جناب آزاد بن حیدر نے 2 جنوری 1932 ءکو سیالکوٹ میں حیدر علی صاحب کے غریب گھرانے میں آنکھ کھولی۔1944ء میں کم عمری میں بچہ مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور قیام پاکستان کے وقت ہجرت کرکے آنے والے مہاجرین کی آباد کاری میں حصہ لیا۔

اُنہوں نے 1948ء میں میٹرک،1953ء میں منشی فاضل ،1955ء میں انٹرمیڈیٹ،1957ء میں بی اے،1960میں ایم اے فارسی اور 1962ء میں ایل ایل بی کے امتحانات پاس کیے۔عملی زندگی کا آغاز لپٹن ٹی کمپنی میں ملازمت سے کیا اور بعد میں شاہین ٹی کمپنی کے نام سے اپنی کمپنی کی بنیاد رکھی۔علماء سے عقیدت و محبت اُنہیں مجاہد ملت مولانا عبدالحامد بدایونی صاحب کی صحبت میں لے گئی اور کم و بیش زندگی کے بیس بائیس سال اُنہوں مولانا عبدالحامد بدایونی صاحب کے ساتھ بحیثیت پرائیویٹ سیکرٹری گزارے۔

جناب آزاد بن حیدر صاحب نے ایک متحرک سیاسی و سماجی زندگی گزاری ۔وہ ایک ہمہ گیر اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ایک اعلیٰ وکیل،مصنف محقق ، ادیب ،سماجی رہنما اورممتاز سیاستداں ہیں۔اُن کی زندگی جاوداں،پیہم رواں اور ہردم جواں سے عبارت ہے۔وہ زندگی بھر مسلم لیگ کو مستعد و فعال بنانے اور قومی وملی معاملات و مسائل کے حل کے لیے سرگرم عمل رہے۔اُنہوں نے اعلیٰ عدالتوں میں قومی اہمیت کے مقدمات کی بڑی تندہی سے پیروی کی۔

1973ء میں جب اُردو کی مخالفت اور سندھی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کا قضیہ درپیش تھا تو یہ آزاد بن حیدر ہی تھے جو اکابر قوم کی معاونت اور اُن کی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے ہراول دستے کا کردار ادا کررہے تھے۔قومی زبان کے فروغ و بقا کے لیے اُنہوں نے جیلیں کاٹیں۔ اُنہیں یہ اعزاز بھی حاصل سے کہ 1947ء سے لے کر تاحال وہ کون سا حکمران وقت ہے جسے اُنہوں نے قریب سے نہ دیکھا،جانا اور پرکھا اور اُس کے سامنے کلمہ حق نہ کہا۔

جناب آزاد بن حیدر نے زندگی کے سفر میں کامیابی کی بہت سی منزلیں طے کیں۔وہ سیالکوٹ کی خاک کے ذرے سے کراچی کے افلاک کا ستارہ بن کر چمکے۔ اپنی سیلف میڈ زندگی میں کئی اہم مراتب و مدارج سے سرفراز ہوئے۔شہر قائد میں قائد اعظم محمد علی جناح کے سپاہی بنے اور قائد کی فہم و فکر اور نظریہ پاکستان کی فکری سرحدوں کے محافظ قرار پائے۔اُن کی فکر و سوچ کا ماخذ و محورکتاب و سنت ،سیرت رسول عربی اور تاریخ اسلام ہے۔دینی غیرت اور قومی حمیت اُن شخصیت کا خاصہ ہے۔علامہ اقبال اور قائد اعظم اُن کے ظاہر و باطن میں جھلکتے نظر آتے ہیں۔

اُنہوں نے قائد اعظم کو قریب سے دیکھا اور اُن کے مشن کو حرزجاں بنایا اورزندگی بھر اُسے آگے بڑھانے کی جدوجہد کرتے رہے ۔وہ ہر اُس آدمی کے دشمن ہیں جو اسلام،پاکستان،نظریہ پاکستان ، اقبالؒ اور قائد اعظمؒ کے بارے بے بنیاد اور جھوٹی بات کرتا ہے۔وہ ملت اور قومی وحدت پر یقین رکھتے ہیں۔یہی وجہ تھی جو وہ سندھو دیش ،بنگلہ دیش اور وطن عزیز میں پنپنے والی علیحدگی پسند تنظیموں اور تحریکوں کے خلاف برسر پیکار رہے۔اُنہوں نے تحریک پاکستان،تحریک ختم نبوت،محترمہ فاطمہ جناح کی الیکشن مہم،بنگلہ دیش نامنظور،تحریک نظام مصطفیٰ، کراچی صوبہ تحریک ،بہاری مسلمانوں کی پاکستان واپسی و آباد کاری تحاریک وغیرہ میں بھر پور حصہ لیا۔

تحریکِ پاکستان کے ستاسی سالہ کارکن، بزرگ سیاسی، سماجی رہنما، دانشور اور کئی بڑی کتابوں کے مصنف پروفیسر آزاد بن حیدر ایڈووکیٹ نے اپنی زندگی فروغِ نظریۂ پاکستان، پاکستان کے قیام کے اغراض و مقاصد، قائداعظم کے فرمودات اور فکرِ اقبال کی روشنی میں پاکستان کے مسائل کے حل کے لیے وقف کردی ہے ۔ وہ عوام الناس بالخصوص نئی نسل کی تربیت کے لیے گزشتہ کئی دہائیوں سے سرگرمِ عمل ہیں۔ اس سلسلے میں آپ نے ’’جناح تھنکرز فورم‘‘ کے پلیٹ فارم سے فروغِ فکرِ اقبال موضوعاتی مذاکرہ و مشاعرہ کا سلسلہ بھی شروع کیا ہوا ہے جہاں ملک کے معروف دانشور اور شعرائے کرام اظہار خیال کرتے ہیں۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے آپ نے اپنی تربیتی جماعت’’جناح مسلم لیگ‘‘ کے تحت نظریاتی کارکنوں کی تعلیم و تربیت و آگاہی کے لیے ایک تربیتی نصاب بھی شائع کیا جس کا مطالعہ کرنا کارکنوں کے لیے لازمی ہے۔ موجودہ تعلیمی زوال کے خاتمے کے لیے بھی آپ سرگرم عمل ہیں اور گزشتہ دنوں ’’قلم خریدو کتاب پڑھو‘‘ کی تحریک کا آغاز’’ جناح تعلیمی اسمبلی‘‘ سے کیا اور ایک قرارداد کے ذریعے اسمبلی سے منظور کردہ قراردادیں چیف جسٹس پاکستان کو ارسال کیں۔

پون صدی تک سیاست،صحافت ،تعلیم ،قانون اور سماجی خدمت کے شعبوں میں چھائے رہنے والے آزاد بن حیدر صاحب”قائد اعظم چیلنج سیکولر ازم”،”علامہ اقبال یہودیت اور جمہوریت”،” فاتح سرحد مولانا عبدالحامد بدایونی”اور ”تاریخ آل انڈیا مسلم لیگ” جیسی ضخیم مشہور زمانہ کتابوں کے مصنف ہیں۔آخری کتاب ” بقلم خود، آزاد بن حیدر کی آپ بیتی جگ بیتی”اُن کی 87 سالہ جہاد زندگانی کی جیتی جاگتی اور منہ بولتی تصویر ہے جو اُنہوں نے ہمیں اپنے پریس سیکرٹری جناب عبدالصمد تاجی صاحب کی معرفت عنایت فرمائی ہے۔

جناب آزاد بن حیدر کئی ماہ سے صاحب فراش تھے اور آج 8 رمضان المبارک مطابق 2 مئی 2020 ء بروز ہفتہ بوقت نماز فجروطن عزیز کے ممتاز سیاست دان اور مورخ محترم آزاد بن حیدرصاحب کا انتقال ہوگیا ۔ان کی نماز جنازہ بعد نمازِ ظہر مسجدِ افضل گلستانِ جوہر بلاک 14 کراچی میں ادا کرنے کے بعد اُن کے جسد خاکی کو حسن اسکوائر قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

افسوس وہ آج ہم میں نہیں لیکن ان کی تابندہ یادیں اور تادم مرگ متحرک زندگی کی بہت یاد گاریں ہمارے درمیان موجود ہیں جو انہیں ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رکھیں گی ۔

اللہ کریم بحرمۃ سید المرسلیٰن ﷺ ان کی بخشش و مغفرت فرمائے اور انہیں اپنے جواد رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین

محمداحمد ترازی

مورخہ 02 مئی 2020ء کراچی