أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ نَبَـؤُا الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوۡدَ‌ ‌ۛؕ وَالَّذِيۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ ‌ۛؕ لَا يَعۡلَمُهُمۡ اِلَّا اللّٰهُ‌ؕ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَرَدُّوۡۤا اَيۡدِيَهُمۡ فِىۡۤ اَفۡوَاهِهِمۡ وَقَالُوۡۤا اِنَّا كَفَرۡنَا بِمَاۤ اُرۡسِلۡـتُمۡ بِهٖ وَاِنَّا لَفِىۡ شَكٍّ مِّمَّا تَدۡعُوۡنَـنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ ۞

ترجمہ:

کیا تمہارے پاس تم سے پہلے لوگوں کی خبریں نہیں آئیں۔ نوح کی قوم اور عاد اور ثمود کی اور ان کے بعد کے لوگوں کی جن کو اللہ کے سو کوئی نہیں جانتا۔ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے تو انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے مونہوں پر رکھ دے اور کہا جس پیغام کے ساتھ تمہیں بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرتے ہیں، اور بیشک جس دین کی طرف تم ہمیں دعوت دے رہے ہو ہم اس کے متعلق سخت شک میں مبتلا ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا تمہارے پاس تم سے پہلے لوگوں کی خبریں نہیں آئیں، نوح کی قوم اوعاد اور ثمود کی، اور ان کے بعد کے لوگوں کی جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کے پاس ان کے رسولوں راضح دلائل لے کر آئے تو انہوں نو اپنے ہاتھ اپنے مونہوں پر رکھ دیئے، اور کہا جس پیغام تمہیں بھیجا گیا ہے، ہم اس کا انکار کرتے ہیں اور بیشک جس دین کی طرف تم ہمیں دعوت دے رہے ہو ہم اس کے متعلق سخت شک میں مبتلا ہیں۔ (ابراھیم : :9) 

حضرت آدم تک نسب کرنا درست نہیں : 

اس سے پہلے ہم نے بتایا تھا کہ ایام اللہ مراد وہ ایام ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتیں عطا فرمائیں یا وہ ایام ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنا عذاب نازل فرمایا، پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کی جو نعمتیں عطاکی تھیں ان کا ذکر فرمایا تھا اور اب جن قوموں پر عذب نازل فرمایا تھا، حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم پر، حضرت ھودعلیہ السلام کی قوم عاد پر اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود پر۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے خطاب ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قوم سے خطاب ہو۔ 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور ان کے بعد کے لوگوں کی جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) تک کا نسب کسی کو معلوم نہیں۔ علامہ قرطبی نے ذکر کیا ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : عدنان اور حضرت اسمعیل تک تیس آباء ہیں جن کو کوئی نہیں جانتا، اور حضرت ابن مسعود (رض) اس آیت کو پڑھ کر فرماتے تھے کہ نسبنامہ بیان کرنے والے جھوٹے ہیں یعنی وہ لوگ جو کسی کا نسب حضرت آدم (علیہ السلام) تک بیان کرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ عاد اور ثمود کے بعد ایسی اقوام ہیں جن کو کوئی نہیں جانتا۔ 

اپنے ہاتھوں کو اپنے مونہوں پر رکھنے کی متعدد تفسیریں : 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تو انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے مونہوں پر رکھ دیئے اس کی تفسیر میں متعدد اقوال ہیں : 

(1) حضرت ابن مسعود، حضرت ابن زید اور ابن قتیبہ نے کہا : انہوں نے غیظ وغضب کی شدت سے اپنی انگلیا کاٹ لیں جیسا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : 

وَإِذَا خَلَوْا عَضُّوا عَلَيْكُمُ الأنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ (آل عمران : 119) اور جب وہ اکیلے ہوتے ہیں تو تم پر غصہ کی وجہ سے انگلیاں کا ٹتے ہیں۔ 

(2) ابو صالح نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے تو وہ آپ کی بات کو رد کرنے کے لیے اور آپ کی تکذیب کرنے لیے اپنی انگلیاں اپنے منہ پر رکھ کر آپ کو اشارہ سے کہتے کہ آپ چپ رہیں۔ 

(3) حسن نے کہا : جب رسول تبلیغ کرتے تو وہ ان کی بات کو رد کرنے کے لیے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیتے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراهيم آیت نمبر 9