مرزا علی پلمبر کے شہرہ آفاق جھوٹ (24)

ِبچے بچے کو پتا ہے لیکن حضرت علی نے غلطی کی معاذاللہ

حضرت علیؓ وہ وہ باکمال ہستی ہیں جوکہ آغوش رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں پروان چڑھی ۔جنکا معلم، مؤدب کوئی اور نہیں بلکہ تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود ہیں ۔یہاں تک کے حضرت علی جب عالم شباب میں پہنچے تو اپنی پھول جیسی بیٹے کو انکے عقد میں دیکر انکو ہمیشہ کیلئے اپنی اہل بیت میں شامل کرلیا۔

گویا حضرت علیؓ کا اول تا آخر بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں گزرا

لیکن افسوس کی بات یہ ھے کہ مرزا جہلمی کے مطابق آج چودہ سو سال کے بعد بچے بچے کو جو بات پتا تھی وہ حضرت علی کو پتا نہیں تھی۔

مرزا جہلمی کہتا ھے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت علیؓ کو اپنا نام مٹانے کا حکم دیا تو حضرت علیؓ نے انکار کرکے غلطی کی۔

ذات کے پلمبر تیری اوقات کیا ھے کہ تو سرٹیفکیٹ جاری کرے کے فلاں صحابی نے غلط کیا فلاں نے صحیح

جس شخص کی ساری زندگی آغوش رسول میں گزری کیا اسکو یہ نہیں علم تھا کہ الحکم فوق الادب

صرف حضرت علی ہی نہیں اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیقؓ کو یہ حکم دیتے تو وہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو نا مٹاتے

کیونکہ صحابہؓ کی زندگی کا اولین مقصد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا پرچار کرنا تھا ناکہ مٹانا

لہذا کسی بھی ذات کے موچی کو ہم یہ اجازت نہیں دیں گے کہ صحابہؓ کی شان میں تنقیص کرے۔

احمدرضارضوی

MirzaOnHazratAli