أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اۨلَّذِيۡنَ يَسۡتَحِبُّوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا عَلَى الۡاٰخِرَةِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَيَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا‌ ؕ اُولٰۤئِكَ فِىۡ ضَلٰلٍۢ بَعِيۡدٍ ۞

ترجمہ:

جو آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں وہی بہت دور کی گمراہی میں ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی پسند کرتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں وہ بہت دور کی گمراہی میں ہیں۔ (ابراھیم :3) 

دنیاوی لذتوں کا بےمایہ ہونا : 

جو شخص بھی دنیا کی زیب وزینت اور دنیا کی رنگینیوں کو آخرت کی نعمتوں پر ترجیح دے اور آخرت کی بجائے دنیا میں رہنے کو پسند کرے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لائے ہوئے دین سے لوگوں کو روکے وہ اس آیت کے عموم میں داخل ہے وہ خود گمراہ ہے اور لوگوں کو گمراہ کرنے والا ہے۔ 

بعض اوقات فساق اور فجار گنا ہوں کا ارتکاب کرتے ہیں لیکن وہ گناہوں کو پسند نہیں کرتے اور نہ گناہوں سے محبت کرتے ہیں اور کافرجو صرف دنیا کی زندگی کو ماننے ہیں اور آخرت کی زندگی کے منکر ہیں ان کے نزدیک دنیا کی مرغوب چیزیں اور دنیا کی لذتیں ہی اصل نعمت ہیں اس لیے وہ دنیا کے لذائذ اور مرغوبات کو آخرت کی نعمتوں پر ترجیح دیتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی ترجیح کو بہت دور کی گمراہی فرمایا ہے کیونکہ دنیا کے مرغوبات اور لذئذ میں انواع اقسام کے عیوب ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں۔

(1) انسان جب اپنی مرغوب چیزیں حاصل کرلیتا ہے تو اس کو یہ غم لگا رہتا ہے کہا اس سے یہ چیزیں کوئی چھین کر نہ لے جائے یا کسی حادثہ کی وجہ سے یہ چیزیں ضائع نہ ہوجائیں اور اگر یہ چیزیں باقی بھی رہیں تو وہ خود ایک دن ان چیزوں کو چھوڑ کر دنیا سے چلا جائے گا۔

(2) دنیاوی لذتوں میں انسان سب سے زیادہ ذائقہ اور جماع کی لذت میں کوشاں ہوتا ہے اور یہ لذت صرف چند لمحوں کی ہے حلق سے لقمہ اترنے کے بعد اس لذت کا کوئی اثرباقی نہیں رہتا اور انزال کے بعد جماع کی لذت کا کوئی نشان نہیں رہتا پھر ان کی بہت خرابیاں ہیں۔ کھانے پینے کی جتنی چٹخارے دار اور لذیذ اشیاء ہیں سب کا مال موزی قسم کے امراض ہیں، اور جماع کے نتیجہ میں انسان بہت ذمہ داریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس کے بر خلاف روحانی لذات کسی خرابی اور ذمہ داری کی موجب نہیں ہیں۔ 

(3) دنیاوی لذات فانی ہیں اور اخروی لذات دائمی اور سرمدی ہیں۔ 

بہت دور کی گمراہی کا معنی : 

اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ دنیاوی کو اخروی لذات پر ترجیح دیتے ہیں اس سے معلوم ہو کہ فی نفسہ دنیاوی لذات مذ موم نہیں ہے، لائق مذمت یہ چیز کہ دنیا کو آخرت پر تر جیح دی جائے جس نے دنیاوی لذتوں کے حصول کی اس لیے کوشش کی ان کے وسیلہ سے وہ اخروی نیکیاں حاصل کرے گا تو یہ مذموم نہیں ہے۔ 

پھر اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ اس جس نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی وہ گمراہ ہے اور جب اس نے دوسرے لوگوں کو بھی اللہ کے راستے سے ہٹانے کی کوشش کی تو وہ گمراہ کرنے والا ہے اور ضال اور مضل ہے اگر وہ لوگوں کو صرف اسلام قبول کے نے سے روکے اور منع کرے تب بھی گمراہ کرنے ولا ہے اور اگر لوگوں کے دلوں میں اسلام کے خلاف شکوک اور شہبات پیدا کرے اور مختلف ہتھکنڈوں سے لوگوں کو اسلام سے متنفر کر تب بھی وصال اور مضل ہے اور بہت دور کی گمراہی میں مبتلا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراهيم آیت نمبر 3