أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اللّٰهِ الَّذِىۡ لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ وَوَيۡلٌ لِّـلۡكٰفِرِيۡنَ مِنۡ عَذَابٍ شَدِيۡدِ ۞

ترجمہ:

اللہ جس کی ملک میں تمام آسمانوں اور تمام زمینوں کی چیزوں ہیں، اور کافروں کے لیے سخت عذاب کی تباہی ہے۔

تفسیر:

اللہ تعال کا ارشاد ہے : اللہ جس کی ملک میں تمام آسمانوں اور تمام زمینوں کی چیزیں ہیں اور کافروں کے لیے سخت عذاب کی تباہی ہے۔ (ابراھیم :2) 

لفظ اللہ کے علم (نام) ہونے پر دلائل : 

یہ آیت پچھلی آیت سے مربوط ہے یعنی اس کے راستہ کی طرف جو بہت غالب، بہت تعریف کیا ہوا ہے اس آیت میں بتایا وہ اللہ ہے جس کی ملک میں تمام آسمان اور زمینیں ہیں۔ 

لفظ اللہ میں علماء کا اختلاف ہے، آیا یہ اسم جامد ہے اور اللہ تعالیٰ کا علم (نام) یا یہ اسم مشتق ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور اس کا معنی ہے معبود یا مستحق عبادت، اس مسئلہ میں تحقیق یہ ہے کہ لفظ اللہ، اللہ تعالیٰ کا علم (نام (ہے اور اس کے دلائل حسب ذیل ہیں :

(1) صفت کا مفہوم کلی ہوتا ہے اور کلی وقوع شرکت سے مانع ہوتی، لہذا اگر لفظ اللہ کو صفت قرار پایا جائے توکلمہ لا الا اللہ سے توحید ثابت نہی ہوگی کیونکہ اب معنی ہوگا کہ اللہ کو سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور لفظ اللہ صفت ہے جو اکثرین پر صادق آتا ہے، نیز اللہ بھی کلی ہے اور الا بھی کلی ہے تو لا الہ الا اللہ میں استشناء الشئی من نفسہ لازم آئے گا اس لیے ضروری ہے کہ لفظ اللہ کو علم اور جزی قرار دیا جائے۔

(2) جب اللہ تعالیٰ کے اسم اور اس کی صفات کا ذکر کرتے ہیں تو کہتے ہیں ھو اللہ الذی لا الاھو الرحمن الرحیم، اور کبھی یوں نہیں کہتے الرحمن الرحیم للہ، بلکہ قرآن کریم اور احادیث شریفہ میں جہاں بھی اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا ذکر کیا گیا ہے تو ذات پر دلالت کرنے کے لیے لفظ اللہ کو لایا گیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ لفظ اللہ، اللہ تعالیٰ کا اسم اور علم ہے۔ 

(3) بعض الفاض اللہ تعالیٰ کی صفات سلیمہ پر دلالت کرے ہیں جیسے القدوس، السلام اور بعض الفاظ اللہ تعالیٰ کی صفات اضافیہ پر دلالت کرتے ہیں جیسے خالق اور رازق، اور بعض الفاظ اللہ تعالیٰ کی صفات حقیقہ پر دلالت کرتے ہیں جیسے عالم اور قادر، اب اگر لفظ اللہ، اللہ تعالیٰ کا علم (نام) نہ ہو اور اس کی ذات مخصوصہ پر دلالت نہ کرے تولازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء اس کی صفات پر دلالت کرتے ہیں اور اس کی ذات مخصوصہ پر دلالت کرنے کے لیے کوئی لفظ نہیں ہے اور یہ بہت بعید ہے، اور قرآن اور حدیث محاورات عرب میں جس لفظ سے اللہ تعالیٰ کی ذات مخصوصہ کی تعبیر کیا جاتا ہے وہ صرف لفظ اللہ ہے۔ 

(4) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لِعِبَادَتِهِ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا ( مریم : ٦٥) کیا تمہیں اللہ کے کسی ہم نام کا علم ہے ؟ اس سے رماد یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ کے سوا تمہیں کسی ایسے شخص کا علم ہے جس کا نام اللہ ہے ؟ اور یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ لفظ اللہ، اللہ تعالیٰ کی ذات مخصوصہ کا اسم اور نام ہے، یہی وجہ ہے کہ پہلے لفظ اللہ کو ذکر کیا جاتا ہے پھر اس کی صفات ذکر کی جاتی ہیں جیسے ھواللہ الخالق البارئ المصور اور یوں نہیں کہا جاتا : الخالق البارئ المصور اللہ اگر لفظ اللہ صفت ہوتا تو اس طرح کہنا بھی جا ئزہوتا۔ 

اللہ تعالیٰ کا کسی سمت کے ساتھ مختص نہ ہونا اور بندوں کے افعال کا خالق ہونا : 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمام آسمان اور زمینیں اللہ کی ملکیت ہیں اس میں یہ اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اوپر نہیں ہے نہ نیچے ہے، اور عرف میں اللہ تعالیٰ کے لیے آسمان طرف اشارہ کیا جاتا ہے اس کی صرف یہ وجہ ہے کہ اوپر کی سمت کو نیچے کی سمت پر فضیلت حاصل ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کسی جہت سمت اور کسی سمت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، اگر اللہ تعالیٰ آسمانوں یا زمینوں میں ہو تولازم آئے گا اللہ تعالیٰ خود بھی اپنی ملکیت میں ہو۔ 

اس آیت میں ہمارے علماء نے یہ استدلال کیا ہے کہ بندوں کے افعال اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ہیں کیونکہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ کا مملوک ہے اور بندوں کے افعال بھی آسمانوں اور زمینوں میں ہیں لہذا وہ بھی اللہ تعالیٰ کے مملوک ہوئے اور ملکیت کسی چیز کو پیدا کرنے سو ہوتی ہے، یا کسی چیز کو خریدنے سے کسی چیز کی وراثت سے یا کسی کے ہبہ کرنے اور عطا کرنے سے موخرالذکر تین طریقوں سے بالک ہونا تو اللہ تعالیٰ کے لیے غیر متصور تولامحالہ اللہ تعالیٰ جو بندوں کے افعال کا مالک ہے تو ان کو پیدا کرنے کی وجہ سے مالک ہے۔ 

بت پرستوں کے سخت عذاب کا سبب : 

اس آیت میں حصر ہے یعنی آسمانوں اور زمینوں کی چیز کا صرف اللہ تعالیٰ ہی مالک ہے اس کے سوا اور کوئی مالک نہیں ہے اور جب اس کے سوا کوئی مالک نہیں ہے تو اس کے سوا کوئی حاکمیت کا مجاز بھی نہیں ہے اور نہ اس کے سوا کسی کو عبادت کرانے کا استحقا ہے اوار جب کہ کافروں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑ کر بتوں کی عبادت کی اور جو رتمام آسمانوں اور زمینوں کا مالک ہے اس کو چھوڑکر اس کی عبادت کی جس کو نفع اور ضررپہنچانے کا اختیار نہیں ہے، جو مالک ہے نہ خالق ہے بلکہ خود مملوک اور مخلوق ہے تو ضروری ہوا کہ وہ سخت سے سخت سزا کے مستحق ہوں اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی ملکیت میں تفردبیان کرنے کے بعد فرمایا اور کافروں کے لیے سخت عذاب کی تباہی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراهيم آیت نمبر 2