سیرت حلبیہ میں دیوبندی تحریف کا تنقیدی جائزہ

میثم عباس قادری رضوی

سیرت حلبیہ، جلد اول میں “باب:تسميته صلى الله عليه وسلم محمد وأحمد‘‘ کے آخر میں میلاد النبی کے متعلق عربی اقتباس کا مولوی اسلم قاسمی دیوبندی نے مکمل اردو ترجمہ کرنے کی بجائے اس کی صرف ابتدائی دو سطروں کا اردو ترجمہ کیا ہے، وہ بھی محض اس لیے کہ ان سطور میں قیام میلا ومروج کو اپنی اصل کے لحاظ سے بدعت کہا گیا ہے، ذیل میں مولوی اسلم قاسمی دیوبندی کا کیا گیا نامکمل او تحریف شدہ اردو ترجمہ ملاحظہ کریں:

لوگوں میں یہ عادت پھیل گئی ہے کہ جب آنحضرت صلى الله عليه وسلم کی ولادت مبارکہ کا حال سنتے

ہیں تو آپ صلی الله عليه و سلم کی تعظیم میں کھڑے  ہوجاتے ہیں، یہ قیام یعنی کھڑا ہونا بالکل ایک بدعت ہے جس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے۔

سیرت حلبیہ ، جلد اول، نصف اول ، صفحہ ۲۷۰، مطبوع دارالاشاعت، اردو بازار، ایم اے جناح روڈ، کراچی ۔ مترجم: مولوی اسلم قاسمی دیوبندی ، فاضل دیوبند)

دیوبندی مترجم نے اس کے متصل باقی عربی اقتباس کا اردو ترجمہ اس لیے نہیں کیا کیونکہ اس میں حضرت علامه حلبی رحمة الله تعالی علیه نے قیام میلاد کو بدعت ، لیکن دیوبندیوں کی طرح قبیح بدعت نہیں بلکہ بدعت حسنه یعنی اچھی بدعت قرار دیا ہے۔ جلیل القدر علمائے اسلام امام تقی الدین سبکی مصری،امام ابن ہجر الهيتمی ، امام ابوشامه شیخ امام نو وی ، امام سخاوی، امام ابن جوزی، اور امام سیوطی سے قیام میلاد ومحفل میلاد کا جواز بیان کیا ہے، میلاد شریف منانے کو خیر و برکت کا سبب قرار دیا ہے

اور بدعت حسنہ کے متعلق اہل سنت و جماعت کے موقف کی بھر پور تائید کی ہے جو دیوبندی مترجم سے برداشت نہ ہوگی۔

ذیل میں سیرت حلبی سے میلاد شریف کے جواز پرمشتمل مکمل عربی اقتباسی اور پھر اس کا اردو ترجمہ ملاحظہ کریں تا کہ میلاد شریف کے متعلق حضرت عللامہ حلبی رحمة الله تعالی علیه کا مکمل موقف اور مولوی اسلم قاسمی دیوبندی کی بددیانتی اور شرمناک خیانت روز روشن کی طرح قارئین پر واضح ہوجائے۔

“ومن الفوائد أنه جرت عادة كثير من الناس اذاسمعوا بذكر وضعه صلی الله عليه وسلم أن يقوموا تعظيما له صلى الله عليه وسلم وهذا القيام بدعة لا أصل لها:أي لكن هي بدعة حسنة، لأنه ليس كل بدعة مذمومة. وقد قال سیدنا عمر رضی الله تعالی عنه في اجتماع الناس لصلاة الترایح: نعمت البدعة. وقد قال العز بن عبدالسلام:ان البدعة تعتريها الأحكام الخمسة وذكر من أمثلة كل مايطول ذكره. ولاينافي ذلك قوله صلى الله عليه وسلم: “ایاکم ومحدثات الأمور فإن كل بدعة ضلالة وقوله صلى الله عليه وسلم: “من أحدث في أمرنا. أي شرعنا ۔ ما ليس منه فهو رد عليه لأن هذا عام أريد به خاص. فقد قال: امامنا الشافعی قدس الله سره:ما أحدث و خالف كتابا أو سنة أو اجماعا أو اثرة فهو البدعة الضلالة، وما حدث من الخير ولم يخالف شيئأمن ذلك فهو البدعة المحمودة. وقد وجد القيام عند ذكر اسمه صلی الله عليه وسلم من عالم الأمة ومقتدى الأنمة دينا وورعا  الامام تقی الدین السبکی، وتابعه على ذلك مشائخ الاسلام في عصره فقد حكى بعضهم أن الأمام السبکی اجتمع عنده جمع كثير من علماء عصر فأنشدمنشدقول الصرصری فی مدح صلی الله عليه وسلم قليل لمدح المصطفى الخط بالذهب على ورق من خط أحسن من كتب وان تنهض الأشراف عند سماعه قياما صفوفا أوجشيا على الركب فعتد ذلك قام الامام السبکی رحمه الله وجميع من في المجلس تحصل أني کیر بذلک المجلس ويكفي مثل ذلك في الأقتداء وقد قال ابن حجر الهيتمی: والحاصل أن البدعة الحسنة متفق علی ندبها وعمل المولد و اجتماع الناس له كذلک أی بدعة حسنة، ومن ثم قال الامام أبو شامة شيخ الامام نووی:ومن أحسن ما ابتدع في زماناهايفعل كل عام في اليوم الموافق ليوم مولده صلى الله عليه وسلم من الصدقات والمعروفات و اظهار الزينة والسرور، فان ذلك مع ما فيه من الاحسان للفقراء مشعر بمحبته صلى الله عليه وسلم وتعظيمه في قلب  فاعل ذلك وشكر الله علی ما من به من ایجاد رسول الله صلى الله عليه وسلم أرسله رحمة للعالمين هذا كلامه قال السخاوی: لم يفعله أحد من السلف في القرون الثلاثة والماحدث بعد ثم لازال أهل الإسلام من  سائر الاقطار والمدن الكبار يعملون المولد، ويتصدقون في لياله بأنواع الصدقات ربعون بقراءومولده الكريم ويظهر عليهم من بركاته كل فضل عمیم۔ قال ابن الجوزی: من خواصه أنه أمان في ذلك العام وبشرى عاجلة بنيل البغية والمرام . و أول من أحدثه من الملوک صاحب أربل وصنف له ابن دحية كتاب في المولد سماه “التنوير بمولد البشير النذير” فأجازه بألف ديناروقد استخرج له الحافظ ابن حجر اصلأ من السنة، وكذا الحافظ السيوطي، وردا على الفاكهاني المالكي في قوله:” أن عمل المولود بدعة مذمومة. السيرة الحلبية وهو الكتاب المسمى انسان العيون في سيرة الأمين والمامون باب تسمیته صلى الله عليه وسلم محمد واحمدا صفحہ  ۱۲۳، ۱۲۴، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

اب ذیل میں سیرت حلبیہ سے میلاد شریف کے بیان پر مشتمل مذکورہ بالا عربی اقتباس کا اردو ترجمہ ملاحظہ کیجیے۔ جس میں حضرت علامہحلبی منکرین میلاد کے دلوں کوزخمی کرتےہوئے تحریرفرماتے ہیں:

اکثر لوگوں کی عادت ہے کہ جس وقت اس عالم میں آنحضرت صلی الله تعالى عليه واله وسلم کی

تشریف آوری کا ذکر سنتے ہیں تو تعظیما کھڑے ہو جانتے ہیں ۔ اور یہ قیام (اگرچہ) بدعت ہے، جس کی

کوئی اصل نہیں ، لیکن یہ بدعت حسنہ ہے کیوں کہ ہر بدعت مذموم اور بری نہیں ہوتی حضرت عمر رضی الله تعالی عنہ نے نماز تراویح کے لئے لوگوں کا جمع ہونا ویکھ کر فرمایا: کتنی اچھی بدعت ہے۔ علامہ عزبن عبدالسلام رحمة الله تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ بدعت کو اس کی  اقسام کے اعتبار سے) پانچوں احکام لاحق ہوتے ہیں  اور انہوں نے ہر حکم کی مثالیں بھی بیان فرمائی ہیں جس کا ذکر طویل  ہے۔ اور یہ آنحضرت صلى الله تعالى عليه واله وسلم کے ان فرامین  نئینکالی ہوئی چیزوں سے بچتے رہو، پس بیشک ہر بدعت گمراہی ہے اور جس نے ہمارے امریعنی شریعت میں نئی بات نکالی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ اس پر مردود ہے، کے منافی نہیں کیونکہ یہ لفظ  عام اور اس کی مراد خاص ہے۔ ہمارے امام محمد بن ادریس شافعی قدس سرہ نے فرمایا جس نے کوئی نئی بات نکالی اور قرآن سنت، اجماع یا اثر کی مخالفت کی تو وہ بدعت ضلالہ ہے اور جو اچھی چیز نکالی اور ان میں سے کسی کی مخالفت نہ کی تو وہ بدعت محمودہ ہے۔ اور آنحضرت صلی الله تعالى عليه واله وسلم کے اسم مبارک کے ذکر پر امت اسلامیہ کے عالم اور دین وورع (پرہیز گاری) میں ائمہ کے مقتدی، امام تقی الدین سبکی مصری رحمه الله تعالى عليه (متوفی ۷۵۶ ھ) کا قیام دیکھا گیا ہے اور ان کے زمانے کے مشائخ اسلام نے ان کے اس عمل کی پیروی کی ہے۔

چنانچہ ان لوگوں میں سے بعضوں نے حکایت کی ہے کہ (ایک مرتبہ امام سبکی رحمة الله تعالی علیه کے سامنے ان کے عہد کے علماء کی ایک بڑی جماعت تھی کہ کسی نے (ابوزکریا یحیی بن يوسف )صرصری بغدادی رحمة الله تعالى عليه متوفی ۶۵۶ھ) کا قصیدہ در مدح خیر البریہ پڑھا۔

جناب محمد مصطفی صلی الله تعالی علیه و آله وسلم کی مدح کے لیے یہ بہت ادنی سی بات ہے کہ اس کو چاندی کی تختی پر آب زر سے بہت ہی اچھے خوشنویس سے لکھوایا جائے ۔ اور (ضروری ہے کہ شرفا ( آپ کی مدح) سن کر صفوں میں کھڑے ہوجا نھیں (یا اگر سوارہوں تو) سواریوں پر گھٹنوں کے بل ہوجائیں۔

یہ سنتے ہی امام سبکی رحمة الله تعالى عليه اورسب اہل مجلس کھڑے ہو گئے ۔ تو اس مجلس سے بڑی انسیت حاصل ہوئی اور پیروی کے لیے اس جیساواقعہ کافی ہے۔

ابن حجرہیتمی نے کہا ہے

خلاصہ یہ کہ بدعت حسنہ کا مستحب ہونا متفق علیہ ہے، اور مولد شریف منانا اور اس کے لیے لوگوں

کا جمع ہونا ایسا ہی ہےیعنی بدعت حسنہ ۔

اس وجہ سے امام ابوشامه شیخ امام نووی رحمة الله تعالی علیه نے فرمایا:

ہمارے زمانے میں ایجاد ہونے والی اچھی چیزوں میں وہ ہے جو ہر سال آنحضرت صلی الله تعالى عليه

وأله وسلم کے یوم ولادت کے موافق دن کو صدقات و خیرات نیز زینت اور سرور کا اظہار کیا جاتا

ہے، پس بیشک اس میں فقرا کے لئے بھلائی پائی جانے کے ساتھ یہ عمل اپنے کرنے والے کے دل میں

آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی محبت اور تعظیم ہونے کی بھی خبر دیتا ہے۔ اس پر الله تعالی کا شکر ہے کہ جو اس نے اپنے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو تخلیق فرما کر احسان کیا جنہیں تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ۔ یہ امام نووی کا کلام ہے۔

امام سخاوی نے کہا ہے

قرون ثلاثہ میں اسلاف میں سے کسی نے یہ عمل نہیں کیا بلکہ یہ اس کے بعد ایجاد ہوا، تمام اطراف و اقطار اور بڑے بڑے شہروں میں سے اہل اسلام میلاد کرتے ، اس کی رات میں قسم قسم کے صدقات کرتے اور مولود شریف پڑھنے کا اہتمام کرتے رہے ہیں اور اس کی برکتوں سے ان پر ہر فضل امین ظاہر ہوتا ہے۔

ابن جوزی کہتے ہیں:

محفل میلاد کے خواص میں سے ہے کہ یہ مبارک عمل اس سال بھر میں امان اور مقصد و مراد کے جلد حصول کی بشارت ہے۔ بادشاہوں میں سے سب سے پہلے محفل میلاد کرنے والے شاہ اربل ہیں، ابن دحیہ نے ان کے لئے میلاد شریف کے موضوع پر ایک کتاب لکھی جس کا نام ”التنوير بمولد البشير النذير ‘‘ رکھا تو شاه اریل نے انہیں ایک ہزار دینار ہدیہ پیش کیا۔

حافظ ابن حجر، اسی طرح حافظ سیوطی رحمهما الله تعالی نے اس کی اصل سنت سے ثابت کی ہے اور فاکهانی مالکی کے اس قول میں ان کا رد کیا ہے کہ عمل مولود بدعت مذمومہ ہے۔

قارئین! آپ نے سیرت حلبی سے میلاد شریف کے متعلق مکمل عربي اقتباس اور اس کا اردو ترجمہ ملاحظہ کیا، جس میں حضرت علامہ حلبی رحمة الله تعالی علیه نے بدعت حسنہ کے متعلق ہم اہل سنت و جماعت کے موقف کی تائید کی ہے۔ میلاد النبی منانے کو خودبھی جائز کہا  ہے اور جلیل القدر علمائے اسلام سے بھی اس کا جواز ثابت کیا ہے۔ لیکن افسوس کہخَائِن و بددیانت مترجم نے اس حصہ کا ترجمہ نہ کر کے شرمناک علمی بددیانتی کا مظاہرہ کیا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

SeeratHalbiaMainDeobandioKITahreef01SeeratHalbiaMainDeobandioKITahreef02SeeratHalbiaMainDeobandioKITahreef03SeeratHalbiaMainDeobandioKITahreef04SeeratHalbiaMainDeobandioKITahreef05SeeratHalbiaMainDeobandioKITahreef06SeeratHalbiaMainDeobandioKITahreef07SeeratHalbiaMainDeobandioKITahreef08