مرضی مرضی مرضی ؟

🌹وَمَن يُرِدِ اللَّهُ فِتْنَتَهُ فَلَن تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ۚ

( سورة المائدة 41)

🌷اور اللہ جس کے فتنہ ( معنی آگے بیان ہوگا ) کا ارادہ کر لے تو اللہ سے ، اب اس کے ( بچاؤ ) کے لیئے ذرہ سی بھی کسی شی کے آپ ہرگز مالک نہیں ۔

🔎توجہ ہو کہ اللہ تبارک و تعالی نے یہاں کثیر المعانی لفظ “فِتْنَة” فرمایا ہے ، جو فضیحت ، آزمائش، ابتلاء ، عذاب ، گمراہی ، بے ہدایتی، کفر اور ہلاکت سبھی کو متضمن ہے ۔ یعنی ان میں سے کوئی بھی صورت عذاب ہو سکتی ہے ۔

☀️ آیت مقدسہ کے شان نزول اور الفاظ ۞ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنكَ۞ سے پتہ چل رہا ہے اور حضرات مفسرین نے بھی لکھا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی کو اتنا بھی پسند نہیں کہ اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر مسلموں کے رد عمل سے دلی رنج ہو ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی ، اطمینان اور فرحت و انبساط کے لیئے یہ آیت نازل فرمائی ۔

۞ لَا يَحْزُنكَ سے صراحتا فرما دیا کہ یہ کفر و ضلالت کی طرف لپکتے ہیں تو آپ کیوں پریشان خاطر ہوتے ہیں ۔ دوڑتے پھریں ہر برائی و گمراہی کی طرف ۔ ” کھان خصماں نوں “

۞ فَلَن تَمْلِكَ میں دو وضاحتیں فرما دیں

( 1) آپ ان کی اس بد حالت کے مالک ہی نہیں ۔ جب ان کی اصلاح آپ کی ذمہ داری ہی نہیں تو حزن و ملال کاہے کو ؟

(2) جب حبیب اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نوع کے فتنہ سے بچانے والے نہیں تو کسی اور داعی کی مساعی چہ معنی دارد ؟

💚 لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بر بنائے رحمة للعالميني دلگیر بھی ہوتے اور مساعی بھی فرماتے ۔

آپ صلى الله تبارك وتعالى عليه وعلى آله وصحبه و بارك و سلم تشریف فرما ہوتے ۔ کسی یہودی کا جنازہ سامنے سے گذرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دلگیر ہو جاتے کہ ایک اور بندہ میری رحمت و ہدایت سے محروم رہ کر جہنم کا ایندھن بن گیا ہے لیکن اللہ تبارک و تعالی نے اپنی مشیت و قدرت سے سارے نظام کو جاری رکھنا ہے ۔ آخرت اس کی ہے تو دنیا بھی اس کی ، جنت اس کی ہے تو جہنم بھی اسی کی ، انسان اسی کے ہیں تو دیگر مخلوقات بھی اسی کی ، روشنی اسی کی ہے تو اندھیرا بھی اسی کا ، ہدایت اسی کی ہے تو ضلالت بھی اسی کی ، وہ رحمان و رحیم و غفور و محسن ہے تو مقتدر و عزیز و منتقم بھی ہے ۔ زندگی اس نے دی ہوئی ہے تو موت بھی اسی کی ہے اور یہ سب اسی کی قدرت کے نوامیس کے تحت ہی منظم ہیں ۔

اور کسی بھی نظام کو قائم رکھنے میں مستثنیات بہت قلیل اور شاذ ہی درست اور گوارا ہو سکتی ہیں تو “فَلَن تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ” فرما کر عام انسانوں کو بتا و جتلا دیا کہ کچھ امور میں میرے رسول کی مرضی نہیں چل سکتی تو تمہاری مرضی کی کیا اوقات ہے ؟

✅ ورثاء میں مورث کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہوتا ہے ۔ سو خلاف دین و ملت و حمیت جب بھی کوئی فتنہ سر اٹھاتا ہے تو ورثاء کی رگ غیرت ضرور پھڑک اٹھتی ہے ۔

موجودہ وباء “کرونا ” کا فتنہ نمودار ہوا ۔

(اس میں کم از کم کسی پاکستانی کا کوئی عمل دخل نہ ہونے کی وجہ سے فقیر اسے فتنہ اور ابتلاء لکھ رہا ہے )

تو دلوں کو حزن و ملال دینے والے تمام احوال کے باوجود اپنی تعلیم و تربیت کی روشنی میں اپنے منصبی فرائض کو ادا کر رہے ہیں ۔ اس فتنہ اور عذاب میں اللہ تبارک و تعالی کی طرف رجوع اور اپنے احوال کی اصلاح کی دہائیاں دے رہے ہیں ۔

لیکن اس عذاب

کو بھی کچھ طبقات نے جس انداز میں اختیار کیا ہوا ہے ۔

پناہ بخدا ان پر نہ یہ وباء خود اور نہ ہی کوئی اور خیر خواہی اور فہمائش کچھ اصلاحی اثر چھوڑ رہی ہے ۔ بلکہ ایسا لگتا ہے کہ وہ شعوری یا لاشعوری طور پر باغیانہ اقدامات کر رہے ہیں ۔

اور مزید ستم بالائے ستم یہ کہ قادیانی جو کہ مذہب و ملک دونوں کے لیئے ناسور اور فتنہ ہیں جو خود کو مسلم اور دوسروں کو غیر مسلم کہتے ہیں ۔ پاکستان کے آئین کو مانتے ہی نہیں ۔ ان کو آئینی حیثیت دینے کا شوشہ چھوڑ کر ختم نبوت کے پروانوں کا جذبہ جانچنے کی بد تدبیر کی گئی ہے ۔

🌹أُولَٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ

( سورة البقرة 16 )