ان میں بہ تفصیل بیان فرمائی گئیں ۔

اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَؕ-اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ(۲)

کہ بندگی نہ کرو مگر اللہ کی بےشک میں تمہارے لیے اس کی طرف سے ڈر اور خوشی سنانے والا ہوں

وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗؕ-وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ(۳)

اور یہ کہ اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی طرف توبہ کرو تمہیں بہت اچھا برتنا(فائدہ) دے گا (ف۴) ایک ٹھہرائے وعدہ تک اور ہر فضیلت والے کو(ف۵) اس کا فضل پہنچائے گا (ف۶) اور اگر منہ پھیرو تو میں تم پر بڑے دن (ف۷) کے عذاب کا خوف کرتا ہوں

(ف4)

عمرِ دراز اور عیشِ وسیع و رزقِ کثیر ۔

فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ اخلاص کے ساتھ توبہ و استِغفار کرنا درازیٔ عمر و کشائشِ رزق کے لئے بہتر عمل ہے ۔

(ف5)

جس نے دنیا میں اعمالِ فاضلہ کئے ہوں اور اس کے طاعات و حسنات زیادہ ہوں ۔

(ف6)

اس کو جنّت میں بقدرِ اعمال درجات عطا فرمائے گا ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا آیت کے معنی یہ ہیں کہ جس نے اللہ کے لئے عمل کیا اللہ تعالٰی آئندہ کے لئے اسے عملِ نیک و طاعت کی توفیق دیتا ہے ۔

(ف7)

یعنی روزِ قیامت ۔

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْۚ-وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۴)

تمہیں اللہ ہی کی طرف پھرنا ہے (ف۸) اور وہ ہر شے پر قادر ہے(ف۹)

(ف8)

آخرت میں وہاں نیکیوں اور بدیوں کی جزا و سزا ملے گی ۔

(ف9)

دنیا میں روزی دینے پر بھی ، موت دینے پر بھی ، موت کے بعد زندہ کرنے اور ثواب و عذاب پر بھی ۔

اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُؕ-اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْۙ-یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَۚ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ(۵)

سنو وہ اپنے سینے دوہرے کرتے(منہ چھپاتے) ہیں کہ اللہ سے پردہ کریں (ف۱۰) سنو جس وقت وہ اپنے کپڑوں سے سارا بدن ڈھانپ لیتے ہیں اس وقت بھی اللہ ان کا چھپا اور ظاہر سب کچھ جانتا ہے بےشک وہ دلوں کی بات جاننے والا ہے

(ف10)

شانِ نُزول : ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ آیت اخنس بن شریق کے حق میں نازِل ہوئی ۔ یہ بہت شیریں گفتار شخص تھا ، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آتا تو بہت خوشامد کی باتیں کرتا اور دل میں بغض و عداوت چھپائے رکھتا ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے سینوں میں عداوت چھپائے رکھتے ہیں جیسے کپڑے کی تہ میں کوئی چیز چھپائی جاتی ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ بعضے منافقین کی عادت تھی کہ جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سامنا ہوتا تو سینہ اور پیٹھ جھکاتے اور سر نیچا کرتے چہرہ چھپا لیتے تاکہ انہیں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھ نہ پائیں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ بخاری نے افراد میں ایک حدیث روایت کی کہ مسلمان بول وبراز و مجامَعت کے وقت اپنے بدن کھولنے سے شرماتے تھے ان کے حق میں یہ آیت نازِل ہوئی کہ اللہ سے بندے کا کوئی حال چھپا ہی نہیں ہے لہٰذا چاہیئے کہ وہ شریعت کی اجازتوں پر عامل رہے ۔

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَاؕ-كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ(۶)

اور زمین پر چلنے والا کوئی (ف۱۱) ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ کرم پر نہ ہو (ف۱۲) اور جانتا ہے کہ کہاں ٹھہرے گا (ف۱۳) اور کہاں سپرد ہوگا (ف۱۴) سب کچھ ایک صاف بیان کرنے والی کتاب (ف۱۵) میں ہے

(ف11)

جاندار ہو ۔

(ف12)

یعنی وہ اپنے فضل سے ہر جاندار کے رزق کا کفیل ہے ۔

(ف13)

یعنی اس کے جائے سکونت کو جانتا ہے ۔

(ف14)

سپرد ہونے کی جگہ سے یا مدفن مراد ہے یا مکان یا موت یا قبر ۔

(ف15)

یعنی لوحِ محفوظ ۔

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ-وَ لَىٕنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ(۷)

اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور اس کا عرش پانی پر تھا (ف۱۶) کہ تمہیں آزمائے(ف۱۷) تم میں کس کا کام اچھا ہے اور اگر تم فرماؤ کہ بےشک تم مرنے کے بعد اٹھائے جاؤ گے تو کافر ضرور کہیں گے کہ یہ (ف۱۸) تو نہیں مگر کُھلا جادو (ف۱۹)

(ف16)

یعنی عرش کے نیچے پانی کے سوا اور کوئی مخلوق نہ تھی ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عرش اور پانی آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش سے قبل پیدا فرمائے گئے ۔

(ف17)

یعنی آسمان و زمین اور ان کی درمیانی کائنات کو پیدا کیا جس میں تمہارے مَنافع و مَصالِح ہیں تاکہ تمہیں آزمائش میں ڈالے اور ظاہر ہو کہ کون شکر گزار ، متقی ، فرمانبردار ہے اور ۔

(ف18)

یعنی قرآن شریف جس میں مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا بیان ہے یہ ۔

(ف19)

یعنی باطل اور دھوکا ۔

وَ لَىٕنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗؕ-اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠(۸)

اور اگر ہم ان سے عذاب (ف۲۰) کچھ گنتی کی مدت تک ہٹادیں تو ضرور کہیں گے کس چیز نے اسے روکا ہے (ف۲۱) سن لو جس دن ان پر آئے گا ان سے پھیرا نہ جائے گا اور انہیں گھیرلے گا وہی عذاب جس کی ہنسی اڑاتے تھے

(ف20)

جس کا وعدہ کیا ہے ۔

(ف21)

وہ عذا ب کیوں نازِل نہیں ہوتا کیا دیر ہے ؟ کُفّار کا یہ جلدی کرنا براہِ تکذیب و استہز اء ہے ۔