مرزا علی جہلمی کے شہرہ آفاق جھوٹ (23)

فرض نماز کے بعد دعا ثابت نہیں

جسطرح نیک لوگوں کی خوراک ذکر اللہ ہے اسی طرح مرزا جہلمی کی خوراک جھوٹ ھے۔مرزا جہلمی نے دین اسلام کو اپنی خواہشات کا نام دے دیا ھے جو بات اسکی ناقص عقل کے خلاف ہوتی ھے اسکا انکار کردیتا ھے اور اس سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اسکا ثبوت قرآن و حدیث سے ملتا بھی ھے یا نہیں۔

اپنے ایک بیان میں اپنی جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوے کہتا ھے کہ فرض نماز کے بعد دعا ثابت نہیں۔

جبکہ فرض نماز کے بعد دعا کے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں کثیر فضائل بیان کیے گئے۔

[حدیث نمبر1]

– حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الثَّقَفِيُّ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللهِ: أَيُّ الدُّعَاءِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: جَوْفَ اللَّيْلِ الآخِرِ، وَدُبُرَ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ

هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

[جامع ترمذي*,5جلد/صفحہ404حدیث نمبر3499۔اسنادجید]

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث مبارک روایت کرتے ہیں کہ

عرض کیا گیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم” کس وقت کی دعا زیادہ مقبول ہوتی ہے؟ جواب میں آپ نے ارشاد فرمایا: رات کے آخری حصّہ کی دعا اور فرض نمازوں کے بعد کی دعا۔

ثابت ھوا اھلسنة والجماعة دوستواس حدیث سےواضع ثابت ھےکہ فرض نمازکےبعد دعا کرنا اللہ کےنبی ﷺنےحکم دیاھے۔اسلۓ ھم اھلسنة والجماعة نمازکےبعددعاکرتےھیں۔ جونبی ﷺ کےفرمان کےمطابق ھے۔جو اسےبدعت کھتاھےوہ سنت کاکامخالف ھےحدیث کامنکرھے

[حدیث نمبر2]

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ وَقَالَ : ” يَا مُعَاذُ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ “. فَقَالَ : ” أُوصِيكَ يَا مُعَاذُ، لَا تَدَعَنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ تَقُولُ : اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ “. وَأَوْصَى بِذَلِكَ مُعَاذٌ الصُّنَابِحِيَّ، وَأَوْصَى بِهِ الصُّنَابِحِيُّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ.

[سنن ابی داود* جلد2 صفحة:122ح1522وحدیث صحيح ]

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتےھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے معاذ! قسم اللہ کی، میں تم سے محبت کرتا ہوں، قسم اللہ کی میں تم سے محبت کرتا ہوں ،

پھر فرمایا: اے معاذ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں:

ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا: «اللهم أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك»

[حدیث نمبر3]

حدثنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ حِينَ يُسَلِّمُ : ” اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا “.

[سنن ابن ماجہ* جلد2 صفحة:183حدیث925.وحدیث صحيح]

حضرت ام سلمہ فرماتی ھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر میں سلام پھیرتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أسألك علما نافعا ورزقا طيبا وعملا متقبلا»

[حدیث نمبر4]

– ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﺳُﻠَﻴْﻤَﺎﻥُ ﺑْﻦُ اﻟْﺤَﺴَﻦِ اﻟْﻌَﻄَّﺎﺭُ، ﻗَﺎﻝَ: ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﺃَﺑُﻮ ﻛَﺎﻣِﻞٍ اﻟﺠﺤﺪﺭﻱ، ﻗَﺎﻝَ: ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ اﻟْﻔُﻀَﻴْﻞُ ﺑْﻦُ ﺳُﻠَﻴْﻤَﺎﻥَ، ﻗَﺎﻝَ: ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﻣُﺤَﻤَّﺪُ ﺑْﻦُ ﺃَﺑِﻲ ﻳَﺤْﻴَﻰ، ﻗَﺎﻝَ: ﺭَﺃَﻳْﺖُ ﻋَﺒْﺪَ اﻟﻠﻪِ ﺑْﻦَ اﻟﺰُّﺑَﻴْﺮِ ﻭَﺭَﺃَﻯ ﺭَﺟُﻼً ﺭَاﻓِﻌًﺎ ﻳَﺪَﻳْﻪِ ﺑِﺪَﻋَﻮَاﺕٍ ﻗَﺒْﻞَ ﺃَﻥْ ﻳَﻔْﺮُﻍَ ﻣِﻦْ ﺻَﻼَﺗِﻪِ، ﻓَﻠَﻤَّﺎ ﻓَﺮَﻍَ ﻣِﻨْﻬَﺎ، ﻗَﺎﻝَ: «ﺇِﻥَّ ﺭَﺳُﻮﻝَ اﻟﻠﻪِ ﺻَﻠَّﻰ اﻟﻠﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻟَﻢْ ﻳَﻜُﻦْ ﻳَﺮْﻓَﻊْ ﻳَﺪَﻳْﻪِ ﺣَﺘَّﻰ ﻳَﻔْﺮُﻍَ ﻣِﻦْ ﺻَﻼَﺗِﻪِ»

[اﻟﻤﻌﺠﻢ اﻟﻜﺒﻴﺮ* ﻟﻠﻄﺒﺮاﻧﻲ-جلد13ﺻﻔﺤﺔ -129_رجال کلھم ثقاة]

امام محمد بن ابی یحییٰ فرماتے ہیں : میں نے عبداللہ بن زبیر کو دیکھا اور ایک آدمی دیکھا جو نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہاتھ آٹھائے ہوئے تھے اور دعا کر رہا تھا چنانچہ جب وہ نماز سے فارغ ہوگیا تو اسے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: یقینانبی ﷺ ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے یہاں تک کہ نماز سے جب فارغ ہو جاتے

_______________________________________

یعنی نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے تھے

حضرت عبداللہ بن زبیر فرماتے ہیں نبی پاک نماز کے اندر تو ہاتھ نہ اٹھاتے لیکن یہاں تک کہ جب وہ نماز سے فارغ ہو جاتے

اسکا مطلب نبی پاک کا معمول تو یہ ثابت ہو رہا ہے بعد از نماز دعا کرنا ہاتھ اٹھا کر

سنی دوستوثابت ھوانبی ﷺنمازکےاندرھاتھ اٹھاکردعانھیں کرتےتھےھاں مگرجب نمازسےفارغ ھوجاتےتوپھرھاتھ اٹھاکردعاکرتےتھے۔

اگرچہ اس موضوع پر کثیر احادیث موجود ہیں لیکن حق چار یار کی نسبت سے چار پر ہی اکتفا کرتے ہیں

ان تمام حوالہ جات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ مرزا جہلمی کا دعویٰ جھوٹا ھے اور اس صدی کا کذاب اعظم لا علمی خرابی ھے ۔

احمدرضارضوی

MirzaDuaAfterFarz