أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُكُمۡ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ‌ؕ وَمَا كَانَ لَنَاۤ اَنۡ نَّاۡتِيَكُمۡ بِسُلۡطٰنٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰهِ‌ؕ وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۞

ترجمہ:

ان سے ان کے رسولوں نے کہا کی ہم تمہاری طرح بشر ہی ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے احسان فرماتا ہے۔ اور ہمارے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم اللہ کی اجازت کے بغیر تمہارے پاس کو دلیل لے آئیں اور مومنوں کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ : ان سے ان رسولوں نے کہا ہم تمہاری طرح بشر ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے احسان فرماتا ہے اور ہمارے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم اللہ کی اجازت کے بغیر تمہارے پاس کوئی دلیل لے آئیں اور مومنوں کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے۔ (ابراھیم : 11) 

جن خصوصیات کی بنا پر انبیاء (علیہم السلام) نبی بنائے گئے : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسولوں کی زبان سے کفار کے نبوت میں شبہات کے جوابات کا ذکر فرمایا ہے، ان کا پہلا شبہ یہ تھا کہ تم ہماری ہی مثل ہو پھر تم کو نبی کیونکر بنادیا گیا، رسولوں نے اس کا یہ جواب دیا کہ انسانیت اور بشر میں مساوی اور مماثل ہونا اس بات کے منافی نہیں ہے کہ بغض انسانوں کو منصب نبوت کے ساتھ خاص کرلیا جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اپنا فضل اور احسان فرماتا ہے اور اس کو منصب نبوت عطافر ماتا ہے اور اس تقریر سے نبوت میں ان کا پہلا شبہ ساقط ہوجاتا ہے۔ 

امام فخرالدین رازی متوفی 606 ھ نے لکھا ہے کہ جس طرح انسان کی روح اور بدن میں علوی اور قدسی صفات نہ ہوں اس میں نبوت کا حصول ممتنع ہے، اور مام غزالی نے لکھا ہے کہ جس طرح عام انسان حیوانات سے عقل کی وجہ سے ممتاز ہوتا ہے اسی طرح نبی عام انسانوں سے ایک خاص وصف کی وجہ سے ممتاز ہوتا ہے اس میں ایک زائد قوت ادراک ہوتی ہے جس وجہ سے وہ مورغیہ کا ادراک کرتا ہے فرشتوں کو دیکھتا ہے اور ان کا کلام سنتا ہے۔ اسی طرح جنات کو دیکھتا ہے اور ان کا کلام سنتا ہے اور نبیوں اور رسولوں کو عام انسانوں کی بہ نسبت ایک زائد قوت ادراک حاصل ہوتی ہے اور اسی قوت کی وجہ سے وہ عام انسانوں ممتاز ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے جس بندہ کو نبی بنا تا ہے اس کو وہ قوت عطا فرماتا ہے۔ 

اور اہلسنت و جماعت کے علماء ظاہر نے یہ کہا ہے کہ نبوت کا حصول اللہ عزوجل کی عطا ہے وہ جس کو چاہتا ہے یی مرتبہ عطا فرماتا ہے اور یہ عطا اس پر موقوف نہیں ہے کہ کوئی انسان صفاء باطن، پاکیزگی اور تقرب الی اللہ میں دوسرے انسانوں سے ممتاز ہو اور انہوں نے سورة ابراھیم کی اس ایت سے استدلال کیا ہے جس میں انبیاء (علیہم السلام) نے فرمایا : ہم تمہارے طرح بشر ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے احسان فرماتا ہے کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمادیا کہ نبوت کی عطا اللہ تعالیٰ کا محض فضل اور احسان ہے، اور امام رازی، امام غزالی اور دیگر علماء نے اس آیت کا یہ جواب دیا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) نے تو اضع اور انکساری کی وجہ سے اس آیت میں اپنے روحانی اور جسمانی فضائل بیان نہیں فرمائے اور صرف یہ کہنے پر اکتفا کی لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے احسان فرماتا ہے، کیونکہ یہ بات معروف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مرتبہ نبوت کے ساتھ اس لیے مختص کیا ہے کہ وہ ان فضائل کے ساتھ متصف تھے جن کی وجہ سے وہ ان خصوصیات کے مستحق ہوئے جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے : 

اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ (الانعام :124) اللہ اپنی رسالت کے رکھنے کی جگہ کو خوب جانتا ہے۔ 

اس مضمون کی زیادہ تفصیل اور تحقیق کے لئے الانعام : 124، کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ 

کافروں کے دیگر شہبات کے جوابات : 

کافروں کا دوسرا شبہ یہ تھا کہ ان کے اباء و اجداد بہت بت پرستی کرتے تھے اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اتنے کثیرلوگ اب تک غلط کہتے آرہے ہوں اور صرف یہ ایک شخص جو نبوت کا مدعی ہے وہ صحیح اور درست بات کہہ رہا ہو، اس کا جواب بھی سابق تقریر سے ظاہر ہوگیا کہ غلط اور صحیح کا ادراک بھی اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے وہ جس کو چاہتا ہے یہ فہم اور ادراک عطا فرماتا ہے اس لیے مستبد نہیں ہے کہ شروع سے لے کر تمام کافر جو کہتے رہے تھے وہ غلط ہو اور نبی (علیہ السلام) نے جو فرمایا : ہے وہ صحیح ہو۔ 

کافروں کا تیسرا شبہ یہ تھا کہ انبیاء (علیہم السلام) نے اپنی نبوت پر جو دلائل اور معجزات پیش کیے ہیں ہم ان سے مطمئن نہیں ہیں ہمیں مطمئن کرنے کے لیے وہ معجزات پیش کریں جن کا ہم مطالبہ کر رہے ہیں اس کے جواب میں انبیاء (علیہم السلام) نے فرمایا : اور ہمارے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم اللہ کی اجازت کے بغیر تمہارے پاس کوئی دلیل لے آئیں۔ 

اس جواب کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نبی کو معجزہ اس لیے عطا فرماتا ہے کہ دلیل سے اس کی نبوت ثابت ہوجائے، سو اس نے ہر نبی کو ایسے دلائل اور معجزات دے کر بھیجا جیسا کہ اس حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر نبی کی اس قدر معجزات دیئے گئے ہیں جن کی وجہ سے ایک بشر پر ایمان لے آئے اور مجھے وحی (قرآن مجید) عطاکی گئی جو اللہ نے مجھ پر نازل فرمائی پس مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن متبعین نبیوں سے زیادہ ہوں گے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :4981 صحیح مسلم الایمان : 239، (152) 378، مسند احمد ج 2 ص 45، 341، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث :1129) 

سو جتنے معجزات کی ضرورت تھے وہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو عطا فرمادئیے اور اب کفار جن فرماشی معجزات کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ قدر ضروری سے زائد ہیں سو وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی مرضی پر موقوف ہیں وہ چاہے تو وہ معجزات عطا فرمائے۔ 

انبیاء (علیہم السلام) کا کافروں کی دھمکیوں سے نہ ڈرنا : 

جب انبیاء علیم السلام نے کفار کو یہ مسکت جو ابات دئیے تو ہو غیظب میں آگئے جیسا کہ جاہلوں کا طریقہ ہوتا ہے کہ جب وہ سلائل کے جواب سے عاجز آجاتے ہیں تو وہ دھم کیا دینا شروع کردیتے ہیں، سو ان کافروں نے بھی یہی کیا جب ان سے انبیا (علیہم السلام) نے یہ کہا اور مومنوں کو اللہ پر ہی توکل کرنا چاہیے، یعنی ہم تمہاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے کیونکہ ہمارا توکل اللہ پر ہے اور ہمار اعتماد اللہ ل کے فضل پر ہے۔ اور ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی ہو کہ یہ کفار ان کو کوئی ضرر نہیں پہنچاسکتے اور اگر ان کی طرف یہ وحی نہ بھی ہوئی تب بھی ان کی ارواح معرفت الہی سے معمور تھیں، اور ان کے قلوب عالم غیب کے انوار سے روشن تھے اوار جن کی رحانیت اس قدربلند ہو وہ جسمانی ضرر اور تکلیف کی پرواہ نہیں کرتے اور راحت اور رنج ہر حالت میں اللہ کی رضا پر راضی رہتے ہیں اسی وجہ سے انہوں نے اللہ پر توکل کیا اور اس کے فضل پر اعتماد کیا اور اس کے ماسوا سے اپنی خواہشوں کو منقطع کرلیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراهيم آیت نمبر 11