حدیث نمبر196

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فجر جماعت سے پڑھے پھر سورج نکلنے تک بیٹھ کر اﷲ کا ذکر کرے ۱؎ پھر دو رکعتیں پڑھے تو اسے حج اور عمرے کا ثواب ملے گا ۲؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے کا پورےکا پورے کا ۳؎ (ترمذی)

شرح

۱؎ سورج نکلنے سے مراد آفتاب بلند ہونا یعنی چمکنے سے دو منٹ بعد کیونکہ چمکتے وقت نماز ممنوع ہے اور بیٹھنے سے مراد مسجد میں رہنا ہے لہذا اس وقت طواف یا وعظ یا طلب علم کے لیے مسجد کے کسی گوشہ میں منتقل ہونا مضر نہیں بلکہ مرقاۃ نے فرمایا کہ جو فجر کے بعد اپنے گھر آجائے مگر اﷲ کے ذکر میں مشغول رہے پھر دو نفل پڑھ لے وہ بھی اس میں داخل ہے۔

۲؎ حج فرض ہے عمرہ سنت،ایسے ہی نماز فجر فر ض اور رکعتیں سنت اس لیے ان دونوں کے جمع کرنے میں حج و عمرے کا ثواب ہے۔ظاہر یہ ہے کہ ان نفلوں سے مراد نفل اشراق ہیں جن کا وقت طلوع آفتاب سے شروع ہوجاتا ہے نماز چاشت کا وقت شروع اسی وقت سے ہوتا مگر ختم نصف النہار پر۔

۳؎ یعنی کامل حج و عمرہ کا ثواب ملے گا جو فرائض،واجبات،سنتوں اور مستحبات کے ساتھ ادا کیے جائیں۔خیال رہے کہ حج و عمرے کا ثواب ملنا اور ہے انکا ادا ہونا کچھ اور لہذا س کا مطلب یہ نہیں کہ مسلمان حج چھوڑدیں صرف اشراق پڑھ لیا کریں۔