فرضیت زکوٰۃ کا سبب اور غرض وغایت

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! قرآن حکیم نے متعدد مقامات پر ان عوامل کی نشاندہی فرمائی ہے جو فر ضیت زکوٰۃ کا سبب بنے۔ چنانچہ رب قدیر جل جلالہٗ اہل ایمان سے براہ راست مخاطب ہو کر ارشاد فرماتا ہے:

’’ یٰآ یُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنَاکُمْ‘‘ (البقرہ ۲؛۲۵۴)

اے ایمان والو! ہم نے جو تمہیں رزق دیا اس میں سے خرچ کرو۔ (کنز الایمان)

ایک دوسری جگہ دولتِ رشد و ہدایت اور تقویٰ سے بہرہ یاب، ایمانداروں کی علامت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’ ہُدیً لِلْمُتَّقِیْنَ اَلَّذِیْنَ یُوْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلوٰۃَ وَ مِمَّا رَزَقْنَا ہُمْ یُنْفِقُوْنَ‘‘ (البقرہ)

اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو وہ جو بے دیکھے ایمان لائیں اور نماز قائم رکھیں، اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں۔ (کنز الایمان)

ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہو ا وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنَاکُمْ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ (سورئہ منا فقون )

اور ہمارے دئے میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں کسی کو موت آ جائے۔

اس آیتِ کریمہ میں ایمان والوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ قبل اس کے کہ موت آجائے اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اپنی عادت بنا لو، موت کے بعد جب ظاہری اسباب منقطع ہو جائیں گے اور قیامت کے دن تم سے پوچھ گچھ ہوگی تو سوائے افسوس اور حسرت کے تمہارے پاس کچھ بھی نہ ہوگا۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیا رے دیوانو! اللہ تبارک و تعالیٰ ایمان والوں کو بار بار جھنجھوڑتا ہے کہ اس مال میں سے میری راہ میں خرچ کرو جو میں نے تمہیں عطا کیا ہے ’’ مِمَّا رَزَقناْکُمْ ‘‘ کے الفاظ غور طلب ہیں کہ بسا اوقات کوئی اپنی کم ظرفی کی بنیاد پر یہ خیال کر لیتا ہے کہ اس کا مال اور اس کی کمائی، اس کی ذاتی محنت و کاوش کا نتیجہ ہے۔ اس کا یہ گمان سراسر غلط ہے۔ کیوں کہ انسان کے پاس جو کچھ مال و متاع ہے، وہ اس کے رب کی عطا اور فضل ہے جس سے اسے کبھی محروم بھی ہونا پڑ سکتا ہے۔