حدیث نمبر190

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ مہاجر فقراء رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بولے کہ مالدار بڑے درجے اور دائمی نعمت لے گئے ۱؎ فرمایا یہ کیسے؟ عرض کیا جیسے ہم نمازیں پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے ہیں اور جیسے کہ ہم روزے رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں اور وہ خیرات کرتے ہیں ہم نہیں کرتے وہ غلام آزاد کرتے ہیں ہم نہیں کرتے ۲؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ چیز نہ سکھاؤں جس سے تم آگے والوں کو پکڑلو اور پیچھے والوں سے آگے بڑھ جاؤ۳؎ اور تم میں سے کوئی افضل نہ ہو اس کے سوا جو تمہارے کام کرے۴؎ بولے ہاں یارسول ا ﷲ فرمایا ہر نماز کے بعد۳۳،۳۳بار تسبیح،تکبیر اور حمدکرو ۵؎ ابو صالح کہتے ہیں ۶؎ کہ پھر مہاجر فقراءحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لوٹے اور عرض کیا کہ ہمارے اس عمل کو ہمارے مالدار بھائیوں نے سن لیا تو انہوں نے بھی یونہی کیا ۷؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اﷲ کا فضل ہے جسے چاہے دے۸؎(مسلم،بخاری)ابو صالح کا قول صرف مسلم کی روایت میں ہے اور بخاری کی روایت میں ہے کہ ہر نماز کے بعد دس بار تسبیح ،دس بار حمد، دس بار تکبیر کہو بجائے۳۳بار کے ۹؎

شرح

۱؎ یعنی ہمارے مقابل درجات میں بڑھ گئے اور جنت کی اعلیٰ نعمتوں کے مستحق ہوگئے اس میں نہ تو رب کی شکایت ہے اور نہ مالداروں پر حسد بلکہ ان پر رشک ہے دینی چیزوں میں رشک جائز ہے یعنی دوسروں کی سی نعمت اپنے لیے بھی چاہنا،حسد حرام ہے یعنی دوسروں کی نعمت کے زوال کی خواہش۔

۲؎ یعنی بدنی عبادتوں میں وہ ہمارے برابر ہیں اور مالی عبادتوں میں ہم سے بڑھ کر۔اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے فرمایا کہ شاکر غنی صابرفقیرسے افضل ہے مگر صحیح یہ ہے کہ فقیر صابر غنی شاکر سے افضل کیونکہ رب نے فرمایا اگر تم شکر کرو گے تو تمہیں اور زیادہ نعمتیں دیں گے،اور فرمایا کہ اﷲ صابروں کے ساتھ ہے یعنی شکر سے نعمتیں ملتی ہیں اور صبر سے اﷲ تعالیٰ۔

۳؎ یہاں آگےاور پیچھے سے درجوں میں آگے پیچھے ہونا مراد ہے نہ کہ زمانہ میں یعنی جو صحابہ تم سے درجہ میں بڑھ گئے ہیں ان کلمات کی وجہ سے تم ان کے برابر ہوجاؤ گے اور جو تمہارے برابر ہیں اور یہ کلمات نہیں پڑھتے ان سے تم بڑھ جاؤ گے ورنہ غیرصحابی کتنی ہی نیکیاں کرے صحابی کی گرد قدم کو نہیں پہنچ سکتے کیونکہ وہ صحبت یافتہ جناب مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں حضرت جبریل علیہ السلام سارے فرشتوں سے افضل کیونکہ وہ خادم انبیاء ہیں تو صحابہ بعد انبیاء ساری مخلوق سے افضل کیونکہ وہ خادم جناب مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ۔

یک زمانہ صحبتے با مصطفی بہتراز لکھ سالہ طاعت بے ریا

۴؎ یعنی جو غنی صحابی یہ پڑھے گا وہ تم سے افضل ہوجائے گا۔

۵؎ یعنی پنج گانہ نماز کے بعد۳۳بار سبحان اﷲ۳۳بار الحمدﷲ اور۳۳بار اﷲ اکبر کہہ لیا کرو،یہ تسبیح فاطمہ کہلاتی ہے کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے قریبًا یہی تسبیح حضرت فاطمہ زہرا کو بتائی تھی اسی بنا پر آج تسبیح کے دانوں میں۳۳ دانوں پر ایک نائب امام ڈالا جاتا ہے۔خیال رہے کہ ظہر مغرب عشاء میں یہ تسبیح سنتیں وغیرہ پڑھ کر پڑھی جائے گی۔

۶؎ ابوصالح تابعی ہیں جنہوں نے حضرت ابوہریرہ سے یہ روایت کی۔

۷؎ ان کا مدعی یہ تھا کہ اب کوئی اور خفیہ عمل بتایا جائے وہ راز تو کھل گیا۔

۸؎ یعنی اب تم صبر کرو اور رب کے دیئے پر راضی رہو۔ یہ غبطہ(رشک)بھی عبادت ہے اور تم اس پر صبر کرکے بڑا درجہ پاؤ گے۔

۹؎ مگر پہلی روایت زیادہ قوی ہے،کیونکہ اس میں زیادتی ہے اور اسی پر امت کا عمل ہے۔