یوم مزدور اصل میں مزدوروں کے استحصال کا دن ہے

تحریر: فیاض احمد برکاتی مصباحی
دنیا کے عقل مند اور ہوشیار ترین انسانوں نے سیدھے سادے انسانوں کو بے وقوف بنانے کے لیے کچھ دنوں کو کسی خاص طبقے سے  منسوب کررکھاہے ، ہمیں ان کی نیتوں پر شک نہیں،  ہو سکتاہے کسی جائز مقصد کے حصول کے لیے یہ ایام خاص کئے گئے ہوں؟ لیکن ان ایام کی حیثیت صرف دسہرہ جیسی ہوکر رہ گئی ہے کہ ایک دن رراون کو جلاکر پورے سال راون کو اپنے سینے میں ظلم کی شکل میں محفوظ کر لیا جاتاہے ۔ جیسے یوم خواتین ، یوم اطفال، یوم مادر اور یوم مزدور ۔ حسن اتفاق ان تمام ایام کو منانے  میں وہی لوگ پیش پیش رہتے ہیں جن کے ہاتھوں یہ طبقات ظلم کا شکار ہوتے ہیں۔ اکا دکاکو چھوڑکر ۔ یوم مزدور پر میں نے دیکھا کہ بہت سارے اہل دانش نے اپنی اپنی فکریں پیش کی ہیں ۔ حقیقت میں مزدوروں کے درد ، غم ، کلفت اور محنت کو ہر شخص اجاگر نہیں کرسکتا ۔ یہ کام لکھنے اور بولنے تک جتنا آسان ہے حقیقت کی دنیا میں پہونچ کر جائزہ لینا بڑا مشکل ہے ۔شاید اہل دانش کا ایک فیصد طبقہ بھی ایسا نہیں ہوگا جنہوں نے کبھی کسی مجبوری کی وجہ سے ہی سہی  مزدوروں کے درمیان زندگی گزاری ہو ۔ایام مزدور منانے والے وہ لوگ ہیں جن کے خاندانوں میں بھی کبھی کسی نے مزدوری نہ کی ہوگی ۔آخر ایسے لوگ کیوں یہ دن مناتے ہیں جب کہ پوری زندگی مزدوری میں پسنے والے افراد کو اس کی بھنک تک نہیں ہوتی کہ ان کے لیے سال میں کسی دن کو خاص بھی کیا گیا ہے ؟ ۔ اس کی ایک موٹی وجہ یہ ہے کہ اس دن کو سیلیبریٹ کرنے کے نام پر انسانی برادری سے ایک بڑی رقم اینٹھ کر من مانے طریقے سے خرچ کیا جاتاہے ۔ گویا اپنی من چاہا عیاشی کی تکمیل کے لیے مزدوروں کے نام کے استحصال کا یہ دن ہے ۔ پوری دنیا کی بات نہ کرکے صرف ہم اپنے ملک کی بات کریں تو یہاں مزدوروں کے ایک درجن سے زائد اقسام ہیں ۔
‎          “مزدوروں کی قسمیں “
‎  اگر ہم اپنے ملک میں مزدوروں کی قسمیں تلاش کرنے نکلیں تو ہماری روحیں ساتوں آسمانوں کا سیر کرلیں گی لیکن مزدوروں کے اقسام طے نہیں کرپائیں گی ۔ ہم اپنی بساط بھر اس طبقے کے اقسام ، ان کی محنتوں اور اس پر ملنے اجرت پر جزوی گفتگو کریں گے ۔ بھارت میں مزدوروں کا سب سے بڑا طبقہ گاءوں دیہات میں آباد ہے حالانکہ اب ان کی زندگی کچھ سہل ہوئ ہے لیکن دووقت کے کھانے کے لالے آج بھی پڑے رہتے ہیں ۔ گاءوں دیہات میں مزدورں کی سب بڑی اپج  ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک کا دیہی نظام اب بھی زمین دارانہ اور جابرانہ ہے ۔امید یہی ہے کہ اب پھر اسی جابرانہ ، زمین دارانہ نظام کی طرف ہمارا ملک تیزی سے  پلٹے گا اور اس طرح کے دن واپس لانے میں ملک کے اونچے طبقے کا بڑا ہاتھ ہے ، اس لئے کہ پچھلے پچیس سالوں میں خاص کر ڈاکٹر منموہن سنگھ کے زمانے میں جس طرح بڑے شہروں میں روزگار کے مواقع میسر آئے تھے اسے دھیرے دھیرے ختم کردیاگیا ہے ختم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس نظام کے خوگر افراد کو اپنا ظلم جاری رکھنے کے لیے دیہی علاقے میں افراد دستیاب نہیں ہورہے تھے ۔( یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ) سر دست ہم مزدوروں کے کام اور محنت کو دیکھتے ہوئے ایک اجمالی خاکہ سامنے رکھتے  ہیں ۔
‎کھیتوں میں کام کرنے والے مزدور :-  زمین داروں کی زمین پر اپنی زندگی کی بقاکے لیے دن رات جانوروں سے بدتر محنت کرنے والا یہ طبقہ ہے ، جس میں نچلی ذاتی ، پچھڑی ذاتی ، آدی واسی اور مسلمانوں کا کمزور طبقہ شامل ہے  ۔ اس سماج میں دس سال کے بچے سے لے کر اسی سال کے بوڑھے تک شامل ہیں ، جوان عورتوں سے لے کر بوڑھی خواتین بھی شامل ہیں تو پریگنینسی کی زندگی گزار رہی عورتیں بھی اس سسٹم کے ظلم کا شکار ہوتی ہیں ۔ خاص بات یہ ہے کہ کھیت میں کام کرنے کی مزدوری خود مزدور طے نہیں کرتابلکہ کسان اپنے مطابق یہ مزدوری ادا کرتے ہیں ۔اگر مزدور خاندانی روایت کے مطابق ایک ہی کسان کے یہاں  لگاتار کام کرتاآیا ہے تو اس کی ساری محنتوں پر بھی ہاتھ صاف کردیا جاتاہے ۔ اگر ان کی یومیہ مزدوری دیکھیں تو شاید ڈیڑھ سوسے ڈھائ سو روپے تک بہت ہیں ۔
‎اینٹہ پتھر توڑنے والے اور اینٹیں بنانے والے مزدور :-  یہ طبقہ بھی بہت بڑی تعداد میں ہمارے ملک میں دستیاب ہے ، اینٹیں بنانے والے مزدور زیادہ تر بھٹے میں ٹھیکے کے حساب سے کام کرتے ہیں لیکن اس کا اصل فائدہ ان کے ٹھیکیدار کو جاتاہے ، اسی طرح اینٹا توڑنے والے اور پتھر توڑنے والے مزدور بھی کسی نہ کسی ٹھیکیدار کے انڈر میں کام کرتے ہیں ۔ ٹھیکیداری والی مزدوری ایک الگ موضوع ہے جس میں بہت سے چونکانے والے حقائق پوشیدہ ہیں ۔جیسے ٹھیکیداری ( ٹینڈر ) کس لیول تک ہوتی ہے  اور آخر لیول پر آکر مزدوروں کی مزدوری کا حق کس طرح مارا جاتاہے یہ سب تحقیق کا موضوع ہیں  ۔میں کچھ باتیں یہاں درج کرتاہوں ۔ ہر کام میں اوپر سے لے کر نیچے تک کئی ٹینڈر ہوتے ہیں اور کئی ٹھیکیدار بھی ہوتے ہیں ۔اکثر نچلے طبقے کا ٹھیکیدار اپنے سے اوپر والے ٹھیکیدار سے دو طرح کا ٹھیکہ لیتے ہیں ایک کو ان کی “میجرمینٹ” کہا جاتا ہے تو دوسرے کو “سپلائ سسٹم “کہا جاتاہے ۔میجر مینٹ میں پورے کام کا تخمینہ لگاکر کام کی قیمت طے کی  جاتی ہے اور سپلائ میں یومیہ مزدوری طے کی جاتی ہے ۔اس کے بعد نچلے لیول کا ٹھیکیدار اپنے طور پر مزدوروں کی قیمت طے کرتاہے ۔ اس کے لیے ایک جال بنا جاتا ہے وہ یہ کہ ہر شخص کو پیسے کی ضرورت ہوتی ہے اس ضرورت کا فائدہ اٹھاکر مزدوروں کو اڈوانس دے دیاجاتاہے پھر اس مزدورسے اپنے حساب سے کام بھی لیا جاتاہے اور اپنے ہی طور پر محنتانہ بھی ادا کی جاتی ہے ۔کنسٹرکشن ڈپارٹ کا ننانوے فیصد حصہ اسی اصول پر کام کرتاہے ۔
‎منڈی میں وزنی سامان اٹھانے والے مزدور :- سبزی منڈی ، اناج منڈی اور پھل کی منڈی میں مزدوروں کا بہت بڑا طبقہ جانوروں کی طرح کام کرتاہے ۔ اسی طرح ہول سیل کرانہ کا کاروبار کرنے والوں کے یہاں بھی محنت کش مزدور کام کرتے ہیں ۔ موسم اور سیژن کے مطابق ان کا کام بڑھتااور گھٹتارہتاہے اور مزدوری بھی بڑھتی گھٹتی رہتی ہے ۔ ایک خاص بات یہ ہے کہ یہاں طاقت اور تجربہ دونوں کا ہونا ضروری ہے اگر کوئ ایک نہیں ہے تو منڈی میں مزدور ہمیشہ کے لیے اپنی ریڑھ کی ہڈی گنوا بیٹھے گا ۔سبزی اور پھل کے کیریٹ کا وزن تو بہر حال کچھ کم ہوتاہے لیکن غلہ کی بوریاں عموما ستر سے سوکیلو کے درمیان کی ہوتی ہے ۔ ایک بوری لوڈ انلوڈ کرنے کے بدلے میں غالبا سات روپے سے دس روپے تک ملتے ہیں ۔اگر دن بھر میں پچاس بوری ادھر ادھر کرنے میں کامیاب ہوگئے تو رات کی روٹی سکون سے مل سکتی ہے ۔ 
‎دوکانوں پر کام کرنے والے یومیہ مزدور :- ہر چھوٹی بڑی دوکان کے مالک کو اپنے لیے ایک مددگار چاہیے ہوتا ہے ۔خاص کر موٹر ، بس ، ٹرک اور کار گیراج والوں کو ۔ اس شعبے میں عموما نوعمر ناخواندہ اور کم پڑھے لکھے “سلم فیملی” کے بچے آتے ہیں ۔دن بھر ان سے مخلتلف طرح کے کام لیے جاتے ہیں اور شام کو بہت ہی کم مزدوری دےکر گھر روانہ کردیاجاتاہے ۔خاص بات یہ ہے اس شعبے میں کام کرنے والے چھوٹے سے لے کر بڑے تک زیادہ تر مسلمان ہیں ۔
‎روڈ بنانے والے مزدور :-  یہ بڑا ہی عجیب سیکٹر ہے یہاں اب زیادہ تر مشینیں کام کرتی ہیں لیکن بہت سے کام ایسے ہیں جو آج بھی انسانوں سے کرانا مشینوں کی مجبوری ہے ۔  بھارت کی روڈ کا ٹینڈر یہاں کے سیاسی لیڈروں کی مہربانی سے بدیسی کمپنیوں کو ملتاہے ، پھر ان کمپنیوں کی مہربانی اور سیاسی سورس کے بدولت لوکل لیڈروں کے کسی قریبی  کو مل جاتا ہے ۔دراصل روڈ کا کام پارس پتھر کی طرح ہے جسے مل جائے وہ چند مہینوں میں آسمان چھوجاتاہے اس لیے اس کام کی بھنک بہت جلد عام نہیں ہوپاتی ہے  کہ اس کی سیٹنگ ہائ لیول سے ہوتی ہے ۔ یہاں بھی وہی نظام کام کرتاہے جو اوپر بیان ہوا ۔سات سے آٹھ گھنٹے کی سخت محنت کے بعد یومیہ تین سوسے چار سوکے درمیان پیمینٹ کی جاتی ہے ۔یہ بہت زیادہ مزدوری  ہے ورنہ ڈھائ سو سے تین سوکے درمیان ہی معاملہ طے ہوجاتاہے ۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہوتاہے ۔ بچوں کی پرورش ، اپنا خرچہ ،   گھر کی دوسری حاجتیں اور صحت وتندرستی جیسے درجنوں ضرورتیں ہوتی ہیں مزدوروں کی ۔ اگر کام نہ کریں گے تو کھائیں گے کیا ؟ اس لیے جو مل جاتا ہے اسی پر اکتفا کرلیا جاتاہے ۔ بڑی حیرت ہوگی یہ جان کر کہ ان تمام شعبوں میں بھی دلال ہوتے ہیں جو کام دلانے کے عوض کچھ نہ کچھ مزدوری لے لیتے ہیں ۔ ایک خاص بات یہ بھی جان لیں کہ ٹینڈرانہ سسٹم میں بسا اوقات ٹینڈر لینے والا روڈ پر بھی آجاتا ہے اور کبھی کبھی تو وارے نیارے ہوجاتے ہیں ۔اگر ٹھیکیدار زیادہ ہوشیار ہے تو اپنے لیبر کو چقمہ دے کر سارا پیمینٹ اٹھاکر بھاگ کھڑا ہوتا ہے ۔
‎مذہبی مزدور :- یہ طبقہ صرف مسلمانوں میں پایا جاتا ہے اور دنیا کا سب سے سستہ مزدور طبقہ ہے ، یہاں جس پر ظلم ہوتاہے وہ بھی مذہبی ہوتا ہے اور جو ظلم کرتاہے وہ بھی برائے نام ہی سہی مذہبی ضرور ہوتاہے ۔دنیا کا ہر مزدور طبقہ اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتاہے لیکن یہ طبقہ یا تو اپنی سادگی کی وجہ سے یا دنیاوی معاملات سے دور رہنے کی وجہ سے کبھی اپنی آواز نہیں بلند کرپاتا ۔ چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹی ہوتی ہے اور مزدوری عام مزدوروں سے کئی گنا کم  حالانکہ کام ہلکا ہوتا ہے لیکن ذہنی سکون کو غارت کرنے والا بھی ہوتا ہے ۔ سپریم کورٹ کے کئی فیصلے کا یہ طبقہ فائدہ اٹھا سکتا ہے البتہ  عدم معلومات کی وجہ سے برہمن زدہ ظلم کی چکی میں پستے رہنا اس طبقے کی بڑی مجبوری ہے  ۔
‎ہمارے ملک میں لیبر کورٹ ہے جس کا قانون بڑا سخت ہے اور مزدوروں کے حق میں ہے ۔ البتہ اس کورٹ تک ہر مزدور کو رسائ نہیں مل پاتی ہے ۔
‎    اس وقت ملک جس معاشی بحران سے گزر رہاہے اور ہر صوبہ اپنے مزدوروں کو اپنے گھر بلانے کے لیے بے چین ہے اس کی وجہ تو کرونا ہے جب کہ دوسری بڑی وجہ معاشی مہاماری کا آنے والا دور ہے ۔ ابھی تک جو مزدور آسانی دووقت روٹی کھارہے تھے وہ شاید آنے والے وقت میں میسر نہ ہو ۔پھر دیکھنا ہے کہ یوم مزدور کے نمائندے کیا گل کھلاتے ہیں۔