تنگ نظری یا کمعلمی؟؟؟

مولانا صاحب حضرت ابو ہریرہ کا نام کیا تھا؟

خطاب کے اختتام پہ مجمع میں سے ایک شخص نے بآوازِ بلند پوچھا۔

عبد الرحمن بن صخر۔۔۔

میں نے جوابا کہا۔

جلسہ کے بعد واپسی کے لیے گاڑی میں بیٹھنے لگا تو ایک صاحب نے روکتے ہوئے کہا:

ترمذی شریف پڑھی ہے آپ نے؟

میں نے کہا: کئی بار پڑھانے کا شرف بھی نصیب ہوا ہے ، آپ حکم کریں۔

موبائل میں سے مترجم جامع ترمذی دکھاتے ہوئے بولے: یہ دیکھیں اس میں “عبد اللہ بن عمرو” لکھا ہوا ہے۔

میں نے ٹالنے کے لیے مسکراتے ہوئے کہا: بس آپ کتابیں ساتھ لے کر گھومتے ہیں ، ہم کم علم لوگ کیا کہہ سکتے ہیں۔۔۔

کہنا کیا ہے؟ واپس جا کر اسپیکر میں لوگوں کو بتاؤ کہ تم نے حضرت ابو ہریرہ کا نام غلط بتایا ہے۔۔۔ جھوٹ بولا ہے تو نے۔۔۔ صحابی کے باپ کا نام غلط بتایا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ صاحب دھاڑے جا رہے تھے ، ان کی منہ سے تھوک نکل نکل کر سامنے والوں کو فیضیاب کر رہی تھی اور آنکھیں شعلے برسا رہی تھیں۔

لوگوں کا مجمع لگ گیا اور تماشے کا سا سماں بن گیا۔ لوگ اس بندے کو خاموش کروانے کی کوشش کرنے لگے لیکن وہ تھے کہ کسی کے قابو میں نہیں آ رہے تھے۔ ایک آدمی نے سمجھداری کرتے ہوئے ان صاحب کو دو تین لگا دیں۔۔۔۔۔

مجھے اچھا تو نہیں لگا لیکن شاید وقت کا تقاضا یہی تھا۔ ضیافت ہو چکی تو خاموش ہو گئے اور مجھے بولنے کا موقع مل گیا:

موبائل میں سے دوبارہ کتاب سامنے کرو۔۔۔

میں بولا۔

موصوف نے کتاب کھول کر موبائل میری طرف بڑھا دیا۔ میں نے اسے قریب بلا کر عربی جملہ “أبو هريرة اختلف في اسمه” دکھانے کے بعد پوچھا:

آپ بتا سکتے ہیں کہ جنابِ ابو ہریرہ اور آپ کے والد کے نام کے بارے میں کتنے اقوال ہیں؟

موصوف خاموش۔۔۔۔

کیوں؟ کیا ہو گیا؟ ابھی تو آپ بہت چلا رہے تھے ، اب خاموش کیوں ہو گئے؟

میرے لہجے میں بھی نہ چاہتے ہوئے سختی آ گئی۔

مگر موصوف کے پاس کھسیانے پن سے میری طرف دیکھنے کے علاوہ کچھ نہ بچا تھا۔

میں نے سلسلہ گفتگو بڑھاتے ہوئے کہا:

علماء نے اس سلسلے میں 20 سے 30 اقوال ذکر کیے ہیں ، اور امام نووی وغیرہ نے اُسی کو ترجیح دی ہے جو میں نے ذکر کیا۔

اور میں نے صرف جامع ترمذی نہیں پڑھی ، اور بھی بہت کچھ پڑھا ہے۔۔۔

میں باوجود کوشش کے لہجے کی سختی کو قابو میں نہیں رکھ سکا۔ اور یہ سختی در حقیقت موصوف کی حرکت کے رد عمل کے طور پر ظاہر ہوئی تھی۔

اب موصوف صرف مجھے دیکھ رہے تھے لیکن کچھ بول نہیں رہے تھے۔

میں نے گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھتے ہوئے کہا:

پہلے مسئلہ کی نوعیت اور اس کی تفصیلات معلوم کر لیا کریں ، اس کے بعد کسی پر اعتراض کیا کریں۔ اپنی کم علمی کی وجہ سے دوسروں سے مت بگڑیں۔۔۔۔!!!

میں وہاں سے تو چل پڑا لیکن اس شخص کی حرکت طبیعت پہ خاصی گرانی کا باعث بنی۔

اسی سے ملتا جلتا معاملہ ایک بار ایک تنظیمی اجلاس میں پیش آیا ، ایک نوجوان جو اجلاس میں شریک تھا اور عمومی طور پر لا یعنی بحثیں چھیڑتا رہتا تھا ، اجلاس ختم ہونے پر مجھ سے بولا:

مشرکین کے بچے جنت میں جائیں گے یا جہنم میں؟

میں اس نوجوان کی طبیعت سے واقف تھا اور سمجھتا تھا کہ اسے سوال کے جواب سے کوئی مطلب نہیں ، یہ اسے کسی لا یعنی بحث کا ابتدائیہ بنانا چاہتا ہے ، اس لیے مختصرا جواب دیتے ہوئے کہا:

“جنت میں۔۔۔۔”

جواب شاید نوجوان کی توقع کے خلاف تھا اس لیے اسے خاموش ہونا پڑا۔ لیکن اس کے بعد ایسی بحث چھڑی کی کم پڑھے لکھے تنگ نظر لوگوں نے میری ناک میں دم کر دیا۔ ان کا دعوی تھا کہ اس مسئلہ میں امام ابو حنیفہ سے توقف مروی ہے ، لہذا میں نے مسئلہ سراسر غلط بتایا ہے اور مجھے اعلانیہ توبہ کرنی چاہیے۔۔۔

میری زندگی میں پیش آنے والے اس قسم کے “حقیقی واقعات” کو اگر میں جمع کروں تو یقین جانیے کہ ایک کتاب کی صورت اختیار کر جائے۔

ایسا بارہا ہوا کہ کسی مسئلہ میں مختلف آراء ہوتے ہوئے کسی خاص حکمت کے پیشِ نظر اگر کسی ایک رائے کو ذکر کیا تو دوسری جانب سے اعتراضات کی ایسی بارش ہوئی کہ جینا دو بھر کر دیا گیا ، بلکہ ایک بار تو ایسا بھی ہوا کہ “راجح قول پر فتوی” دینے کے بعد لگ بھگ چھ سال کیس بھگتنا پڑا ، کیونکہ میرے مقابلے میں انتہائی سطحی اور کم علم لوگ تھے ، راجح مرجوح سے یکسر غافل ، بس لکیر کے فقیر۔۔۔۔

سچ پوچھیں تو یہ المیہ صرف میرا نہیں۔۔۔۔

یہ المیہ بہت سے اہلِ علم کا ہے۔۔۔۔

یہ المیہ لا تعداد اصحابِ قلم کا ہے۔۔۔۔

ہماری “تنگ نظری اور کم علمی” دونوں ہی جہاں اہلِ علم کے لیے تکلیف دہ ہیں اور وہیں اس معاشرے کے لیے ناسور سے کم نہیں۔ ہمارے اس رویے نے ہم سے قیمتی نگینے ضائع کروا دئیے۔۔۔

اصول میں اختلاف کی صورت میں اس قسم کا رویہ تو سمجھ میں آتا ہے ، بھلا فروع میں اختلاف کا یہ انداز ہم نے کہاں سے سیکھا ہے؟

اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا انداز دیکھیئے ، جب فرمان : “لا يصلين أحد الظهر إلا في بني قريظة” (ہر شخص ظہر کی نماز بنو قریظہ ہی میں پڑھے) جاری ہونے کے بعد اس سلسلے میں لوگوں کے دو گروہ بن گئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کسی ایک پر بھی ناراضی کا اظہار نہیں فرمایا۔ کیونکہ مسئلہ فرعی تھا جس میں اختلاف کی گنجائش موجود رہتی ہے۔

جنابِ عبد اللہ بن عباس اور زید بن ثابت کو دیکھیے ، وراثتِ جد کے مسئلہ میں اختلاف کے باوجود ابنِ عباس جنابِ زید کی سواری کی رکاب تھامتے اور جنابِ زید ابنِ عباس کے ہاتھ چومتے نظر آتے ہیں۔

بیسیوں مسائل میں اختلاف کے باوجود ابنِ مسعود اور جنابِ عمر ایک دوسرے کی تعریفیں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

سینکڑوں مسائل میں اختلاف کے باوجود امام شافعی فرماتے ہیں: “میں امام ابو حنیفہ سے برکتیں حاصل کرتا ہوں اور ان کی قبر اقدس پہ روزانہ حاضری دیتا ہوں”

سلف صالحین کے ہاں تو فروع میں اختلاف کی صورت میں وسعتِ ذہنی ہوا کرتی تھی ، لیکن وقت نے جہاں ہمیں کم علم بنا دیا وہیں تنگ نظر بھی کر دیا۔

میں بہت وقت سے یہ کلمات لکھنا چاہتا تھا لیکن سوچتا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسے “نصیحت” کم اور “اپنا رونا” زیادہ سمجھا جائے۔ لیکن گزشتہ کچھ دنوں سے میرے بہت ہی پیارے دوست جناب علامہ کاشف اقبال صاحب زید مجدہ اور جناب علامہ شان اسلم صاحب دام اقبالہ کے بارے میں “اپنوں” کا جو رویہ دیکھا تو انتہائی دل برداشتہ ہوا۔

میرے بھائیو!

یقین جانیے کہ ہم نے دائرہ تحقیق تنگ کر دیا ہے۔۔۔

ہم نے اہلِ علم کو پابندِ سلاسل کر دیا ہے کہ وہ صرف ایک ہی طرز پہ چلیں۔۔۔ اگر اس سے ہٹیں گے تو انہیں ہماری زبانوں سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

میرے بھائیو!

دائرہ تحقیق کو تنگ مت کیجیئے۔۔۔

فروع میں اختلاف کو اصولی طرز نہ دیجیئے۔۔۔

اسی میں ہماری بہتری ہے اور یونہی یہ اختلاف موجبِ رحمت بنے گا۔۔۔۔

میں اپنی گفتگو کو جنابِ عدی بن حاتم کے اس جملہ پہ ختم کرنا چاہوں گا جو ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے ، فرمایا:

إنكم لن تزالوا بخير ما لم تعرفوا ما كنتم تنكرون، وتنكروا ما كنتم تعرفون، وما دام عالمكم يتكلم بينكم غير خائف

تم تب تک بھلائی سے رہو گے جب تک منکرات کو اچھا نہ سمجھنے لگ جاؤ ، اچھائیوں کو برا نہ کہنے لگ جاؤ ، اور “جب تک تمہارا عالم تمہارے بیچ بے خطر گفتگو کرتا ہے”

(الابانۃ الکبری لابن بطۃ 26)

اللہ کریم ہمیں فروع میں اختلاف کے آداب سمجھنے اور انہیں اپنے روز وشب کا حصہ بنانے کی توفیق بخشے۔

آمین

بحرمۃ طہ ویس

صلی اللہ تعالی علیہ وسلم

✍️ چمن زمان

7 رمضان المبارک 1441ھ / یکم مئی 2020ء وقتِ افطار