حدیث نمبر195

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کہ میرا ان لوگوں سے بیٹھنا جو فجر کی نماز سے سورج نکلنے تک اﷲ کا ذکر کرتے ہیں مجھے اس سے زیادہ پیارا ہے کہ اولاد اسماعیل کے چار غلام آزاد کروں ۱؎ اور میرا اس قوم کے ساتھ بیٹھنا جو عصر کی نماز سے سورج ڈوبنے تک اﷲکا ذکر کریں مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ چار غلام آزاد کردوں ۲؎(ابوداؤد)

شرح

۱؎ چونکہ اس بیٹھنے میں چار عبادتیں ہیں:اچھوں کی صحبت اﷲ کا ذکر،مسجد کی حاضری اور نماز اشراق کا انتظار،ان میں سے ہر عبادت ایک غلام آزاد کرنے سے افضل اس لیے چار غلاموں کا ذکر فرمایا گیا،نیز اولا د اسماعیل دوسرے لوگوں سے افضل ہے اس لیے ان کے چار غلام آزاد کرنا دوسرے غلام کے آزاد کرنے سے افضل۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز اشراق تک مسجد میں ٹھہرنا اور صالحین کے ساتھ بیٹھنا اور اﷲ کا ذکر کرنا بہت بہتر ہے۔اﷲ کے ذکر میں دعا، تلاوت قرآن،علم دین اور صالحین کا ذکر سب شامل ہے۔(ازمرقاۃ) اکثر لوگ اس وقت تلاوت قرآن کرتے ہیں ان کا ماخذ یہی حدیث ہے۔بعض فقہاء نے سورج طلوع ہوتے وقت تلاوت کو غیر مستحب فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت سجدہ نہیں ہوسکتا اور کبھی تلاوت کے دوران سجدے کی آیت بھی آجاتی ہے۔

۲؎ بعض صوفیاء عصر سے مغرب تک مسجدوں میں مراقبے کرتے ہیں کسی سے کلام نہیں کرتے،ان کی اصل یہ حدیث ہے۔اس سے معلوم ہورہا ہے کہ فجر کے بعد مسجد میں بیٹھنا اس بیٹھنے سے افضل ہے کیونکہ وہاں چار اسمعیلی غلاموں کا ذکر تھا، یہاں مطلقًا چار فرمائے۔خیال رہے کہ احناف کے نزدیک عرب غلام نہیں بنائے جاسکتے لہذا اولاد اسمعیل سے مراد غیر عرب مراد ہوں گے یا یہ حکم فرضًا ہے(ازمرقاۃ)